جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس کراچی میں طے تھا لیکن بلوچستان کے لوگ بدامنی اور غیر محفوظ راستوں کی وجہ سے کراچی نہیں پہنچ سکتے تھے،یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بدامنی کی وجہ سے ہم نے اپنا اجلاس ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں منتقل کیا ہے،اس سے ملک کے داخلی امن و امان کی صورتحال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ دو صوبوں میں عملا کوئی حکومتی نظام نہیں ہے،عوام پر دہشتگرد گروہ مسلط ہیں،سندھ بھی ڈاکو راج اور اسٹریٹ کرائم کی لپیٹ میں ہے، بلوچستان میں دن دہاڑے بینک لوٹے جارہے ہیں اور بیچ سڑک پر وہ پیسے تقسیم کئے جارہے ہیں،کوئی نظام نہیں ہے کہ اپنے ملک کے شہریوں اور بینکوں کو تحفظ فراہم کر سکے۔
ہمارے صوبے میں وزراء کی گاڑیوں پر فائرنگ کر کے ان کو روکا جاتا ہے،اٹھایا جاتا ہے۔
ہمارے ایک سینیٹر شکور خان جو سینیٹ میں پریولیج کمیٹی کے چئیرمین بھی ہیں کو ائیر پورٹ پر روک دیا گیا،چین میں ایک طے شدہ پروگرام کے لئے سفر کرنے سے روک دیا گیا۔
اس تمام صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کہیں پر بھی موجود نہیں ہے،طاقتور ادارے حکومت کر رہے ہیں،جہاں جس کے ساتھ جو رویہ اختیار کریں،وہ کسی آئین،قانون اور اخلاق کے پابند نہیں ہیں۔
تو آپ کے بلند وبانگ دعوؤں کا نتیجہ کہاں ہے؟ ثابت ہوا کہ مسلط کردہ ہائیبرڈ نظام ناکام ۔
لہذا وقت آگیا ہے۔ ناکامی کو تسلیم کیا جائے۔ملکی سسٹم کو جمہور ، آئین ، قانون ، اور خود مختار پارلیمنٹ کے حوالے کیا جائے۔
صاحبِ عقل لوگوں کو بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کے پشین جلسے سے لے کر قصور جلسے کی تقریر تک بلیک آؤٹ کیا، لیکن جمعیت کی سوشل میڈیا ٹیم نے مولانا صاحب کی 10 سال قبل کی گئی تقریر بھی گھر گھر تک پہنچا دی ہیں ۔
جمعیت ڈیجیٹل میڈیا ٹیم کو دونوں ہاتھوں سے سلام
مرکزی کوآرڈینیٹر جناب انجنیئر ضیاءُ الرحمٰن صاحب
@ziaurrehman76
#فخر_ملت_مولانا
#سرکاری_چمچے_فلاپ
#بارڈر_یا_بیرکس
#معدنیات_فروش_ٹولہ
#مہنگائی_کا_جواب_دو
ملا دوپیازہ، تو پھر بھی بادشاہ کو ہنسانے کا ہنر سمجھتے تھے،آپ تو جب بانسری بجاتے ہیں،سر ہی بدل دیتے ہیں۔لیکن عوام باشعور ہے کہ وہ بانسری کی دھن سنتے ہی سمجھتے ہیں، کہ دربار سے کیا،حکم، جاری ہوا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کے بیان سے لاتعلقی کا اعلان(متحدہ مدارس کونسل)آج پتہ چلا کہ ایک،متحدہ مدارس کونسل)بھی ہے،خیر،ان کی لاتعلقی سےہماری جدوجہد پر اتنا اثر پڑا جتنا بارش میں مچھلی کے بھیگنے پر پڑتا ہے۔
کیا کرنا چاہتے ہو؟ شہیدوں کے نام پر سیاسی مفادات کے لیے اپنی مہم جوئی کے لیے اپنے شہداء کا سہارا لیتے ہو؟ تم شہداء کی توہین کے مرتکب ہو۔
تمہیں اپنے شہداء سے بھی معافی مانگنی ہوگی، تمہیں میرے شہداء سے بھی معافی مانگنی ہوگی۔
عوام مر رہے ہیں، یہ کس پدارتھ سے مر رہے ہیں؟
آئے روز کبھی کسی گاؤں میں، کبھی کسی گاؤں میں، کبھی کہاں پر، کبھی کہاں پر، کبھی سڑکوں میں، کبھی گلیوں میں، کبھی سہاراؤں میں، کبھی میدانوں میں گولیاں چل رہی ہیں اور عوام مر رہے ہیں۔ ان عوام کی کوئی بات ہے؟ ان کی کوئی قدر و قیمت ہے؟ ان کے خون کی کوئی قدر و قیمت نہیں؟
اس لیے کہ وہ ان قربانیوں کا کوئی طحانہ نہیں لے رہے ہیں۔
اگر شہید کی شہادت اور قربانی کو ایک محاوراتی جملے کے ساتھ... یہ عام محاورہ ہے... تم جوڑ کر اس کو شہداء کی توہین سمجھتے ہو، تو پھر دفاع مقدّس ہے، دفاع مقدّس ہے۔ پھر ہمارے بجٹ سے دفاعی بجٹ کا نام تو نکال لو، کیونکہ دفاع جیسی مقدّس چیز کو بجٹ کی طرف منسوب کرنا، یہ تو قوت دفاع کی توہین ہو جائے گی۔
اس کا نام رکھ لو "مقدّس بجٹ"۔
تو اس قسم کی بچّوں والی باتیں کرنا اور پتہ نہیں کن کن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلروائے۔
جب بولتے تھے تو لگتا تھا چہرہ بھی اس کا مصنوعی بنا ہوا ہے، زبان بھی اس کی مصنوعی ہے، ضمیر اور زبان کے درمیان مطابقت نہیں ہے، اور اس طرح کا پروپیگنڈا کر کے آپ ایک سنجیدہ سیاست کو ملک میں ذلیل کر رہے ہیں۔
ہم نے ہمیشہ سنجیدہ سیاست کی ہے، ہم نے ملک کے لیے بہت کچھ کیا ہے، ہم نے اس ملک کو مشکلات سے نکالا ہے، ہم نے اس ملک کے نوجوان جو بندوق کی طرف جا رہے تھے، ان کو روکا ہے، مدارس کو روکا ہے، مساجد کو روکا ہے، جوانوں کو روکا ہے، اور میں 26 سال سے اس محنت میں ہوں کہ میرا نوجوان وہ مثبت کردار کی طرف جائے۔
آپ نے ان کے سامنے میری کیا حیثیت کر دی؟
کل جب میں انہیں کہوں گا کہ آپ لوگ ایسا نہ کریں، ایسا نہ کریں، ایسا نہ کریں، ایسا نہ کریں، اور وہ مجھے کہیں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا؟
تو میں برداشت تو کر لیتا ہوں، چلو میں نے برداشت کر لیا، لیکن اگر آپ شہداء کا سہارا لے کر یہ توقع رکھتے ہیں مجھ سے کہ میں اپنا موقف تبدیل کر لوں گا، جب تک تم سیدھے نہیں ہوگے، میرا موقف تبدیل نہیں ہو سکتا۔ #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن