پاکستان میں اشرف چوہدری کے نام سے شاید ہی کوی بندہ ہو جو نہ جانتا ہو ۔پاکستان میں سب سے منافع بخش کاروبار ڈر کا کاروبار ہے کسی کے دل میں ایسا ڈر پیدا کر دو اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم مر جاو گے پھر تم بیٹھ کر پیسے گنتے رہو ۔
اس وقت یہ کام اشرف چوہدری صاحب کر رہے ہیں جنہوں نے شوگر کے مریضوں کو کے دل میں یہ یقین بٹھا دیا ہے کہ تمھاری شوگر ریورس صرف میرے نوے دن کے کورس جوائن کر کے ہی ختم ہو گی ۔
پہلے یہ میڈیکل سیلز ٹیم کا Trainer تھا ۔ پھر اس کے ہاتھ ایسا نسخہ ہاتھ لگ گیا اس کو فاتح زیابیطیس کہا جانے لگا ۔۔
جنکو شوگر ہے وہ لوگ اس سے رابطہ کرتے ہیں اور اسکا مشہور زمانہ کورس نوے دن جوائن کرتے ہیں اور یہ انکی شوگر ریورس کر دیتا ہے اور ائن لائن فیس اس کے گروپ کی تیس سے چالیس ہزار ہے ۔
اگر کوی ون ٹو ون کلاس لے گا تو اس کی فیس لاکھوں میں ہے ۔۔
پتہ نہی کتنے پیڈ گروپس بنے ہوے ہیں ہزاروں کی تعداد میں شوگر کے مریض روزانہ اس کو جوائن کر رہے ہیں ۔۔
اب اس کا فارمولا کیا ہے یہ اپ کو کہے گا کہ روٹی چاول میٹھا چھوڑ دو ۔
اب اگر انسان میں تھوڑی سی عقل ہو وہ سمجھ سکتا ہے جب ایسی چیزیں جن سے شوگر بڑھتا ہے وہ چھوڑ دیں گے تو شوگر ختم ہو جاے گا اور جب کھانا شروع کریں گے تو شوگر واپس ا جاے گا ۔۔
اس میں شوگر ریورس تو ہوا مگر اس کیلے اپ کو پورا ابنارمل شخص بننا پڑے گا ۔ ہر کھانے میں اپکو کیلوریز کاونٹ کرنی پڑیں گی ۔
یہ اپکو ڈائیٹ پلان بنا کر دے گا جو کہ اپ اے ای سے بھی بنوا سکتے ہیں ۔۔ ڈاکٹر عفان کی طرح ائل گھی سے بھی منع کرے گا ۔۔
ستر فیصد اپکی خوارک میں سلاد ہو ۔۔ کرنا سب کچھ اپ نے ہے ۔۔
یہ وہ باتیں بتائیں گی جو اپ کو شوگر کے ڈاکٹر پہلے بتا چکے ہوتے ہیں یا کسی بھی اے ای سے بولیں گے وہ بھی یہ سب اپکو وہی بتا دے گا جو اشرف چوہدری صاحب بتاتے ہیں ۔۔
یہ شخص مارکیٹنگ سکلز جانتا ہے اسے معلوم ہے انسانی نفسیات سے کیسے کھیلتے ہیں یہ اپکو نوے دن کا چیلنج دیتا ہے جب اپکے سامنے روز کا گول ہو تو اپ اپنی ڈائیٹ کا خیال رکھتے ہیں ۔
ڈائیٹ پر توجہ دینے سے جب شوگر لیول کم دیکھتے ہیں تو اپکو موٹویشن ملتی ہے ۔ اس لیے اس کے مریض شوگر بھی ریورس کر لیتے ہیں اور اپنے حلقہ احباب میں اس کا کورس بھی ریکمنڈ کرتے ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں شوگر کے مریضوں کو سنبھالنے کا بنیادی اصول کیا ہے امریکن ڈائبیٹیز ایسوسی ایشن جیسے معتبر ادارے بھی یہی کہتے ہیں کہ سرخ گوشت میٹھے مشروبات مٹھائیاں اور ریفائنڈ اناج کم کرو اور کاربوہائیڈریٹ پر کنٹرول رکھو یعنی جو بات اشرف چودھری اسے نئے فلسفے کے طور پر بیچ رہے ہیں ۔
فرق صرف یہ ہے کہ باہر کے معتبر ادارے ہر مریض کی عمر وزن اور دوسری بیماریوں کو دیکھ کر انفرادی منصوبہ بناتے ہیں ڈاکٹر کی نگرانی میں آہستہ آہستہ دوائی کم کرتے ہیں اور مریض کو یہ نہیں کہتے کہ زندگی بھر گندم چاول مکمل چھوڑ دو بلکہ توازن سکھاتے ہیں جبکہ یہاں ایک سادہ سی غذائی پابندی کو ایک انوکھا برانڈ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور اس سادہ سی بات کے لیے تیس سے چالیس ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔
جب ایک عام انسان مہینوں تک کاربوہائیڈریٹ ختم کر دے گا تو شوگر ریڈنگ کا نیچے آنا کوئی معجزہ نہیں بلکہ سادہ سی غذائی پابندی کا نتیجہ ہے یہ کوئی نئی میڈیکل دریافت نہیں ۔
اور یہی علم ہر ہسپتال کا ڈائٹیشن مفت میں دے دیتا ہے اس کے لیے اتنی بڑی رقم کیوں وصول کی جا رہی ہے اور عمر بھر کے لیے گندم چاول سے مکمل پرہیز کا مشورہ دینا کس سائنسی بنیاد پر درست ہے۔
How donation after cardiac death works at UCSF, per neurosurgeon @DrDiGiorgio : ventilator is withdrawn, then a 90-min window. No death by then = transfer back to hospital bed, no donation. If the heart stops, death is confirmed by pulse, stethoscope & telemetry—then reconfirmed in the OR before any incision. Two checks.
I have a few FB friends who love to post that "vaccines kill." I have a standard reply which begins by agreeing with them. Any medical intervention can be deadly, of course. This is not news. But the risk of harm from a vaccine is infintesmially small. And the risk of harm from diseases that vaccines prevent is much higher in the majority of cases.
Cheers, chills, and a standing ovation when RASolute 302 showed unprecedented survival on daraxonrasib for patients with progressive pancreatic cancer
Seldom do you sense you’re witnessing a historic moment in cancer care but this feels like ras targeting has arrived
#ASCO26
RITUXIMAB WILL REPLACE CYCLOPHOSPHAMIDE FOR GLOMERULONEPHRITIS
*Relapse-free rate at week 49 was 87.4%
in rituximab group
*38.0% in placebo group
THAT IS A FIFTY PERCENT ABSOLUTE RISK REDUCTION
Rituximab for relapsing glomerulonephritis
This is the silent part that people wouldn't know.
Behind closed doors inside a medical conference, a large group of clinicians and researchers giving a standing ovation to another group of clinicians and researchers who found a way to increase survival in patients suffering from one of the, if not the, worst cancer in humans.
Metastatic pancreatic cancer.
They'll do this and then be on their way to see their patients the next day as if nothing happened.
And then work on something new to better what they did in this room.
That is how medical science works.
Value it and value its practitioners.
Mezagitamab
*anti-CD38 monoclonal antibody
*treating autoimmune disorders
*91% receiving mezagitamab achieved platelet response by week 16 compared to 23% in placebo group
IgA nephropathy
*54.1% reduction in proteinuria
Infant surgeries were routinely performed with minimal or no anesthesia because anesthetists wrongly believed infants felt no pain due to their immature nervous systems, dismissing their responses as mere reflexes. This barbaric practice persisted until 1987, when Dr. Kanwaljeet J.S. Anand and Dr. P.R. Hickey published their groundbreaking research in the NEJM, demolishing those outdated myths.
In 1985, Dr. K.J.S. Anand had reviewed preterm neonatal surgeries and the results were shocking. He found that 76% used only muscle relaxants. This left infants awake, aware, and paralyzed during painful procedures.
In 1987, the article “Pain and Its Effects in the Human Neonate and Fetus” appeared in the New England Journal of Medicine. It combined clear evidence on pain perception in fetuses and newborns. This work changed medical practice. It led to global reforms in pediatric anesthesia that required proper pain relief for infant surgeries. The paper has been cited more than 2,700 times.