سندھ کے میدان سے للکار!
سندھ کے اندر میرے اکابر، میرے بزرگوں نے اس جماعت کی جو آبیاری کی، آج یہ جماعت ان شہداء، اکابر اور اسلاف کے خون سے ایک تناور درخت بن چکی ہے!
جمعیت علماء اسلام سندھ کی ایک ناگزیر قوت اور طاقت بن چکی ہے۔
ہے کوئی طاقتور سے طاقتور؟
ہے کوئی بڑے سے بڑا حکمران؟
ہے کوئی بڑے سے بڑے منصب پر بیٹھنے والا؟
اقتدار بھی آپ کا، کرسیاں بھی آپ کی، نواب، خوانین اور سردار بھی آپ کے، وسائل بھی آپ کے... آئیں! سندھ کو ایک طرف رکھیں اور اپنی قوت کا مظاہرہ کریں۔
دوسری طرف قائدِ جمعیت، امامِ انقلاب حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ایک آنکھ اور انگلی کے اشارے پر ہم سندھ کو بلاتے ہیں!
تاریخ وہ رکھیں، مقام وہ رکھیں...
فیصلہ سندھ کے عوام کریں گے!
سندھ کے عوام نے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو مسترد کیا ہے، برسوں سے سندھ پر حکمرانی کرنے والوں کو مسترد کیا ہے۔
آج سندھ کے عوام کی آواز جمعیت علماء اسلام ہے!
یہ صرف دیوبندیوں کا اجتماع نہیں، یہ صرف مسجد کے اماموں اور مؤذنوں کا اجتماع نہیں۔ یہاں دیوبندی بھی موجود ہیں، بریلوی بھی، اہلِ تشیع بھی، اور ہندو کمیونٹی کے نمائندے بھی موجود ہیں۔
سندھ ثابت کر چکا ہے کہ سندھ حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند، مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ساتھ کھڑا ہے!
سازشیں کرنے والوں کو کہہ دینا چاہتا ہوں، مولانا صاحب کے خلاف منصوبے بنانے والوں کو کہہ دینا چاہتا ہوں:
جہاں کھڑے ہو، وہیں رک جاؤ!
میرے قائد کی طرف تمہاری انگلی بڑھے گی تو جمعیت کے ابابیل اور پاکستان کے عوام جواب دیں گے!
کسی مائی کے لال کو مولانا فضل الرحمٰن اور جمعیت علماء اسلام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، ان شاء اللہ!
اور جو بیٹھ کر محبِ وطن اور غدارِ وطن کے لائسنس بانٹ رہے ہیں، سن لیں!
ہم تم سے بڑے محبِ وطن ہیں!
آج اگر مولوی آئین کے ساتھ کھڑا ہے، پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑا ہے، ووٹ کی پرچی کے ساتھ کھڑا ہے، اگر لاکھوں لوگ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت اور آئین کی جنگ لڑ رہے ہیں تو یہ قائدِ جمعیت، امامِ انقلاب مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا پڑھایا ہوا درس ہے!
ہم اس ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں گے، کسی کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن پاکستان کے اندر بیٹھ کر ملک کے مفادات، وسائل، جزائر، معدنیات، قوم اور قوم کے اثاثوں کے ساتھ مذاق کرنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جس نے ختمِ نبوت ﷺ کے قانون کے تحفظ کے لیے کردار ادا کیا!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جس نے کراچی کے طارق روڈ کی مدینہ مسجد کا دفاع کیا!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جس نے سکھر کی مساجد کا تحفظ کیا!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جس نے سیلاب اور کورونا میں بلا تفریق انسانیت کی خدمت کی اور سندھ کے عوام کی مدد کی!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جو ڈاکو کلچر کے خلاف امن مارچ کر چکی ہے!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جو قبائلی لڑائیوں اور تصادم کے خاتمے کے لیے امن جرگے کر چکی ہے!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جو معصوم بچوں کے خون، چادر اور چار دیواری کے تقدس کے لیے میدان میں ہے!
یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جو نوجوانوں کے میرٹ پر روزگار کے لیے جنگ لڑ رہی ہے!
اور یہ جمعیت علماء اسلام ہے!
جو داڑھی، پگڑی، مسجد اور مدرسے کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے!
سندھ جاگ چکا ہے... سندھ فیصلہ کر چکا ہے... اور سندھ اپنے قائد مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ساتھ کھڑا ہے!
سیاسی میدان وسیع ہے اور جمہوری سیاست ہر شہری کا حق ہے۔ مذہبی فکر رکھنے والوں کو سیاست سے باہر کرنے کی کوشش دراصل معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی سیاسی آواز کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔
جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب
#مولانا_کا_پاکستان
#علماء_وطن_کے_معمار
#دھرتی_کی_بنیاد_کلمہ
آزادی کا مطلب صرف غیر ملکی حکمران کا چلے جانا نہیں؛ آزادی کا حقیقی تقاضا یہ بھی ہے کہ قوم اپنے فیصلے خود کرے، اپنی معیشت مضبوط کرے، اپنے آئینی اصولوں کی پاسداری کرے اور اپنے نظریاتی تشخص کی حفاظت کرے۔
جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب
#مولانا_کا_پاکستان
#علماء_وطن_کے_معمار
#دھرتی_کی_بنیاد_کلمہ
بونیر: امیر جےیوآئی خیبرپختونخوا سینیٹر مولانا عطاءالرحمٰن صاحب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور جوہر علی خان ایڈوکیٹ کی والدہ محترمہ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت اور فاتحہ خوانی کےلیے انکی رہائش گاہ آمد،
#JUIDigitalMediaKP#TeamJUIKP