ایک عورت اپنے شوہر کے تنگ
حالات کی بنا پر ایک خوشحال آدمی کے گھر گئی
اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک خادم باہر آیا اور اس سے پوچھا:
"تم کیا چاہتی ہو؟"
عورت نے کہا: "میں تمہارے مالک سے ملنا چاہتی ہوں۔"
خادم نے پوچھا: "تم کون ہو؟"
عورت نے کہا: "اسے بتاؤ کہ میں اس کی بہن ہوں۔"
خادم جانتا تھا کہ اس کے مالک کی کوئی
بہن نہیں ہے، تو وہ اندر گیا اور اپنے مالک سے کہا:
"دروازے پر ایک عورت ہے
جو دعویٰ کرتی ہے کہ وہ آپ کی بہن ہے۔"
مالک نے کہا: "اسے اندر لے آؤ۔"
عورت اندر آئی، مالک نے اسے خوش دلی سے استقبال کیا اور پوچھا: "تم میرے کس بھائی کی بہن ہو؟ اللہ تم پر رحم کرے۔"
عورت نے کہا: "میں آدم کی بیٹی ہوں۔"
خوشحال آدمی نے اپنے دل میں سوچا: "یہ عورت واقعی بے یارو مددگار ہے، میں پہلا شخص ہوں گا جو اس کی مدد کرے گا۔"
عورت نے کہا: "اے میرے بھائی، شاید آپ جیسے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ غربت کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ اسی غربت کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ کیا آپ کے پاس کچھ ہے جو آپ قیامت کے دن کے لیے دے سکیں؟ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"
خوشحال آدمی نے کہا: "دوبارہ کہو۔"
عورت نے کہا: "اے میرے بھائی، شاید آپ جیسے لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ غربت کا ذائقہ کتنا کڑوا ہوتا ہے۔ اسی غربت کی وجہ سے میں اپنے شوہر کے ساتھ طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں۔ کیا آپ کے پاس کچھ ہے جو آپ قیامت کے دن کے لیے دے سکیں؟ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"
خوشحال آدمی نے کہا: "دوبارہ کہو۔"
عورت نے تیسری بار کہا، پھر خوشحال آدمی نے چوتھی بار کہا: "دوبارہ کہو۔"
عورت نے کہا: "مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے مجھے سمجھا ہے، اور دوبارہ کہنا میرے لیے ذلت ہے۔ میں نے کبھی اپنے آپ کو اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے ذلیل نہیں کیا۔"
خوشحال آدمی نے کہا: "اللہ کی قسم، مجھے تمہاری بات کی خوبصورتی پسند آئی۔ اگر تم ہزار بار بھی دہراتی تو میں ہر بار کے بدلے تمہیں ہزار درہم دیتا۔"
پھر اس نے اپنے خادموں سے کہا: "اسے دس اونٹ، دس اونٹنیاں، جتنی چاہے بھیڑیں، اور جتنا چاہے مال و دولت دے دو تاکہ ہم قیامت کے دن کے لیے کچھ کام کریں۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جائے گا، لیکن جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔"
غریبوں کو مت بھولو، کیونکہ اللہ غنی ہے اور ہم فقیر ہیں
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں
خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلی
کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں
بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
کھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تری آنکھیں
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں
میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں
شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں
یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
محسن نقوی
جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے
اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہوگی
نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے
پتھرو آج مرے سر پہ برستے کیوں ہو
میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے
اب مری دید کی دنیا بھی تماشائی ہے
تو نے کیا مجھ کو محبت میں بنا رکھا ہے
پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کر ناصرؔ
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزا رکھا ہے
حکیم ناصر
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تک
شریک گریۂ شبنم نہ ہوں گے
ذرا دیر آشنا چشم کرم ہے
ستم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے
دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے
زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم
یہ غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہوں گے
کہوں بے درد کیوں اہل جہاں کو
وہ میرے حال سے محرم نہ ہوں گے
ہمارے دل میں سیل گریہ ہو گا
اگر با دیدۂ پر نم نہ ہوں گے
اگر تو اتفاقاً مل بھی جائے
تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے
حفیظؔ ان سے میں جتنا بد گماں ہوں
وہ مجھ سے اس قدر برہم نہ ہوں گے
حفیظ ہوشیار پوری
راحت اندوری اور انجم رہبر،
میاں بیوی تھے اور
اچھے شاعر بھی،
۹۰ کی دہائی میں ان دونوں میں علیحدگی ہوگئی
کسی مشاعرے میں اتفاقا اکٹھے ہوئے تو دونوں نے جو اشعار پڑھے اس سےان کی ناراضی ،دکھ اور محبت کا اظہار چھپائے نہیں چھپتا،ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پڑھے گئے چند اشعار پیش ہیں۔
انجم رہبر کے اشعار
محبتوں کا سلیقہ سِکھا دیا میں نے
ترے بغیر بھی جی کر دِکھا دیا میں نے
بچھڑنا ملنا تو قسمت کی بات ہے لیکن
دعائیں دے تجھے شاعر بنا دیا میں نے
جہاں سجا کے میں رکھتی تھی تیری تصویریں
اب اُس مکان میں تالا لگا دیا میں نے
جو تیری یاد دلاتا تھا چہچہاتا تھا
منڈیر سے وہ پرندہ اُڑا دیا میں نے
یہ میرے شعر نہیں میرے زخم ہیں "انجم"
غزل کے نام پہ کیا کیا سُنا دیا میں نے
یہ ابھی اور حسین اور سُہانا ہوگا
نہ ہوا ہے نہ کبھی پیار پرانا ہوگا
ہے تعلق تو انا چھوڑنی ہوگی اک دن
تُجھ سے روٹھی ہوں تجھے آ کے منانا ہوگا
ہے کوئی اور نظر میں تو اجازت ہے تجھے
شرط اتنی ہے مجھے شادی میں بلانا ہوگا
راحت اندوری کےجوابا پڑھے گئے اشعار
بچا کے رکھی تھی کچھ زمانے سے
ہوا چراغ اُڑا لے گئی سرہانے سے
ہدایتیں نہ کرونصیحتیں نہ کرو
عشق کرنے والوں کو
یہ آگ اور بھڑک جائے گی بُجھانے سے
ہوا ہے سامنا پھر زندگی کا عرصے بعد
بڑے دنوں میں پرانی ملی پرانے سے
ہر ایک امتحاں سے گزر تھوڑی جائیں گے
تُجھ سے نہیں ملیں گے تو مر تھوڑی جائیں گے
اُٹھنے کو اُٹھ گئے ہیں تیری بزم سے
اب اتنی رات ہو گئی ہےگھر تھوڑی جائیں گے
اب جو ملا ہے اُس کا نبھائیں گے ساتھ ہم
تری طرح سے مُکر تھوڑی جائیں گے
راحت اندوری
انجم رہبر
منقول
فیسبک حلقہ فکرو ادب کی وال سے
"احمد فراز"
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے
شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو
ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید
اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو
میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمانِ وفا
کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں
شاید اب کے لوٹ کے نہ آئے تری محفل میں
اور کوئی دکھ نہ رلائے تجھے تنہائی میں
میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں
وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ
چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ
مستقل بُعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ
پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے
مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں
زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتے ہیں
دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں
یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر
تیرے پاس آئے زمانے سے کنارا کر لے
تو کہ معصوم بھی ہے زور فراموش بھی ہے
اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارا کر لے
اور میں، جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا
ایک زخم اور بھی پہلے کی طرح سہہ جاؤں
جس پہ پہلے بھی کئی عہدِ وفا ٹوٹے ہیں
اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں
احمد فراز
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
———————————
جناب سلیم کوثر کی غزل
میری پسندیدہ ترین غزلوں میں سے ....
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے
عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے
مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے
تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں
تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے
وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں
مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے
کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
سلیم کوثر
"اتنا معلوم ہے"
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز
سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا
میں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میں
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا
اور جب اس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا!؟
آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟
میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگا
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر
خود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگا
کل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گا
آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگا
وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگا
راہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریب
اس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا
غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگا
ایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگا
بات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگا
یہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیں
اس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگا
جان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیر
ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگا
کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسے
اس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگا
چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر
دوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگا
یاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں
''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگا
اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہ
ہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگا
جب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبر
اس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا
سوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دل
یوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا!
اتفاقاً مجھے اس شام مری دوست ملی
میں نے پوچھا کہ سنو آئے تھے وہ؟ کیسے تھے؟
مجھ کو پوچھا تھا مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟
اس نے اک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی
اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے
کیا کہا اس نے مجھے یاد نہیں ہے لیکن
اتنا معلوم ہے خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا!
پروین شاکر
سیکٹر ہیڈ صاحب آپ نے میرے بچوں کو کس کام پر لگا دیا۔انہیں نے اپنی صلاحتیں اپنے ملک اور اپنے مستقبل کے لیئے استعمال کرنی تھیں۔ یہ بچہ 6th گریڈ کا طالبعلم ہے سکول کا ہوم ورک کرنے کی بجائے بھائی کی بازیابی کے لیئے میڈیا مہم چلا رہا ہے۔آپ سوچتے کیوں نہیں؟؟؟ کاش آپ اپنی توجہ بلوچستان اور شورش زدہ علاقوں میں انٹیلیجس پر لگا کر اپنے جوانوں اور ہم وطنوں کی قیمتی جانیں بچاتے۔آپ نے 15 مسلح افراد اور ویگو ڈالے بھیج کر ایک معصوم بچے کو اٹھوا دیا اور کئی نسلوں کے اندر دہشت بٹھا دی۔یہ طریقہ وطن عزیز کی سلامتی کے لیئے زہر قاتل اور اداروں پر اعتماد کی بربادی کا سبب ہے۔سب سے بڑا نقصان اپنے اداروں پر فخر کی بجائے اعتماد کا خاتمہ ہے۔یہ بچے بڑے ہوکر اپنے وطن کے بارے میں کیا سوچیں گے؟💔
گرافک ڈیزائنرز کی فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے ۔
یہ Graphic Desging کا مکمل کورس ہے ۔
یہ کورس Video Format میں ہے۔
اس کورس سے آپ Basic سے ایڈوانس لیول کی گرافک ڈیزائننگ سیکھ سکتے ہیں۔
اس کورس میں ایف بی برانڈنگ بھی بطور بونس شامل ہے۔
جبکہ نئی اور تازہ ترین Tricks بھی ہیں۔
کورس کی مالیت 100 ڈالر ہے۔
لیکن آئندہ 48 گھنٹے یہ آپ کو Free مل سکتا ہے
کورس لینے کیلئے
مجھے فالو کریں (تاکہ مسیج کرسکوں)
لائک اور لازمی ریٹویٹ کریں
رپلائی میں Graphic لکھیں
ان کی سو کالڈ ,, فائر وال ،، نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سپیڈ تباہ کرکے رکھ دی ۔ آن لائن کام کرنے والوں کی بےبسی عروج پر ہے ، سوشل میڈیا ایپس رینگ رینگ کر چل رہی ہیں ۔۔۔ آئی ٹی کے میدان میں ترقی کے دعوے دارو! اتنی نیٹ سپیڈ تو دے دو کہ ایک میسج یا تصویر اپ لوڈ ہوجائے۔ آن لائن کام تو ایک طرف واٹس ایپ پر امیج یا وائس نوٹ تک ڈاون لوڈ نہیں ہورہے ۔
انٹر نیٹ صرف وقت گزاری نہیں کہ اس کو نظر انداز کردیا جائے ، اس سے طلبا ، اساتذہ اور پروفیشنلز کا مستقبل جڑا ہے ۔ ہر فیلڈ کا کام اب انٹر نیٹ کی سپیڈ پر منحصر ہے ، لیکن یہاں پتھر کے زمانے میں بھیج دیا گیا ہے ۔ لوکل سطح پر بھی انٹر نیٹ میں کوئی خرابی ہو تو چند گھنٹوں میں سدھار لی جاتی ہے ، ملک بھر میں اس مسئلے کو 27 دن ہوچکے ہیں ۔۔ مگر وہی سرکار کی بےحسی!
بیلنس لوڈ کرنے پر چھ قسم کے ٹیکسز
پیکج لگانے پر تین ٹیکسز
پی ٹی سی ایل وائی فائی پر 7 ٹیکسز
انٹرنیٹ ڈیوائس پر ٹیکسز
موبائل اور لیپ ٹاپ خریدنے پر ٹیکسز
اتنے ٹیکس دینے کے بعد بھی انٹر نیٹ سپیڈ ۔۔۔۔ صفر
کس کس المیے کو روئیں ۔۔۔۔ ہر چیز میں ہر شعبے میں تنزلی ہی تنزلی ہے ۔ ایسا لگتا ہے اس ملک کو کوئی بدروح چمٹ گئی ہے ، کوئی ایسا آسیب ہے جو اسے سرسبز نہیں ہونے دے رہا ۔۔۔ خون آشام بلائیں ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اس ملک اور عوام کا آخری قطرہ تک چوس لیں گی لیکن مسائل حل نہیں کریں گی ۔
#Olympics2024Paris
#Paris2024
آصفہ عنبرین
ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس بھی ہے جس میں سرٹیفکیٹ بھی ملے گا اور فری بھی ہے ۔ انگلش اردو دونوں زبانوں میں ہے۔
اگر آپ لوگوں کو دلچسپی ہے تو بتائیں
اردو والے URDU لکھیں
انگلش والے English لکھیں
ریٹویٹ بھی لازمی کریں
تاکہ مزید لوگ کمیونٹی جوائن کرسکیں
پھر میں اس کورس پر نئی پوسٹ کروں گا جس میں کمیونٹی ممبرز کیلئے ڈائریکٹ لنک ہوگا
سائبر سیکیورٹی ایکسپرٹس سالانہ لاکھوں ڈالرز کمارہے ہیں۔
میرے پاس Basic سے Expert Level تک سائبر سیکیورٹی کا 500 ڈالر کا Paid کورس ہے۔
جو میں آپ کو بالکل Free میں دے رہا ہوں۔
کورس لینے کیلئے
مجھے فالو کریں (تاکہ میسج کرسکوں)
لائک اور ریٹویٹ کریں (لازمی)
رپلائی میں Security لکھیں
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کو انکے جاسوسوں نے بتایا کہ
ایک عالمِ دین ہیں جو بہت اچھا خطاب کرتے ہیں لوگوں میں بہت مقبول ہو گئے ہیں۔ سلطان نے کہا
"آگے کہو"
جاسوس بولے
"کچھ غلط ہے جسے ہم محسوس کر رہے ہیں مگر الفاظوں میں بیان نہیں کرپا رہے"
سلطان نے کہا
"جو بھی دیکھا اور سنا ہے بیان کرو"
جاسوس بولے کہ
"وہ کہتے ہیں کہ "نفس کا جہاد افضل ہے، بچوں کو تعلیم دینا ایک بہترین جہاد ہے، گھر کی زمہ داریوں کیلئے جد وجہد کرنا بھی ایک جہاد ہے۔ "
سلطان نے کہا
" تو اس میں کوئی شک ہے؟؟"
جاسوس نے کہا کہ انہیں کوئی شک نہیں لیکن اسعالم کا کہنا ہے کہ
"جنگوں سے کیا ملا؟؟ صرف قتل وغارت گری صرف لاشیں، جنگوں نے تمہیں یا تو قاتل بنایا یا مقتول "
سلطان بے چین ہو کر اٹھے، اسی وقت عالم سے ملنے کی ٹھانی، ملاقات بھیس بدل کر کی اور جاتے ہی سوال کردیا کہ
"جناب ایسی کوئی ترکیب بتائیے کہ بیت المقدس کو آزاد اورمسلمانوں کے خلاف مظالم کو بغیر جنگ کے ختم کرایا جاسکے؟؟"
، عالم نے کہا
" دعا کریں"
سلطان کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ عالِم پوری صلیبی فوج سے بھی زیادہ خطرناک ہے سلطان نے سب سے پہلے اپنے خنجر سے اُس عالم کی انگلی کاٹ دی، وہ بری طرح چیخنے لگا۔ اب سلطان نےکہا کہ
" اصلیت بتاتے ہو یا گردن بھی کاٹ دوں"
پتہ چلا کہ وہ سفید پوش عالم ایک یہودی تھا، یہودیوں کو عربی بخوبی آتی تھی، جسکا اس نے فائدہ اٹھایا سلطان نے پایا کہ اسکے جیسا درس اب خطبوں میں عام ہو چلا تھا، بڑی مشکل سے یہ فتنہ روکا جا سکا
یہ فتنہ اس وقت بھی مختلف اشکال میں پوریآب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہے کہیں عالم، کہیں سیاستدان، کہیں عورتوں کی آزادی کا علمبردار وغیرہ بس مسلمان کو سمجھنا ہوگا کہ کون مجھے سبز باغ دکھا کر اسلام کی حدودوقیود سے آزاد کرانےکی سازش کر رہا ہے تمہارا دشمن تم میں موجود ہے بس اپنے ایمان کی آنکھ سے پہچاننا ہے………….