یہوتیوں کے مامے کا دوغلاپن اور اپنی بہن کے سابقہ خصم یہودیوں کے asset کے لیے تڑپ۔
یہ وہی زیک گولڈسمت ہے جو انسانیت کے پاٹ پڑھا کر اپنے لوٹا چور بہنوئی کو چھڑوانے کی مہم چلا رہا ہے، لیکن جب بات اسرئیل اور غزہ کی آئے تو اس کو نیتن یاہو جیسا شیطان فرشتہ نظر آتا ہے۔
جب سے یہ شیطان کا چیلا قید ہے اس کے حق میں دنیا بھر سے جس جس نے آواز اٹھائی اس کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ نہ اس کا باپ ایک نہ ماں نیک۔وہ صرف یہود و ہنود کا چشم و چراغ ہی نکلا
‼️ لکی مروت 21 اگست 2026
معطل پولیس کانسٹیبل خالد خان کی سربراہی میں 82 معطل اہلکاروں پر مشتمل نام نہاد لکی مروت پولیس امن کمیٹی کا بے لگام نیٹ ورک
عام عوام کی سہولت کے لیے قائم میڈیکل کیمپ پر اعتراض سے لے کر رشوت کے عوض اپنے اہلکاروں کی پوسٹنگ اور خوارج کی درپردہ معاونت تک، پولیس امن کمیٹی ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہے۔
کیا یہ نا مناسب رویہ پشتون روایات اور جرگہ کلچر کے منافی نہیں ہے؟
مزے کی بات یہ ہے ایک معطل پولیس کانسٹیبل خالد خان اور اس کی کمیٹی اراکین آئی جی سے لے کے ڈی پی او تک کسی کا حکم بھی نہیں مانتے اور انہوں نے پورے خطے کے امن و امان کو داؤ پر لگا رکھا ہے
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو زیرِ گردش ہے، جس میں لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے صدر خالد خان کو خوارج کے خلاف کارروائی سے واپس آنے والے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ن��مناسب رویہ اختیار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، لکی مروت میں وفاقی کانسٹیبلری کے ایک اہلکار کو خوارج کے قبضے سے بازیاب کرا کے سکیورٹی فورسز جب واپس پہنچیں تو اہلکار کے گھر پر پہلے سے موجود پولیس امن کمیٹی کے صدر خالد خان سمیت دیگر اراکین نے سکیورٹی فورسز کو دیکھتے ہی شور شرابا شروع کر دیا
یاد رہے کہ لکی مروت میں معطل کانسٹیبل خالد خان کی سربراہی میں پولیس امن کمیٹی کا نیٹ ورک تقریباً 82 افراد پر مشتمل ہے، جو علاقے کے امن و امان کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے
خالد خان، ایک معطل پولیس کانسٹیبل ہونے کے باوجود، خود کو لکی مروت کا اصل ڈی پی او سمجھتا ہے اور پولیس کے اندر اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے ایسا نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں سرکاری اختیارات اور حساس پولیس معاملات پر اس کا اثر و رسوخ نمایاں ہو
اگر خالد خان واقعی خود کو پولیس کے باقاعدہ کمانڈ نظام سے بالاتر سمجھنا شروع کر چکا ہے تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ محکمہ پولیس کے نظم و ضبط، کمانڈ کے نظام اور ریاستی رِٹ کا معاملہ ہے۔
اس کے علاوہ، 8 اگست کو لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ کے علاقے نصر خیل میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول میں پاک فوج کی جانب سے مقامی آبادی کے لیے مفت طبی کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ تاہم خالد خان کی سربراہی میں پولیس امن کمیٹی کے ارکان نے غنڈہ گردی کرتے ہوئے مقامی لوگوں کو دھکم پیل کے ذریعے وہاں سے روکا اور انہیں اس سہولت سے فائدہ اٹھانے پر دھمکایا اور ڈرایا۔
اطلاعات کے مطابق خالد خان نے اپنے زیرِ اثر افراد کو پولیس کے اہم عہدوں اور حساس ذمہ داریوں پر تعینات کروا رکھا ہے، جن میں ایس ایچ اوز، ڈی ایس پیز، ڈرائیورز، اہم ذمہ داریوں پر مامور اہلکار اور اسلحہ خانے کے انچارج شامل ہیں
پولیس فورس کسی فرد، کمیٹی یا گروہ کی ذاتی ملکیت نہیں کہ اسے اپنی مرضی سے کہیں بھی استعمال کیا جائے۔
پولیس امن کمیٹی سے وابستہ عناصر کے حوالے سے سکیورٹی فورسز کے خلاف منفی بیانیہ بنانے، ریاستی اہلکاروں کے ساتھ تصادم، مسلح دھمکی آمیز رویے، پولیس کے اختیارات کے غلط استعمال، شہریوں کو ہراساں کرنے، اغوا، ماورائے عدالت ہدفی قتل، ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال اور جرائم پیشہ عناصر کی سہولت کاری جیسے الزامات بھی ہیں۔
خالد خان کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایک معطل کانسٹیبل کو پولیس کے اہم عہدوں پر تعیناتیوں میں اثرانداز ہونے، حساس ذمہ داریوں پر موجود اہلکاروں تک رسائی حاصل کرنے اور پولیس فورس کو اپنی مرضی سے متحرک کرنے کا اختیار کس نے دیا؟
🇵🇰 Growing Investor Confidence in Pakistan
The strong response to the privatisation of GEPCO, with 11 Expressions of Interest from investors in Pakistan, Türkiye and Saudi Arabia, is an encouraging sign of confidence in Pakistan’s reform and investment outlook.
With 7 of the 11 interested parties being Pakistani investors, strong domestic participation is particularly significant. Alongside growing international interest, it reflects increasing confidence in the potential of Pakistan’s key sectors.
From FESCO and GEPCO to growing interest from major international investors, the momentum is building.
Local confidence is growing. Global capital is taking notice.
بلوچستان میں 10 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ، مستونگ، ماشکیل، خضدار اور پنجگور میں چند روز کے دوران 37 دہشت گرد ہلاک کردیے، آئی ایس پی آر
#Quetta#Balochistan
The so-called Republic of Balochistan is a foreign-funded story that copies the names of Switzerland and Palestine but has nothing in common with them. Switzerland has been a real independent country since 1815 and stayed out of the UN until 2002 only because it chose to remain neutral. Palestine already had recognition from more than 130 countries and a working government before the 2012 UN vote. This fake republic is recognised by no country, controls no land, and exists only as a recent social-media page. Its claimed independence on 11 August 1947 has no official record anywhere. The real history is that the Khan of Kalat signed to join Pakistan on 27 March 1948. While this group has never collected any money or provided any service, real Balochistan is receiving hundreds of millions from projects like Reko Diq that have created thousands of jobs, most of them for local Baloch people. The group has openly thanked Indian intelligence, moved its people to Gujarat, and been promoted by Indian state media, even asking Modi to recognise it. In the end it is just a proxy campaign using words of international law that it has never earned.
6 آئی پی پیز سے معاہدوں کی معطلی اور نظرثانی سے قومی خزانے کو 43 کھرب روپے کی بچت ہوئی
کیپیسیٹی پیمنٹس کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش
وزارت توانائی کی جانب سے گزشتہ پانچ برس میں آئی پی پیز کو 64 کھرب روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی جب کہ موجودہ حکومت کے دور میں 3709 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔
ISPR : Balochistan Delegation Meets Field Marshal Asim Munir
Field Marshal Syed Asim Munir, COAS & CDF, met Balochistan’s prominent personalities and political leadership.
He stressed that Balochistan and Pakistan share one present and one future. The province is the land of talented, steadfast, and patriotic people.
A clear national narrative, lasting peace, and stability are essential to unlock Balochistan’s economic potential and convert its resources into real prosperity.
Youth have no shortage of talent — they are the most promising segment. Empowering them is key to sustainable development.
Fitna-tul-Khawarij and Fitna-tul-Hindustan are foreign-sponsored proxies used to destabilize Balochistan. These designs will be defeated through national resolve and the state’s decisive response.
He praised local leaders for promoting peace and social harmony. Balochistan’s destiny is in the hands of its own people.
Participants reaffirmed their commitment to stand with the state for a peaceful, stable, and prosperous Balochistan.