اسلام آباد:اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، سابق اسپیکر قومی اسمبلی / رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر کی امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
اس وقت ملک کے اندر جو سیاسی صورتحال ہے اور جس طرح ہماری سیاست عدم توازن کا شکار ہے، ہر طرف رویوں میں شدت ہے، حکمرانوں کا حزبِ اختلاف کے خلاف اور ان کے جمہوری حقوق کے حوالے سے جو رویہ ہے، یہ سب ہمارے مدنظر ہیں۔ اس حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں۔
جہاں تک اپوزیشن کے رہنماؤں کے حکومت سے مذاکرات کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ سیاسی لوگ، جمہوری لوگ، مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم اگرچہ مذاکرات کا حصہ نہیں تھے، لیکن اصولی طور پر ہم مذاکرات کے عمل سے اختلاف بھی نہیں کرتے۔ جہاں تک میں نے معلومات حاصل کی ہیں یا انہوں نے جو کچھ رہنمائی کی ہے، اس حوالے سے حکومتی رویہ ایسا ہے کہ انہوں نے آئندہ کے لیے کسی مذاکرات کی گنجائش نہیں چھوڑی۔
لیکن ہم بہرحال سیاسی لوگ ہیں۔ اگر حالات اس طرح بنتے ہیں کہ کچھ سنی جائے، کچھ مانی جائے، کچھ آپ مان جائیں اور کچھ ہم مان جائیں، تو اس جذبے کے ساتھ جب ہم بیٹھیں گے اور بات چیت ہوگی تو یہ ایک سیاسی لب و لہجے میں ہونی چاہیے۔ اس کے اندر کسی پسِ پردہ قوت مداخلت نہیں ہونے چاہئیں۔ سیاسی لوگ اپنی گفتگو، اپنے الفاظ اور اپنے لب و لہجے کو سمجھتے ہیں اور وہ کسی مقام پر اتفاقِ رائے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔
ایک تجویز جو میرے سامنے میرے اکابرین اور میرے دوستوں نے رکھی ہے، وہ یہ ہے کہ کیوں نہ ایک آل پارٹیز کانفرنس اس حوالے سے ہو جائے؟
میں نے کہا کہ آپ بھی اپنی اپنی پارٹیوں سے مشاورت کر لیں اور ہم بھی اپنی جماعت کے ساتھ مشاورت کر لیتے ہیں، تاکہ ایک مشترکہ منشور کے تحت ہم پھر آل پارٹیز کانفرنس کر سکیں اور ایک مشترکہ ایجنڈا قوم کے سامنے رکھ سکیں۔
جس طرح ایک جوائنٹ اپوزیشن کے قیام کے وقت ہم نے کچھ ترجیحات طے کی تھیں کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال ہے، ملک میں مہنگائی کا مسئلہ ہے، ملک کی معیشت کا مسئلہ ہے، خطے کی صورتحال کا مسئلہ ہے، کشمیر کے اندر لوگوں کی بے چینی کا مسئلہ ہے اور جتنے سیاسی قیدی اس وقت جیلوں میں ہیں، ان کی رہائی کا مسئلہ ہے۔
اس طرح چار، پانچ نکات ہم نے جوائنٹ اپوزیشن کی تشکیل کے وقت بھی متعین کیے تھے۔ مزید جب آل پارٹیز کانفرنس ہوگی تو تمام پارٹیوں کی مشاورت کے ساتھ ایک ایسا لائحۂ عمل، ایک مشترکہ حکمتِ عملی اور ایک ایسا ایجنڈا مرتب کرنا ہوگا جس کے اندر ملکی سیاست میں ایک میانہ روی اور اعتدال پیدا ہو۔
ہم سب پاکستانی ہیں، ملک کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ صرف میں ہی پاکستان کا وفادار ہوں اور میرے علاوہ سب غدار ہیں یا ان کی وفاداری مشکوک ہے۔ ہم سب برابر کے پاکستانی ہیں، ہم ملک کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں اور اسی کے مطابق ہمیں آگے بڑھنا ہے۔
اگر ہم اپنی اپنی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد ایک مشترکہ ذہن کے ساتھ آل پارٹیز کانفرنس کریں گے تو ایک میانہ رو اور اعتدال کی سیاست پاکستان کے اندر تشکیل دی جا سکے گی اور ملکی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے گا۔
جہاں تک لانگ مارچ اور احتجاج کا تعلق ہے، دیکھیں، ہم نے بھی لانگ مارچ کیے ہیں اور یہ ایک جمہوری حق ہے۔ آج اگر پی ٹی آئی اسلام آباد آنا چاہتی ہے یا اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو اصولی طور پر، میرے خیال میں، اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ پارٹیوں، سیاسی جماعتوں اور عوام کو اپنے اظہارِ رائے کا پورا حق ہونا چاہیے۔
ظاہر ہے کہ ہم نے بھی ایسے حالات میں یہاں مارچ کیے ہیں، لیکن جب پارٹیاں ایک دفعہ کمٹڈ ہوتی ہیں اور طے کرتی ہیں کہ ہم پُرامن رہیں گے تو پھر ان پر اعتماد کرنا چاہیے اور ان کے احتجاج کو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے نہیں روکنا چاہیے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی میڈیا سے گفتگو، چھ اکتوبر
آپریشن "بنیان مرصوص " کا آغاز
الحمدللہ اب تک پہرہ جاری تھا
اب گھس کر کاروائی ہو رہی ہے ۔
آج کا ٹرینڈ سیٹ کریں گے ،
اس ھیش ٹیگ کیساتھ ٹوئٹ کرتے رہیں ۔#اپریشن_بنیان_مرصوص