@ImranKhanPTI#surprise
جس نے ہر جگہ اپنے پیارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام بلند رکھا۔ مجھے یقین تھا میرا رب اپنے اس بندے کی شان بلند رکھے گا۔
اگر عمران خان سے ملاقات نہ کروائی گئی تو ہم بہنیں خود لائحۂ عمل کا اعلان کریں گی اور ہمارا لائحۂ عمل انتہائی سخت اور فیصلہ کن ہوگا عوام تیار رہیں
علیمہ خان صاحبہ
2022 میں ایک امریکن افسر کے کہنے پر اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی حکومت گرائی ، اس کے بعد دو سو جھوٹے کیس کردئیے اور پھر 9 مئی کو عدالت کے اندر سے انہیں اغواء کیا اس کے ساتھ ہی 9 مئی فالس فلیگ آپریشن کیا جس کے بعد پورے پاکستان بالخصوص پنجاب میں پی ٹی آئی پر بدترین فسطائیت شروع کی گئی اس کے بعد عمران خان کو آفر کی گئی کہ ملک چھوڑ کر کہیں بھی جانا چاہیں آپ جا سکتے تو عمران خان نے کہا میں اپنے اوپر کئے گئے جھوٹے کیسز کا سامنا کروں گا اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرونگا ملک چھوڑ کر نہیں جاونگا۔
پھر پانچ اگست کو گرفتار کرکے بہت بری حالت میں اٹک جیل میں رکھا گیا ، پھر اڈیالہ لایا گیا یہاں عمران خان پر جھوٹے کیسز پر جھوٹی سزائیں سنائی گئیں جو بعد میں سارے کیسز عدالت میں جھوٹے ثابت ہوئے لیکن جھوٹی سزائیں سنانے والے ججز کو کسی نے کوئی سزا نہ دی۔
اور پھر چار اکتوبر 2025سے اڈیالہ میں عمران خان کو سخت قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ۔ علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
#چلو_چلو_اڈیالہ_چلو
#KhanIsolationIsACrime
بریکنگ نیوز
بیرسٹر ابوزر سلمان خان نیازی کی جانب سے خطۂ خٹک میں ایک لاکھ افراد کو درپیش پینے کے صاف پانی کے بحران کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع
لاہور، 23 جون 2026ء: بیرسٹر ابوزر سلمان خان نیازی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے درخواست گزاران منظور خٹک اور ابراہیم خان کی جانب سے چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ (PHED)، کمشنر سرگودھا ڈویژن اور دیگر متعلقہ حکام کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے، جس میں تحصیل عیسیٰ خیل، ضلع میانوالی کے خطۂ خٹک میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کے مسئلے کے حل کے لیے فوری عدالتی مداخلت کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ علاقے کے تقریباً ایک لاکھ مکین صاف پینے کے پانی کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں اور انہیں غیر محفوظ آبی ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جن سے جانور بھی پانی پیتے ہیں۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ صاف اور محفوظ پینے کے پانی تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 کے تحت حاصل حقِ زندگی اور انسانی وقار کا لازمی جزو ہے۔
درخواست کے مطابق چپڑی ڈیم واٹر سپلائی پراجیکٹ کا آغاز 2020 میں علاقے کے دیرینہ آبی بحران کے مستقل حل کے لیے کیا گیا تھا۔ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے پر اب تک تقریباً 4 ارب روپے کے سرکاری فنڈز خرچ کیے جا چکے ہیں اور منصوبے کا 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ تاہم فنڈنگ کے اجراء میں تعطل کے باعث منصوبہ رکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری ایک ایسے عوامی فلاحی منصوبے کے ثمرات سے محروم ہیں جو تکمیل کے قریب پہنچ چکا تھا۔
درخواست میں لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ متاثرہ آبادی کو فوری طور پر صاف پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے، چپڑی ڈیم واٹر سپلائی پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے درکار فنڈز جاری کرنے، اور منصوبے کی تکمیل تک متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بحال رکھنے کے لیے ہنگامی اور عبوری اقدامات کرنے کے احکامات صادر کیے جائیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صاف پینے کے پانی سے مسلسل محرومی خطۂ خٹک کے عوام کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور شہریوں کی زندگی، صحت اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے عدالت کی فوری مداخلت ناگزیر ہے۔
اس درخواست کی سماعت 24 جون 2026ء کو جسٹس شاہد کریم لاہور ہائی کورٹ میں کریں گے۔
"71ء میں جب عوامی لیگ اکثریت میں آئی، تو چونکہ اسے اقتدار نہیں دینا تھا، تو پہلے اسے کالعدم قرار دیا اور پھر اس کے جیتنے والوں کو آزاد قرار دے دیا۔ جب آپ نے اکثریت کو تسلیم نہ کیا تو دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ اکثریت نے اقلیت سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا؛ کشمیر کی موجودہ پارلیمان میں 4 وزرائے اعظم تبدیل ہوئے اور انہی 12 لوگوں نے اہم کردار ادا کیا جن کے خلاف کشمیری سڑکوں پر ہیں!" سینئر صحافی افتخار شیرازی
@Shirazi_68
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت جتنی تیزی سے نیچے جا رہی ہے، پاکستان میں مہنگائی اتنی تیزی سے اوپر جا رہی ہے! مہنگائی کرو، اپنی جیبیں بھرو۔۔ پٹواری لیگ کا 40 سالہ ٹریک ریکارڈ!
ایک خبر کے مطابق پنجاب میں کپاس کی کاشت کا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہو سکا۔ صوبائی حکومت نے نئے سیزن کیلئے 32 لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا مگر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 26 لاکھ ایکڑ پر ہی کپاس کاشت ہو سکی ہے۔ کپاس کی کاشت میں کمی کا براہِ راست مطلب پیداوار میں کمی ہے‘ نتیجتاً ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمدات کا سہارا لینا پڑے گا۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی کپاس درآمد کی جا چکی ہے: دنیا اخبار کا اداریہ/ 23 جون 2026
سرگودھا میں زینب کیس کی دردناک تاریخ دہرا دی گئی۔۔۔!
سرگودھا شہر میں آج صبح تقریباً دس سے گیارہ بجے منتہا نامی بچی گھر سے 8 بلاک میں واقع حنیف کریانہ سٹور سے سامان لینے گئی، لیکن دو گھنٹے گزرنے کے باوجود واپس نہ آئی۔
اہلِ خانہ نے منتہا کی تلاش میں قریبی دکانوں کے سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے۔ فوٹیج میں دیکھا گیا کہ منتہا 8 بلاک کی ایک دکان کے اندر گئی، مگر واپس باہر آتی ہوئی نظر نہیں آئی۔
سرگودھا پولیس نے دکان پر چھاپہ مارا تو تلاشی کے دوران انکشاف ہوا کہ دکان میں موجود متعدد افراد نے دکان کے اوپر والے کمرے میں منتہا کے ساتھ مبینہ ذ یا د تی کی اور ممکنہ طور پر منتہا کی چیخ وپکار پر اسے مار ڈالا۔
ملزمان کا ارادہ تھا کہ جیسے ہی رات ہوگی تو ہم باڈی ٹھکانے لگا دیں گے مگر قریبی دکانوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں اور سرگودھا پولیس کے فوری ایکشن نے منصوبہ ناکام بنا دیا۔
کب تک یہ ظلم جاری رہے گا ؟اگر ملک میں انصاف ہوتا تو یہ نہ ہوتا
”حکومت کو فی الفور عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیکل بورڈ تشکیل دینا چاہیئے، تا کہ عوام کے سامنے آ سکے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کی آنکھیں کتنے فیصد ٹھیک ہیں۔ ہوش کے ناخن لیں، موجودہ عدلیہ چھبیسویں اور ستائیسویں ترامیم کے بعد جتنا بے بس ہیں وہ سب عوام کے سامنے ہے۔ تحریک انصاف کے جیل میں قید لیڈران کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، انہیں مزید سزائیں سنا دی گئی ہیں۔“ پارس جہانزیب
@Parasjahanzaib1
#KhansIsolationIsACrime
فارم 47 پر بننے والی شہباز شریف اور آصف زرداری کی حکومت اپنے پانچویں سال میں ہے۔ جتنی بھی توقعات ان سے وابستہ تھیں، کوئی ایک بھی پوری نہیں ہو سکی۔ یہ حکومت صرف فرمانبرداری کے پیمانے پر پوری اتری، اس سے آگے خودسپردگی میں گئی اور اب فنا فی المحبوب کے درجے تک پہنچ چکی ہے۔ فرمانبرداری کے ساتھ کارکردگی بھی چاہیے، مسئلہ یہ ہے کہ کارکردگی، عقل، دلائل اور بیانیہ کے چاروں عناصر اس حکومت کو میسر نہیں۔
حبیب اکرم
بجٹ آیا، ترقی گئی۔
صحت، تعلیم اور ترقیاتی فنڈز میں کٹوتیاں، مگر ٹیکسوں کے بوجھ میں تاریخی اضافہ۔
عوام کا سوال: یہ بجٹ ہے یا 8 فروری کے عوام کے فیصلے کا انتقام؟
یہ منصف بھی تو قیدی ہیں، ہمیں انصاف کیا دیں گے۔ لکھا ہے ان کے چہروں پر، جو ہم کو فیصلہ دیں گے۔ ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے۔ حافظ حمد الله
#pakistan@iHafizHamdullah
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
لوٹ مار کی اخیر ہو چکی ہے۔۔۔جس ایل پی جی گیس کی قیمت سرکار نے 308 روپے فی کلو مقرر کی ہوئی ہے، وہ ملک میں 650 روپے فی کلو تک بک رہی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔۔۔ شہری کئی مہینوں سے لُٹ رہے ہیں اور انتظامیہ اور حکومت نام کی کوئی شے نہیں جو ان ناجائز منافع خوروں سے عوام کو بچا سکیں
عمران خان کو عاصم منیر کی جیل میں ناحق قید ہوئے 1052 دن ہو چکے ہیں۔ انہیں مزید اذیت دینے کے لیے تقریباً 8 ماہ سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں نہ خاندان سے ملاقات کرائی جاتی ہے اور نہ وکلا و ذاتی معالجین تک رسائی ہے۔ ان تمام مظالم کا مقصد یہ ہے کہ عمران خان اس نظام کے ساتھ کوئی ڈیل کر لیں۔ مگر عمران خان اس فسطائی رجیم سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
قاسم خان سوری