محمد مرسی مصر کے مقبول ترین عوام رہنما جنہوں نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر کہا تھا " جو ہمارے نبیﷺ کی عزت اور احترام نہیں کرے گا ہم بھی اس کا احترام نہیں کریں گے ۔
جس نے کہا تھا اپنے ملک کے شیروں کو قتل نہ کرو ، ورنہ تمہارے دشمنوں کے کتے تمہیں کھا جائیں گے۔
جس کو فوجی آمر سیسی نے قید کیا تو ترکیہ نے مصر سے سفارتی تعلقات ختم کرلئے اور اپنے سفیر کو واپس بلالیا ۔
محمد مرسی کو قاہرہ کی بدنام زمانہ اسکارپیئن جیل کی کال کوٹھڑی میں مسلسل 23 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔
وہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، لیکن مصری حکومت نے انہیں بنیادی طبی سہولیات اور ادویات سے مکمل محروم رکھا۔
ہیومن رائٹس واچ اور ان کے خاندان نے اسے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت "سلو پوائزننگ" اور قتل قرار دیا۔
شہادت والے دن انہیں جاسوسی کے ایک جھوٹے مقدمے کی سماعت کے لیے لایا گیا تھا۔ انہیں ایک آواز بند شیشے کے پنجرے میں بند کیا گیا تھا۔ کمزوری کے باوجود انہوں نے جج کے سامنے کھڑے ہو کر تقریباً 20 منٹ تک انتہائی دلیری سے اپنا آخری بیان ریکارڈ کروایا
اپنا بیان ختم کرنے کے فوراً بعد ان پر غشی طاری ہوئی اور وہ پنجرے کے اندر ہی گر پڑے۔ رپورٹس کے مطابق وہ تقریباً 20 منٹ تک وہیں بے سدھ پڑے رہے اور ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
مصری حکومت ان کی مقبولیت سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ عوام کو ان کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور رات کے اندھیرے میں سخت ترین سیکیورٹی کے پہرے میں انہیں قاہرہ کے ایک قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
One of the most brutal scenes in history:
The Israeli army blindfolded this young Palestinian man, forced him to run, and then shot him in the back of the head.
All this for mere amusement.
A historical crime.
جنہوں نے عمران خان کے ڈر سے آئین بدل دیا، سپریم کورٹ کا سٹرکچر بدل دیا اور اب نئے صوبوں کی صورت میں ملک کا نقشہ بدلنے جا رہے ہیں وہ اپنے ہاتھوں سے بنائی گئی سپریم کورٹ سے کیوں ڈریں گے؟
*عمران خان کو کیوں فوراً ہٹایا گیا ہے* اور اسے دوبارہ جیل سے کیوں رہا نہیں کرتے۔ عمران خان کوجیل میں قتل کرنے کی سازش کیوں ہو رہی ہے
انگریزی تحریر : *جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال*
میں آپ کو بتاؤں کہ عمران خان نے ایسا کیا جُرم کیا کہ امریکہ کو اُسے فوراً اسکے عہدے سے ہٹانا پڑا اور اگر امریکہ ایسا نہ کرتا تو اسے کس قسم کے نقصانات اٹھانے پڑ سکتے تھے۔
اس کو سمجھنے کے لیے پہلے دو تصورات کا احاطہ کرتے ہیں۔
*1) پیٹرو ڈالر کیا ہے؟ یہ 1974 میں شاہ فیصل اور صدر نکسن کے درمیان ایک معاہدہ ہے*۔
اس معاہدے کے تحت سعودی عرب ذمہ داری یہ تھی کہ اوپیک کے تمام ممالک کو تیل امریکی ڈالر میں فروخت کرنے پر راضی کرے اور کوئی دوسری کرنسی یا سونا قبول نہ کرے۔ فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی امریکی بینکوں یا فیڈرل ریزرو میں جمع کی جائے گی جس سے USD کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی ملک کو تیل خریدنے کے لیے پہلے USD خریدنا پڑتا ہے اور یہ انتظام USD کو مضبوط رکھتا ہے۔
بدلے میں سعودی کرنسی ایک ڈالر = 3.75 ریال مقرر کی گئی تھی، سعودی معیشت کی حالت جیسی بھی ہو امریکی ڈالر اور ریال کی شرح یہی رہے گی اور یہی وجہ ہے کہ آج 48 سال بعد ہی ایک ڈالر , تین اعشاریہ پچھتر ریال کے برابر ہے۔ دوسرا امریکہ نے گارنٹی دی کہ آل سعود اقتدار میں رہے گا، حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
امریکہ کی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا تھی کہ اوپیک ممالک میں سے کوئی بھی اس معاہدے سے کسی صورت بھی باہر نہ نکلے۔ عراق اور لیبیا نے بغاوت کی اور ہم سب جانتے ہیں ان کی حالت کیا ہوئی۔
*2) 1953 میں ہندوستان اور سوویت یونین (روس) کے درمیان ہندوستانی روپیہ-روبل تجارت کا معاہدہ ہوا*۔
جس کے تحت روس سے ہندوستانی خریداری کے لیے وہ ہندوستانی روپے میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے ہندوستانی روپے کی مانگ میں اضافہ ہوتا رہے گا اور کرنسی مضبوط رہے گی -
دوئم ہندوستان سے روسی خریداری کے لیے روسی روبل میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے روبل کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور کرنسی مضبوط رہتی ہے۔
ایک ہندوستانی بینک روس میں ایک شاخ کھولے گا اور روس کا ایک بینک تجارت کی سہولت کے لیے ہندوستان میں ایک شاخ کھولے گا - یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ معاہدہ 1953 میں ہوا تھا جو 1974 میں پیٹرو ڈالر کے معاہدے سے پہلے ہوا تھا۔
*عمران خان پہلے پاکستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے 2019 میں پاکستانی روپے اور چینی یوآن میں لین دین کا چین سے معاہدہ کیا*۔ اس معاہدے میں سیمی کنڈکٹر، ٹرانسفارمرز، نشریاتی آلات اور الیکٹرونکس آلات شامل تھے۔ اگرچہ امریکہ اس سے خوش نہیں تھا، لیکن وہ چپ رہا کیونکہ اس میں تیل کا لین دین شامل نہیں تھا۔
*عمران خان نے 2022 میں تیل کے لیے پاکستانی روپے اور روسی روبل کا معاہدہ کرنے کے بالکل قریب تھا*۔
یاد رکھیں پیٹرو ڈالر کا معاہدہ 1974 کا ہے۔ اور امریکہ پاکستان کے اس معاہدے کو کبھی قبول نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اگر دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کرتے ہیں تو USD کمزور ہو جائے گا اور امریکی معیشت میں گراوٹ آجائے گی اور وہ مزید سپر پاور نہیں رہے گا۔
*اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو اگلے الیکشن ہارنے کی قیمت پر بھی پاکستان امریکی غلامی سے نکل آتا اسی لئے امریکہ کو اسے فوری طور پر ہٹانا پڑا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا*۔
*عمران خان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ ابھی تک صدام حسین اور معمر قذافی کے پاس نہیں پہنچا جس کی حتی المقدور کوششیں جاری ہیں*.
*اگر عمران خان دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوتا ہے اور اپنی دوسری مدت میں وہ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو روپے کی یہ مسلسل قدر میں کمی رک جائے گی*.
پاکستان IMF کو ادائیگی کرنا شروع کر دے گا اور تبادلوں کی شرح بحال ہو جائے گی اور پاکستان دو سے تین سال میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی کا طوق گلے سے اتار پھینکے گا۔
سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر حب الوطنی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کیلئے سوچیں.
یہی یہ سب کچھ موجودہ حکومت کر لے تو ملک خوشحال ھو سکتا ھے۔
........ .......... ،،
آپ کو خدا کا واسطہ ہے
اس تحریر کو سچا مسلمان اور محب وطن بن کر سوچیں 40 سال سے منافقت کی سیاست سے ہٹ کر سوچیں
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
”عمران خان نے کہا، میری قوم کو بتائو یہ جیل میں میرے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہیں، انہوں نے مجھے قید تنہائی میں ٹیلی ویژن یا پڑھنے کیلئے کسی بھی قسم کے مواد سے دور رکھا۔ میرے سر میں کچھ ہوتا تھا، میں نے ڈاکٹرز سے اپنی طبیعت کا کئی بار ذکر کیا مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں۔“ ہمشیرہ اعظممئ خان، 9 ماہ بعد عمران خان سے ملنے کے بعد ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے آبدیدہ
"عمران خان نے کہا کہ میری قوم کو جا کر بتاو یہ میرے ساتھ کیا ظلم کر رہےہیں۔ یہ انسان نہیں ہیں ۔ یہ میرے غیر انسانی سلوک کر رہے ہیں یہ میرے اوپر ظلم کر رہے ہیں۔ میری طبعیت خراب تھی ،جیل میں سب کو کہا لیکن مجھے کوئی سنتا ہی نہیں تھا۔ میرے ساتھ دس مہینے سے کوئی Human contact نہیں ہے۔عمران خان بار بار کہہ رہے تھے کہ اُنہیں مصری صدر محمد مرسی کی طرز پر مارنے کی کوشش کی جارہی ہے"۔ ڈاکٹر عظمی بتاتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
یہ فائدہ تو ہوا کہ عمران خان کا علاج ہو جائے گا۔ مگر جن شرائط پر اسے ہسپتال بھیجا جا رہا ہے، وہ بہت شرمناک ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عاصم منیر نے عمران خان پر جو ظلم ڈھائے ہیں، وہ شاید ہی کسی اور سیاسی قیدی پر ہوئے ہوں۔ مگر یہ جشن منانے کا وقت نہیں۔ یقین سے کہتا ہوں کہ اگر عمران خان کو پتا چل گیا کہ اسے ان شرائط پر ہسپتال بھیجا جا رہا ہے، تو وہ خود اٹھ کر واپس جیل چلا جائے گا۔
دراصل عاصم منیر اور اس کی فوج پھنس چکی ہے۔ مسئلہ ترمیم کا ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی ترمیم کے وعدے سے بھاگ رہی ہیں۔ ان جماعتوں کی اپنی کوئی سیاسی قوت نہیں۔ انہیں صرف ترمیم پر آمادہ کرنے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ وہ بھی اپنی حیثیت جانتے ہیں؛ انہوں نے بالآخر آمادہ ہو جانا ہے۔ پھر فوج نے ایک منٹ لگائے بغیر عمران خان پر کیا جانے والا ظلم برقرار رکھنا ہے۔
بنگلہ دیش نے آج اپنی فوج کو بیرکوں میں واپس جانے کا حکم دے دیا ہے۔ تمام کاروبار ضبط کر لیے گئے ہیں اور فوج کو صرف بارڈرز تک محدود کر دیا گیا ہے۔ 6 جون 1985 سے کہہ رہا ہوں کہ ہماری فوج کو بھی بیرکوں میں واپس جانا پڑے گا۔ مجھے یقین ہے کہ اس ظلم سے قوم کو نجات عمران خان ہی دلائے گا۔
The French Government have found hard evidence of election interference in France, Africa and even Scotlands elections
Not by Russia-
But by an Israeli based company called "Blackcore"
Heres the story.
Imran Khan's medical reports are alarming. I have gone through them with several specialists, and I am writing this in plain language so every Pakistani can understand exactly what is happening.
In order of priority, this is what worries me most: his anxiety and stress levels, his palpitations, and his high blood pressure. Sleeplessness is not mentioned in the report, but looking at the medications, it is almost certainly there too.
I have known Imran Khan for more than 35 years. Stress was never his weakness. That it is now at peak levels tells you everything about what three years of imprisonment and total isolation have done to him.
The causes are not hard to understand: the state of the country, his colleagues in jail, those sentenced, the killed, and their grieving families. His own isolation, no newspapers, no books, no knowledge of what is happening outside. And yes, his anxiety over Bushra Bibi, his sisters, his workers and his party.
Look at the medications, as there is no diagnosis. He is on Citanil and Lexotanil, three times a day. That is not sleeplessness being treated. That is daytime anxiety being treated. Read that twice.
His heart rate is 54 bpm. Doctors will call that "normal." It is not normal for him. His resting heart rate has been in the low 40s his whole adult life, the mark of a lifelong elite athlete. A jump to 54 is a real shift.
He has reported heart palpitations. That is not something to note and move on from. It needs a 24-hour Holter monitor immediately, to catch the frequency and get him on the right medication. Even an Apple Watch linked to an Apple ID outside Pakistan (as that function is disabled in Pakistan) can flag Atrial Fibrillation and palpitations in real time.
He is on three separate BP medications now. That requires proper daily AM/PM monitoring to titrate correctly, not once-a-week guesswork. He is also on a cholesterol-lowering drug. Raised cholesterol at his age is both genetic and stress-driven, and needs diet, exercise, and medication working together, as does his blood pressure. Less salt. More movement. Real monitoring.
And the following tests that must happen now, without further delay:
1) A Stress Test
2) An Echocardiogram
3) Cardiac MRI
4) Cardiac Artery Calcium (CAC) scan, because of raised cholesterol to check for calcified deposits that block arteries and lead directly to heart attacks or the need for stents.
5) Cardiac CT Angiogram and other tests if indicated.
I am deeply worried. Isolation is taking a physical toll on his body. If this is not addressed immediately, the damage may become irreversible with more complications to follow.
@ImranKhanPTI definitely needs to be moved to a hospital environment now, under an independent panel of doctors. Neither his family nor the people of Pakistan trust government-appointed doctors alone. We have already seen reports manipulated before, numbers exaggerated or suppressed, platelets among them.
The next three months will decide whether his condition is reversed or becomes permanent.
We all are alarmed.
The country needs him more than ever before. May Allah keep him healthy. Ameen. 🤲
Have you ever seen people protest for the “right to rape”? This happened in lsraeI. Protesters demanded that lDF should be allowed to sexually assault Palestinian detainees.