Allah is Al Haq!
I have repeatedly raised concerns about the prejudice exhibited by the Chief Election Commissioner of Pakistan against me and PTI. Today's Supreme Court decision—establishing the ECP’s bias and malafide against PTI —reinforces our stance. We demand criminal proceedings under Article 6 of the Constitution against all those responsible for disenfranchising millions of voters and supporters of Pakistan’s largest political party.
Sikandar Sultan Raja and the ECP members must resign immediately!
Also, I would reiterate that Chief Justice Qazi Faiz Esa must distance himself from the cases involving me or PTI.
خبر یہ ہے کہ
مخصوص نشستوں کے فیصلہ کے بعد ثانیہ عاشق سمیت ن لیگ کی 14 خواتین قومی اسمبلی سے فارغ ہوگئی
جبکہ پیپلزپارٹی کی 5 اور مولانا فضل الرحمن کی 3 خواتین باہر
اب انکو مہنگائی نظر آنے کا امکان ہے😂
بیشک میرا رب، میرا اللہ ”الحق“ ہے!
میں نے چیف الیکشن کمشنر کے اپنے اور پاکستان تحریک انصاف کے خلاف بغض و تعصب کی بار بار نشاندہی کی ہے اور اس باب میں پیہم تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے آج کے فیصلے، جس نے تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن کی بدنیتی اور تعصب کو ثابت کیا ہے، سے ہمارے مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت ہوئی ہے۔ ہم کروڑوں پاکستانی ووٹرز اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے حمایتوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت فوجداری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
سکندر سلطان راجہ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اراکین فی الفور مستعفیٰ ہوں۔
اس کے ساتھ میں ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لازماً خود کو میرے اور پاکستان تحریک انصاف سے متعلق تمام مقدّمات سے الگ کریں۔
لاہور ہائیکورٹ،
صنم جاوید کی گواجرنوالہ کے مقدمے میں گرفتاری کے خلاف درخواست کا تحریری فیصلہ جاری
سینئر قانون دان میاں علی اشفاق کے مدلل دلائل کے بعد عدالت نے صنم جاوید کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا
عدالت نے صنم جاوید کو جیل سے فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا فیصلہ
جسٹس اسجد جاوید گھرال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا
تفتیشی افسر کے پاس درخواست گزار کو مقدمے میں نامزد کرنے کے کوئی شواہد موجود نہیں فیصلہ
درخواست گزار کو گواجرنوالہ کے میں مقدمہ بدنیتی کی بنیاد پر درج کیا گیا فیصلہ
درخواست گزار کو مقدمے سے فوری طور پر ڈسچارج کیا جاتا ہے فیصلہ
ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نے بیان دیا کہ صنم جاوید کے خلاف مزید کو ئی مقدمہ درج نہیں ہے فیصلہ
صنم جاوید کو فوری جیل سے رہا کیا جائے فیصلہ
تفتیشی افسران کی جانب سے درخواست گزار کو بار بار ایک نوعیت کے مقدمے میں نامزد کرنا بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے فیصلہ
درخواست گزار کو رہائی کے بعد بار بار گرفتار کرنے کا مقصد عدالتی نظام کو شکست دینا ہے فیصلہ
ڈپٹی کمشنر لاہور اور گوجرانولہ نے جیل میں ہونے کے باوجود درخواست گزار کے نظر بندی کے احکامات جاری کیا اس میں کردار ادا کیا فیصلہ
ڈپٹی کمشنرز کے کردار سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے مگر عدالت بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئئ کارروائی نہیں کر رہی فیصلہ
عدالت امید کرتی ہے کہ ڈپٹی کمشنرز آئندہ عدالتی احکامات کو مایوسی نہیں کریں گے فیصلہ
جسمانی ریمانڈ دینے والی عدالتوں کو بھی ریمانڈ دیتے ہوئے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کو سامنے رکھنا چاہیے فیصلہ
عدالت نے فیصلے کی کاپی جوڈیشل افسران ،ائی جی اور تمام ڈپٹی کمشنر کو بھیجنے کی ہدایت کردی
اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کچھ بھی کہیں لیکن تحریک انصاف سے اسکا انتخابی نشان تو انہوں نے ہی چھینا تھا اب وہ کہتے ہیں میرے فیصلے کی غلط تشریح ہوئی لیکن طاقتور حلقوں کے کچھ ترجمان تو بہت پہلے سے کہہ رہے تھے کہ تحریک انصاف کو بلا نہیں ملے گا انہیں کیسے پتہ تھا؟ قاضی صاحب کا فیصلہ تو بہت بعد میں آیا یہ سب کیا تھا؟
الیکشن کمیشن کے سربراہ و ممبران نے انتہائی غیر آئینی جرائم کا ارتکاب کیا، انہیں معافی ملنا و دینا ملک و قوم کے ساتھ آخری حد کی غداری ھوگی-
ان کے خلاف ھر صورت کاروائی کرنا ھوگی- آج نہیں تو کل-