جب انسان زندگی کے کسی موڑ پر خود کو تنہا پاتا ہے تو ابتدا میں یہ تنہائی اسے بوجھ محسوس ہوتی ہے۔ مگر وقت کے ساتھ یہی تنہائی اسے اپنی ذات سے آشنا کر دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے سہاروں کے بجائے اپنے قدموں پر کھڑا ہونا سیکھ لیتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی خوشی،اس کا سکون اور۔۔۔۔
جُکی ہوئی یہ جبیں ہے،ہمارا قلبِ حزیں ہے
حضور(ص)دیکھیں نا
کسی کا کوئی تو ہوتا ہے،اتنا لوگوں میں!! ہمارا کوئی نہیں ہے
حضور(ص)دیکھیں نا
ہماری آنکھ میں خوشیوں کا رقص ہوتا تھا،اب ان میں درد مکیں ہے
حضور(ص)دیکھیں نا
حضور کوئی نہیں آپ کے سوا میرا، حضور کوئی نہیں ہے
حضور دیکھیں نا
اور اس کی طاقت لوگوں کی موجودگی سے وابستہ نہیں رہتی۔
ایسا انسان کسی کے ہونے یا نہ ہونے، پانے یا کھونے سے نہیں ٹوٹتا،کیونکہ وہ جان چکا ہوتا ہے کہ زندگی کا سب سے مضبوط سہارا انسان کا اپنا حوصلہ اور اس کا رب ہوتا ہے۔ تنہائی اسے صبر سکھاتی ہے، خود اعتمادی عطا کرتی ہے اور۔۔۔۔
@Abbas00072 I survived 7 hours of school
carried a whole brick collection disguised as a school bag.climbed 7 floors and still went to tuition...for 2 hours.
Lazy kahan se thi?!
When i was little,nothing made me happier than finding out i didn't have to go to tuition
The excitement was literally the same as this kid's
And a major reason was that my tutor lived on the 7thfloor💀every trip there felt like i was training for a mountain-climbing competition
Salam
I kindly request you all to please offer Namaz-e-Wehshat for my teacher sir Najfi if you are able to.
May Allah grant him his infinite mercy.
Thank you.
When three fundamental truths become deeply rooted within a nation the wilayah of ameer al-momineen(a.s) the consciousness of ashura and hope in the reappearance of imammehdi (a.j.) then the very concept of defeat ceases to exist for that nation.
Alhamdulillah! today.....