🚨🚨Visuals from Balochistan Rara Sham area of Barkhan District where 10 #FAK terrorists have been eliminated.
Weapons including assault rifles & RPGs recovered.‼️‼️
مستونگ میں بھتہ خوری اور سڑک پر رکاوٹ پیدا کرکے عام مسافروں پہ گولیاںبرسای گئ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اب عوام کو سمجھ جانا چاہیئے کے کون بلوچ قوم کی جانی اور مالی دشمن ہے۔
#Mastung#Balochistan#SecurityForces#LawAndOrder #Pakistan
سنجیدہ گفتگو میں زبان کا پھسل جانا عام بات ہے؛ اگر کسی نے "کچی" کی جگہ "کیچ" بول دیا تو اس پر اتنا شور مچانے کی ضرورت نہیں۔ اس سے تانیہ بازئی جیسی محبِ وطن اور غیور بلوچ بیٹی کی حب الوطنی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس طرح کا واویلا اور پروپیگنڈا کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے!
اصل شک و شبہ تو بشیر زیب جیسے ان دہشت گردوں کے بلوچ ہونے پر کرنا چاہیے جو افغانستان کے پہاڑوں کے سامنے ویڈیوز بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بلوچستان میں دندنا رہے ہیں۔ جھوٹ اور پروپیگنڈے کی یہ سیاست اب مزید نہیں چلے گی! 🇵🇰
@bazai_tania
#TaniaBazai #Balochistan #AntiStatePropaganda #PakistanFirst
چھوٹے صوبوں کا بننا اور نئے صوبے بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ دور دراز علاقوں تک ترقی اور سہولتیں پہنچ سکیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد کی سالوں پرانی بات آج بالکل سچ ثابت ہو رہی ہے کہ بڑے صوبوں کو سنبھالنے کے لیے اختیارات کو تقسیم کرنا بہت ضروری ہے۔ بہتر نظام اور عوام کی بھلاۂی کے لیے اس سوچ کو سمجھنا بہت اہم ہے۔
#Administrativeunits #NewProvinces #GoodGovernance #Pakistan
بلوچستان کی بہادر خاتون صحافی سدرہ عارف نے ماہ گل کے المناک قتل کا اصل اور خوفناک سچ بے نقاب کر دیا!
کالعدم تنظیم کے دہشت گرد معصوم بلوچ خواتین کو بلیک میل کرتے ہیں۔ جب ماہ گل نے ان درندوں سے جان چھڑانی چاہی تو انہوں نے اسے گھر سے اغوا کر کے نہ صرف شدید تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کے ساتھ انتہائی بہیمانہ سلوک کر کے لاش پھینک دی اور دھمکیاں دیں کہ وہ مزید خواتین کو بھی نشانہ بنائیں گے۔
بڑا سوال یہ ہے کہ اختر مینگل اور دیگر تمام نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار اس سفاکیت پر کیوں خاموش ہیں؟ کیا ماہ گل کوئی بلوچ یا انسان نہیں تھی؟ جب دہشت گرد مظلوم بلوچ خواتین کا خون بہاتے ہیں تو ان کا ضمیر کیوں نہیں جاگتا؟
#Balochistan #BYC_Exposed #BLATerrorists #JusticeForMahgul #PakistanFirst
ماہ گل کے معاملے پر پروپیگنڈا کرنے والوں کا مکروہ چہرہ بے نقاب!
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دہشت گرد تنظیم نے خود ماہ گل کو گھر سے اغوا کر کے قتل کیا، کیونکہ وہ ان کے تمام ٹھکانوں اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ ہو چکی تھی اور کیمپ سے بھاگ آئی تھی۔ دہشت گرد تنظیموں کی روش ہمیشہ سے اپنے ہی کارندوں کو ختم کرنا رہی ہے۔
نام نہاد انسانی حقوق کی آڑ میں ریاست پر بہتتان لگانے والے عناصر کو یہ حقیقت دیکھنی چاہیے کہ بی وی سی (BYC) کا مقصد ان لڑکیوں کی بھلائی نہیں بلکہ ان کی لوکیشن معلوم کر کے انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنا یا نشانہ بنانا ہے۔ شرپسند عناصر کا یہ گھناؤنا چہرہ اب سب کے سامنے آ چکا ہے! 🇵🇰
#Balochistan #BYC_Exposed #AntiStatePropaganda #PakistanFirst
80 سالہ بزرگ ملک کریم داد محمد حسنی کا ’’جرم‘‘ صرف یہ تھا کہ انہوں نے جرگہ میں کہا: "پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو کوئی نہیں"۔ بھارتی فنڈڈ بی ایل اے (BLA) کی بزدلی کا عالم یہ ہے کہ انہیں ایک 80 سالہ محبِ وطن ضعیف العمر بزرگ سے بھی خوف آتا ہے! قلم اور سچی بات کا مقابلہ نہ کر سکنے والے یہ بزدل قاتل بلوچستان کے اصل چہرے کو کبھی نہیں جھکا سکتے۔ پاکستان زندہ باد! 🇵🇰
#Balochistan #BLATerrorists #PakistanFirst
Malik Karim Dad Muhammad Hasni was a respected tribal elder who was martyred yesterday in Chagai after being targeted in a terrorist attack by the BLA, a terrorist organisation.
His only “crime” was his unwavering loyalty to Pakistan. He used to say:
“As long as Pakistan exists, we exist. If Pakistan does not exist, nothing exists for us.”
Malik Karim Dad Muhammad Hasni was reportedly over 80 years old. Despite his age, he stood firmly by his principles and paid the ultimate price for his love for Pakistan.
Salute to the martyr, Malik Karim Dad Muhammad Hasni. 🇵🇰
ایک بلوچستان میں سفرکرنےوالے غریب ڈرائیور کا بھارتی فنڈڈ بی ایل اے (BLA) کے دہشت گردوں کو دوٹوک پیغام! جو عناصر غریب مزدوروں کی گاڑیاں جلا کر انہیں بے روزگار کرتے ہیں اور ترقی کے دشمن ہیں، وہ نہ انسان ہیں نہ بلوچ اور نہ ہی مسلمان۔ اصل بلوچ عوام اپنے وطن اور امن کے ساتھ کھڑے ہیں! 🇵🇰
#Balochistan #AntiTerrorism #PakStandWithPeace #BLATerrorists
فتنہ الہندوستان کا بلوچستان دشمن چہرہ ایک بار پھر بے نقاب!
خاران کے علاقے گواش میں زیرِ تعمیر گورنمنٹ انٹر کالج اور مائن اینڈ منرلز لیبر ہسپتال کو نذرِ آتش کر کے شرپسندوں نے ثابت کر دیا کہ انہیں بلوچ عوام کی تعلیم، صحت اور ترقی سے شدید دشمنی ہے۔
اسکول جلاؤ، ہسپتال تباہ کرو ،آخر یہ کیسی ’’حقوق کی جنگ‘‘ ہے؟ یہ عمارتیں عام بلوچ بچوں کے مستقبل اور مزدوروں کے علاج کی امید تھیں۔ جو عناصر ترقیاتی منصوبے جلائیں، وہ بلوچستان کے خیرخواہ نہیں بلکہ بدترین دشمن ہیں۔
بلوچستان کو قلم، کتاب اور علاج چاہیے، آگ اور دہشت نہیں! 🇵🇰
کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے تھے کہ بلوچستان ہاتھ سے نکل گیا ہے!
یہ پنجگور ہے، وہ علاقہ جہاں فتنہ الہندوستان بڑے بڑے دعوے کرتا تھا کہ پاکستان کا جھنڈا نہیں چل سکتا
آج پنجگور کی ماوں بہنوں نے فتنہ الہندوستان کے خلاف یہ مظاہرہ کرکے دہشتگردوں کو انکی اوقات دکھا دی ہے۔