@ShayanA2307 I am 21 years old and a student of BSC EEC and I wholeheartedly accept PMLN and love Mian Muhammad Nawaz Sharif more than my heart and I am proud of PMLN and its leadership!
بانی پی ٹی آئی کے بارے میں چند غیر ملکی میڈیا اداروں میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ انہیں تنہائی، اہلِ خانہ سے محرومی اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی کا سامنا ہے۔ لیکن یہ حقائق کے منافی ہے ۔
ریکارڈ کے مطابق جیل میں اب تک تقریباً 198 ملاقاتوں میں 900 سے زائد وزٹر انٹریز ہوچکی ہیں، جن میں اہلِ خانہ، وکلا، ڈاکٹرز اور سیاسی شخصیات شامل ہیں۔ تقریباً 30 طبی معائنے مختلف ماہر ٹیموں اور اداروں سے کرائے گئے، جبکہ آنکھ کے علاج کیلئے باقاعدہ انجیکشنز اور فالو اَپ بھی ہوا۔
انہیں سات سیلز پر مشتمل علیحدہ کمپاؤنڈ، ورزش، ٹی وی، کتابوں، گھر کے کھانے اور مخصوص خوراک کی سہولت بھی حاصل ہے۔ ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خود حالیہ گفتگو میں انہیں “100 فیصد فٹ” قرار دے چکی ہیں۔
ان کے بیٹوں کے پاس بھی درست NICOP موجود ہیں، یعنی پاکستان آنے پر کوئی قانونی پابندی نہیں۔
اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن صحافت کا تقاضا ہے کہ سیاسی الزامات کے ساتھ دستاویزی ریکارڈ بھی بتایا جائے۔ یکطرفہ بیانیے کو خبر بنا کر پیش کرنا صحافت نہیں، پروپیگنڈا ہے۔
CM Maryam Nawaz decides to introduce AI-powered scanners for patients across Punjab.
🔹CM Maryam Nawaz was briefed by executives of renowned Chinese company Alibaba during a meeting.
🔹AI-powered multi-disease scanning can diagnose 10 diseases within just two minutes
Zafer Bayramı’nın bu anlamlı ve coşkulu vesilesiyle, değerli kardeşim, Türkiye Cumhurbaşkanı Sayın Recep Tayyip Erdoğan’ı, Türkiye Cumhuriyeti Hükümeti’ni ve kardeş Türk halkını en içten tebriklerimle kutluyorum.
30 Ağustos, Gazi Mustafa Kemal Atatürk’ün liderliğinde kazanılan ve modern Türkiye Cumhuriyeti’nin temellerini atan tarihî zaferi simgelemektedir. Pakistan, Türk kardeşleriyle birlikte, cesaretin ve millî iradenin bu gurur verici mirasını onurlandırmaktadır.
Pakistan ile Türkiye arasındaki bağlar, yüzyıllar boyunca ortak inanç, tarih ve mücadelelerle yoğrulmuş, kalplerden gelen kardeşlik bağlarıdır. Bugün iki ülkemiz, Suudi Arabistan Krallığı’nın da kardeşçe yer aldığı Mekke Müşterek Savunma Anlaşması aracılığıyla, ortak güvenlik ve kolektif caydırıcılık hedefi doğrultusunda bu kadim kardeşliğin stratejik boyutunu bir kez daha teyit etmiştir.
Pakistan, iki ülkemizin ortak refahı ve güvenliği için Türkiye ile stratejik ortaklığını her alanda daha da derinleştirme konusundaki sarsılmaz kararlılığını sürdürmektedir.
Pakistan ile Türkiye arasındaki daimî dostluk ve kardeşliğin nesiller boyunca daha da güçlenerek ve gelişerek devam etmesini diliyorum.
Yaşasın Pakistan–Türkiye Kardeşliği!
@RTErdogan
Shah g, Zionists are clamouring to protect their project. Their desperation is understandable. Media coverage in the middle of a Test match doesn’t come easy.
ہسپتال کے تمام عملے کی ریسکیو 1122 کے تعاون سے تربیت یقینی بنائی جائے گی۔ پیڈز اور ایمرجنسی میں صرف تربیت یافتہ نرسز تعینات ہوں گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اور مؤثر طبی امداد یقینی بنائی جا سکے۔
لاہور ریلوے اسٹیشن کے باہر 32 کنال سے بڑھا کر 52 کنال پر محیط پارک ایریا کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر جدید اور خوبصورت بنا دیا گیا ♥️👏
سولر لائٹس، ڈانسنگ فاؤنٹینز، کافی شاپس، بیٹھنے کی سہولت، 250 سے زائد گاڑیوں کی پارکنگ اور زیرِ زمین بارشی پانی ذخیرہ کرنے کا نظام، لاہور کی بدلتی تصویر کا عملی ثبوت ہیں۔
ہم بڑی بدمعاشی سے ٹوئٹر اور ٹاک شوز میں خاور گھمن چوہدری غلام حسین اسد اللہ ثمینہ پاشا ایثار رانا اور ایسے بہت سے دوسروں سے لڑجاتے تھے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کے دشمن ہیں ۔ یہ تو بعد میں پتا چلا یہ تو ہماری ہی ٹیم کے سینئر پلئرز ہیں ۔
کوہ تکتو پہاڑ میں 75 سے زائد مارخوروں کا جونڈ ایک ساتھ دیکھ گیا
کوه تکتو (Takatu Mountain) بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے شمال مشرق میں واقع کوه سليمان سلسلے کا ایک مشہور اور بلند پہاڑ ہے
چارسدہ کا وہ مجرم جس نے 3 بھائیوں کو قتل کر دیا تھا ایجنسیاں اس مجرم کو ملائشیاء سے پکڑ کر پاکستان کی عدالت میں پیش کردیا۔ اور کل عدالت نے ثبوت ناکافی ھونے پر 4لاکھ کی ضمانت پر رھا کر دیا
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد نواز شریف، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم افتخار گیلانی اور سپیکر طارق فاروق کی ملاقات
ترکیے کی صدر اردوان کے خلاف اسرائیلی بیان کی شدید مذمت
اسرائیلی ادارے نازی پروپیگنڈا مشین کی طرح کام کرتے ہیں،
غزہ میں نسل کشی کا مر تکب نیتن یاہو قانونی، سیاسی دونوں محاذوں پر ناکام ہے ،
عالمی برادری اب نیتن یاہو حکومت کے جھوٹ پر یقین نہیں کرتی،
صدر اردوان نے نیتن یاہو کے جرائم کے خلاف دیانت دارانہ پر عزم موقف رکھا ، ترک وزارت خارجه
وزیراعظم کی سرپرستی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی شعبے میں اہم پیش رفت
وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی سے سعودی وزیرِ ماحولیات، پانی و زراعت اور وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے درمیان کامیاب مذاکرات، مشترکہ اعلامیہ جاری
مشترکہ اعلامیہ
اسلامی جمہوریہ پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے مابین زرعی اور غذائی تحفظ کی شراکت داری کے فروغ کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ
1۔ حکومتِ پاکستان کی دعوت پر وزیرِ ماحولیات، پانی و زراعت عزت مآب انجینئر عبدالرحمٰن اے۔ الفضلی کی قیادت میں سعودی وفد نے 26 سے 28 اگست 2026ء تک اسلام آباد کا دورہ کیا۔ وفد میں وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت، جنرل فوڈ سکیورٹی اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے سعودی وفد سے ملاقات کی اور تفصیل میں ممکنہ تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کی جانب سے وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق عزت مآب رانا تنویر حسین نے کی، جبکہ وفد میں سیکرٹری تجارت جواد پال، سیکرٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق عامر علی احمد، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ احمد عمیر اور پاکستان کے چاول، سرخ گوشت، پراسیسڈ فوڈ/فروٹ کنسنٹریٹ اور سبز چارے کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے نجی شعبے کے نمائندگان شامل تھے۔ دورے کے دوران پاکستان-سعودی عرب ایگریکلچر اینڈ فوڈ اسٹریٹجک پلان پر بریفنگ، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC)، فوجی فاؤنڈیشن، پاکستان-سعودی عرب ایگری بزنس فورم کے ساتھ ملاقاتیں اور نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (NARC) کا دورہ بھی کیا گیا۔
2۔ دونوں فریقین نے 1947ء سے جاری پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا۔ دونوں جانب سے سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت غذائی تحفظ کی ترجیحات اور پاکستان کے زرعی و غذائی برآمدی شعبے کے درمیان موجود مضبوط باہمی ہم آہنگی کو اجاگر کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس مشترکہ عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی زرعی و غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کیلئے برآمدات کو 3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچایا جائے، جس کے لیے آئندہ دو سال کے دوران اس ہدف کے حصول کی کوشش کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے سعودی نجی شعبے کے ساتھ مل کر چاول، سرخ گوشت، پھل اور ان کے کنسنٹریٹس، سبز چارہ اور پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی زرعی ٹیکنالوجیز کو ترجیحی شعبوں قرار دیا گیا۔
3۔ چاول کے حوالے سے دونوں جانب نے نوٹ کیا کہ پاکستان نے 2025ء میں سعودی عرب کی چاول کی درآمدی منڈی کو تقریباً 169,000 ٹن چاول فراہم کیے، جن کی مالیت تقریباً 163 ملین امریکی ڈالر تھی۔ سعودی وفد نے آئندہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان چاول کی دوطرفہ تجارت مزید بڑھانے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔
4۔ سرخ گوشت کے شعبے میں دونوں فریقین نے پاکستان کی جانب سے سالانہ تقریباً 30,000 ٹن سرخ گوشت کی فراہمی، جس کی مالیت تقریباً 167 ملین امریکی ڈالر ہے، کا جائزہ لیا۔ سعودی وفد نے پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمد کو بتدریج دوگنا کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
5۔ پھلوں اور ان کے کنسنٹریٹس کے حوالے سے دونوں جانب نے سعودی عرب میں پاکستان کے برآمدی حصے کو مزید بڑھانے کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ دونوں فریقین نے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط اور میچ میکنگ کو آسان بنانے اور معیار کی سرٹیفکیشن کی باہمی منظوری کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔
6۔ سعودی فریق نے سبز چارے کو تجارت میں وسعت اور طویل المدتی سپلائی پارٹنرشپ کے قیام کے لیے ایک امید افزا شعبہ قرار دیا۔ دونوں ممالک نے بھکر، پنجاب میں پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی آبپاشی پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے مجوزہ دوسرے مرحلے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ سعودی وفد نے پاکستان کو انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل میں شمولیت اختیار کرنے کی بھی ترغیب دی، جس کا پاکستانی جانب سے خیرمقدم کیا گیا.
7۔ دونوں فریقین نے لائیو اسٹاک، ایگری فوڈ پراسیسنگ اور چاول کی ویلیو چین کے شعبوں میں پاکستان کے نجی شعبے کی جانب سے پیش کردہ سرمایہ کاری تجاویز کا بھی جائزہ لیا اور ان مواقع پر باہمی تعاون کے لیے رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
8۔ دونوں ممالک نے اپنی وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کا اعادہ کیا۔ سعودی عرب میں منعقد ہونے والی 43ویں سعودی ایگریکلچر نمائش، جو 19 سے 22 اکتوبر 2026ء کو ریاض میں ہوگی، میں شرکت کی دعوت کا خیرمقدم کیا گیا۔ دونوں جانب نے دورے کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور ان باہمی مفاہمتوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔