بس اپنے کسان کو فائدہ نہی دینا ہے اب بیرون ملک سے گندم منگوا رہے جبکہ اپنی فصل اتارے ابھی دو مہینے نہی ہوئے ہیں گندم شارٹ ہو گئی ہے
چونتیس کروڑ ڈالر کی یہ گندم منگوا رہے جو ڈیوٹی فری ہو گی
ایک زرعی ملک جو پورے براعظم افریقہ سے زیادہ گندم پیدا کر سکتا وہ گندم اور کپاس بیرون ملک سے منگوا رہا ہے
اور ناکامی اور تباہی کسے کہتے ہیں ؟
آئی ایم ایف ہمکو سستی بجلی فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے رہا: وزیر توانائی
جبکہ IMF ججوں ، وزیروں ،مشیروں، بیوروکریٹس کو سالانہ 34 کروڑ یونٹ فری بجلی دینے کی اجازت ضرور دیتا ہے نا.
لکھ دی لعنت ایسے IMF پہ اور ایسے قانون بنانے والوں پہ کہ لاکھوں کمانے والا فری بجلی بھی لے گا.
پنجاب کی تقسیم کی بات اس لئے ہوتی ہے کہ یہ ہر سال ہزاروں ارب کے موتیوں جیسے اناج کے دانے اگل دیتا ہے۔ باقیوں کے پاس بیابان صحرا، کلراٹھی بانجھ زمین، اور معدنیات کی لوریوں کے علاوہ کچھ نہیں، جنہیں چاٹ کے انسان مر تو سکتا ہے زندہ نہیں رہ سکتا۔
خیال امروز
آپ اندازہ کریں کہ 254 روپے سرکاری ریٹ والی گھریلو استعمال والی گیس 450 تک مل رہی ہے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب کا کشمیر الیکشن اور اسکے جشن پہ اتنا دھیان ہے کہ انکو پتا ہی نہیں کہ پنجاب میں بھی انکی حکومت ہے.
مجال ہے کوئی ایکشن لیا ہو یا بیان ہی دیا ہو یا کسی سے پوچھا ہو.
اس سال پنجاب میں پینشنر کو صرف تین فیصد اضافہ دیا ہے مریم نواز صاحبہ ٹیچرز وغیرہ کو بھی بوجھ کہتی ہیں مگر ججوں کو پہلے تو سرکاری گاڑیاں ڈھائی لاکھ تک میں خریدنے کی پالیسی لائی اب ماتحت ججوں کی گاڑی کی سہولت ختم کر کے ایک لاکھ ستر ہزار روپے ماہانہ گاڑی کا خرچہ دیں گے اس کے علاوہ ہاؤس رینٹ اور اردلی وغیرہ کے نقد پیسے اس کے علاوہ ہوں گے
میری اس پوسٹ کے بعد لوگ مجھے وہابی دیوبندی یا جو کچھ بھی کہیں مجھے نہیں پرواہ لیکن میں یہاں ایک سچ پر مبنی تحریر لکھنا چاہتا ہوں۔
حضور (ص) کے بعد اس دنیا میں سب سے عظیم ہستیاں صحابہ اکرام کی ہیں۔
اگر کبھی آپ سعودیہ جاؤ تو وہاں آپکو صحابہ کی قبریں بھی عام لوگوں کی قبروں کی طرح نظر آئیں گی۔
وہاں انکا کوئی مزار درگاہ نہیں بنایا ہوا نہ ہی کوئی عرس لنگر نیاز یا دھمال ہوتی ہے۔
لیکن ہمارے پاکستان میں بزرگوں کے مزارات درگاہیں عرس لنگر نیاز دھمال مرادیں پتہ نہیں کیا کیا شرک چل رہا ہے۔
میں تو کہتا ہوں یہ سارے مزارات اور درگاہیں مسمار کردینی چاہی ہیں صرف بزرگ کی قبر چھوڑ دیں جہاں پر اگر کسی نے فاتحہ کے لیئے جانا ہے تو جاۓ۔
یہ جو عرس اور چندے کے نام پر گدی نشین اور درگاہوں کے متوالی بے وقوف لوگوں سے پیسہ بٹور رہے ہیں یہ سب بند ہونا چاہی ہے۔
یہ مزارات شرک کی فیکٹریاں ہیں۔
آپ یہ دیکھیں کہ براعظم افریقہ میں 54 ممالک ان سب کی مجموعی گندم کی پیداوار 24 سے 29 ملین ٹن ہوتی ہے پنجاب اکیلا چوبیس ملین ٹن تک گندم پیدا کرتا رہا ہے ایک زمانہ میں پنجاب پورے براعظم افریقہ سے زیادہ گندم پیدا کرتا تھا
پنجاب پاکستان کی گندم کا 76 فیصد پیدا کرتا ہے مگر کیا کسی نے سوال کیا کہ پنجاب حکومت کا دعویٰ تھآ کہ پنجاب نے 22ملین ٹن گندم اس سال پیدا کی جو مریم نواز کی بہترین پالیسیوں کا نتیجہ ہے جبکہ پنجاب کی اپنی گندم کی ضرورت 16 ملین ٹن ہے یعنی ضرورت سے سات ملین ٹن زیادہ گندم تھی تو تین مہینے میں گندم بیرون ملک سے کیوں منگوانی پڑ رہی ہے ؟
کون ذمہ دار ہے ؟
جب نواز شریف نے بطور وزیراعظم ایک اٹھارہ سکیل والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا تو سینئر صحافی نصرت جاوید نے ایک اہم نکتہ اٹھایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے صرف اپنی ذات نہیں، بلکہ وزیراعظم کے ادارے کو ڈی ویلیو کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر وہ ڈٹ جاتے پیش ہونے سے انکار کر دیتے ، یا استعفیٰ دے کر گھر چلے جاتے، تب بھی وزارتِ عظمیٰ کی وقعت زیادہ محفوظ رہتی۔ انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ جب ایک بار اس عہدے کی ادارہ جاتی حرمت ٹوٹ جائے تو پھر ایسا وقت بھی آئے گا کہ ایک ایس ایچ او بھی وزیراعظم کو طلب کرنے کی جرات کرے گا۔
ریاستی اداروں میں عہدوں کی طاقت صرف آئینی اختیارات سے نہیں، بلکہ ادارہ جاتی وقار سے بھی قائم رہتی ہے۔ جب یہ وقار مسلسل کمزور کیا جائے تو اصل اختیار بھی رفتہ رفتہ منتقل ہو جاتا ہے۔
آج عمران خان کے دور سے لے کر شہباز شریف کے دور تک یہی منظر واضح دکھائی دیتا ہے۔ عملی سیاست میں صورتِ حال یہ ہے کہ محسن نقوی جیسے غیر منتخب طاقتور کردار وزیراعظم پر حاوی دکھائی دیتے ہیں، جبکہ وزیراعظم کا منصب محض رسمی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ کسی ایک شخصیت کا نہیں، بلکہ وزارتِ عظمیٰ کے ادارے کی مسلسل بے توقیری کا نتیجہ ہے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں 7 اکتوبر 1998 کو سابق آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو ایک تقریر میں گورننس پر اعتراض کرنے کے بعد استعفی دینا پڑا۔
30 جولائی 2026 کو وزیر داخلہ مُحسن نقوی نے کہا کہ گورننس، نظام سب فیل ہو چُکا ہے۔ اب وزیر اعظم شہباز شریف ہیں۔
کون جائے گا؟
گھریلو استعمال والی گیس کا پنجاب میں سرکاری ریٹ 254 روپے کلو ہے.
اس وقت فیصل آباد میں فی کلو 440 مل رہی ہے... کوئی پوچھنے والا نہیں ہے انکو حکومت بھی ڈاکو، اور پٹرول گیس مافیا بھی ڈاکو.
عوام بیچاری پس گئی ہے انکے ظلم سے، اگر کوئی آواز اٹھاتا ہے تو وہ یا یوتھیا ہوجاتا ہے یا غدار
ایک بات میں نے اور نوٹ کی ہے اگر حکومت اور فوج سو فیصد ایک پیج پر ہو تو سیاسی حکومت کی گردن میں سریا آ جاتا ہے وہ عوام پر وہ وہ ستم ڈھاتی بجلی گیس پیٹرول کی قیمت میں کھال کھینچ لیتی ہے
عوام کی بھلائی اسی میں ہوتی اگر ان کے تعلقات میں اونچ نیچ ہو حکومت کو لگے وہ جانے والی ہے پھر ان کو سول سپریمسی جمہور عوام ان کے حق یاد آ جاتے ہیں
انہیں یہی کیڑا 2010 میں کاٹنا شروع ہوا تھا- تب انہوں نے اپنی لیبارٹری میں ویکسین تیار کرنا شروع کی جو 2018 میں قوم کو لگائی گئی لیکن تجربہ بری طرح ناکام ہوا- پھر 2022 میں اسکا اینٹی ڈوٹ لگایا گیا- ابھی قوم ویکسین کے سائیڈ افیکٹس سے پوری طرح نکلی بھی نہیں کہ انہیں وہی کیڑا دوبارہ کاٹنا شروع ہو گیا-
ویسے شہباز حکومت ابھی کہیں نہی جا رہی ہے مگر اندازہ لگا لیں کیسے نازک آشیانہ ہے اور اگر آج ان کے پاؤں کے نیچے سے قالین کھینچ لی جائے تو نون لیگ سیاسی طور پر کہاں کھڑی ہو گی عوام میں سے کون ان کے لئے نکلے گا آنہوں نے سوائے الیٹ کے اس حکومت میں کس کو کوئی ٹکے کا رلیف نہی دیا ہے
نواز شریف کی ساری سیاسی کمائی لٹا دی اور بدلے میں کیا لیا ؟
اس سوال پر ڈیٹا کے ساتھ بات کرنا چاہیے جس پر حکومتی راتب خور لکھتے ہیں پاکستانی ٹیکس نہی دیتے ہیں
پاکستان میں تمام ایکسپورٹر نے 174 ارب کا انکم ٹیکس دیا ہے جبکہ رئیل اسٹیٹ اور ریٹیلر کا ٹیکس 278 ارب ہے
پاکستان میں تنخواہ دار طبقے نے 634ارب ٹیکس دیا ہے
اب آپ چیک کر لیں جو اقتدار میں انہی کے بزنس اور انہی کے راتب خور شور ڈالتے کہ عوام ٹیکس نہی دیتی ہے
ابھی چند سال پہلے تک اسد قیصر ففٹی سی سی ہنڈا پر گھوما کرتے تھے اور آج لندن میں اپنی فیملی کے ساتھ اپنے ذاتی ولا میں کرکٹ کھیل رہے ہیں جبکہ مولانا طارق جمیل نے ہمیں کہا تھا اسد قیصر مدینہ جیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں ائیں ان کے ہاتھ مضبوط کریں
جوش جذبات میں رضی دادا نے بھی پی پی کو چند جواب دیے تھے پھر نون لیگ کی وزارت اطلاعات نے راتوں رات ان کی پی ٹی وی کی نوکری ختم کروا دی تھی بات وہیں پر نہی رکی تھی ان کی باقی میڈیا جاب بھی ختم کروائی گئیں بطور تجزیہ نگار چینل پر جانے پر پابندی لگی سو اتنے جذبات دیکھائیں جتنوں کے اثرارت سنبھال سکتے ہیں
پہلے افسران خود فیلڈ میں جا کر حالات کا جائزہ لیتے تھے، کام کو دیکھتے تھے، اپنی آنکھوں سے تصدیق کرتے تھے۔ آج کل اکثر فیصلے اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر صرف تصاویر اور رپورٹس کی بنیاد پر ہو جاتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ کسی ایک جگہ معمولی سا کام کر کے تصویر کھینچ لی جاتی ہے، پھر وہ اوپر سے اوپر جاتی ہے اور آخر میں رپورٹ بن جاتی ہے کہ پورے علاقے کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ حقیقت میں مسائل اپنی جگہ موجود ہوتے ہیں۔
ٹیکنالوجی خود مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا غلط استعمال اصل خرابی ہے۔ جب زمینی حقائق کی جگہ صرف تصویروں پر انحصار کیا جائے تو کام کاغذوں میں مکمل نظر آتا ہے،
عوام کی زندگی میں نہیں۔
اصل ریفارمز تب آئے گی جب ڈیجیٹل رپورٹ کے ساتھ ساتھ فیلڈ ویریفیکیشن اور جوابدہی بھی لازم ہو۔ اور رائے طلبی بھی ہو۔