حیرانی ہے کہ پاکستانی میڈیا انڈیا کی اتنی بڑی ٹُھکائی پر کیوں نہیں بول رہا؟
چین نے ارونچل پردیش میں سات آٹھ کلومیٹر اندر گُھس کے اپنی چوکیاں بنا لی ہیں اور یہ واہگہ بارڈر پر اپنی فلمیں پروموٹ کررہے ہیں
سکوٹی پر سوار لڑکی پر تشدد کرنے والے ملزم کو لاہور پولیس نے رات ہی کو گرفتار کر لیا تھا۔خواتین اور بچے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ریڈ لائن ہیں۔ ایسا رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
#MaryamNawaz#PunjabPolice
فرانس میں فسادات کے بعد فوری انصاف کیلئے عدالتیں بنا دی گئی ہیں ٹرائل کا اوسط دورانیہ ایک گھنٹے سے بھی کم کا ہے سزا پانے والوں میں سے اکثریت کی عمر 25-18 کے درمیان ہے گرفتار افراد کی تعداد 2500 ہے ابھی تک 217 کو سزا سنا دی گئی ہے وزیر انصاف نے استغاثہ کو حکم دیا ہے کہ عدالتوں سے سخت سے سخت سزا کی استدعا کریں کیونکہ ان لوگوں نے پرامن مظاہرین کو بھی فسادات پر مائل کیا
What We Saw at Fast-Track Trials of Riot Suspects in France https://t.co/fwAbipY0RZ via @NYTimes
یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر انسان سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر وہ قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں کر کے بچ نکلیں گے۔
بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں، چاہے اُن پر ظلم کرنے والا کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ کسی کی دولت، اثر و رسوخ یا سیاسی تعلقات اُسے قانون کے کٹہرے میں جواب دہ ہونے سے نہیں بچا سکتے۔
انصاف صرف امیر اور طاقتور لوگوں کا حق نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، اور کسی مظلوم کو محض اس لیے تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا کہ اُس کے خلاف کھڑا ہونے والا شخص دولت اور طاقت رکھتا ہے۔
میرا عزم واضح ہے: مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی، اور کسی کو بھی اپنے پیسے یا طاقت کے بل بوتے پر قانون سے بچ نکلنے کا حق نہیں دیا جا سکتا-
لاھور کے علاقے مزنگ میں ایک خبیث موٹرسائیکل سوار کا اسکوٹی پر آنے والی طالبہ پر بہیمانہ تشدد ،تشدد سے لڑکی کی ناک کی ھذی ٹوٹ گئی،بیگ میں موجود لیپ ٹاپ ٹوٹ گیا۔
In a recent rape case, it was revealed that the accused’s wealthy family allegedly offered 1.5–2 crore to the victim in exchange for withdrawing her allegations, despite her statement already having been recorded under Section 164. It was further alleged that the judge who granted bail to the accused had also been bribed. If these allegations are true, they raise deeply disturbing questions about the integrity of the justice system and the vulnerability of rape survivors to financial pressure and the misuse of power. I will continue to keep a close eye on such cases to ensure that no rapist or perpetrator escapes justice simply because he has money, influence, or connections. Justice must never be for sale, and no one should be above the law.
وفاقی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری ‼️
پی ٹی آئی کی سابق حکومت کے غیر سنجیدہ اقدامات پرتشویش کااظہار، اعلامیہ
پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ، اعلامیہ
وزیراعظم کو12اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، اعلامیہ
دہشتگردی کیخلاف جنگ میں شہداء کی قربانیوں کوخراج عقیدت پیش کیاگیا، اعلامیہ
خیبرپختونخوا میں امن واستحکام کے قیام کے اقدامات پر غور، اعلامیہ
دہشتگردی کیخلاف جنگ میں شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا،اعلامیہ
خیبرپختونخوا میں امن و استحکام کے قیام کے اقدامات پر غور، اعلامیہ
عورتوں کی تعلیم پرپابندی پر تنقید کے بعد جب سہیل شاہین کو پتہ چلا جناب ہبت اللہ نے اس کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دئیے ہیں تو یہ کابل ائرپورٹ بھاگا اور دوحہ کی فلائیٹ دستیاب نہ ہونے کے باعث بھارت جاتی فلائیٹ پر بیٹھ کے ممبئی پہنچ گیا اور وہاں سے پھر دوحہ پہنچا کیوں کہ اس وقت بھارتی طیاروں کے لئے پاکستان کی فضائی حدود کھُلی تھیں۔ اس کے بعد یہ کبھی افغانستان واپس نہیں آیا۔ اگرفاروقی صاحب کو اسی قدر آگ لگی ہوئی ہے تو یہ دوحہ پہنچیں سہیل شاہین فارغ ہے آج کل۔
@nytimes افغانستان پر حکمرانی کرنے والے ایک مسلح گروہ کو ’’افغان فوج‘‘ اور اس کے جنگجوؤں کو ’’افغان فوجی‘‘ کہنے سے اسے قانونی حیثیت نہیں مل جاتی۔ سرحد پار دہشت گردی کو ’’دوطرفہ تنازع‘‘ بنا کر پیش کرنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
کیا نیویارک ٹائمز نائن الیون کو بھی ’’تنازع‘‘ قرار دیتا، جب طالبان کی پناہ میں موجود اسامہ بن لادن نے تقریباً تین ہزار امریکیوں کی جان لی؟ پھر طالبان کی پناہ گاہوں سے سرگرم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کے ہاتھوں صرف ۲۰۲۶ میں ۱،۴۲۹ پاکستانیوں کی ہلاکت اور ۲،۶۷۹ کے زخمی ہونے پر الفاظ اور معیار کیوں بدل جاتے ہیں؟ پاکستانی مقتولین بھی اپنے پیچھے بیوائیں اور یتیم چھوڑ جاتے ہیں۔
پاکستان نے چار سال سفارت کاری میں صرف کیے۔ متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین کی کوششیں بھی طالبان سے دہشت گردی کے خلاف قابلِ تصدیق ضمانتیں حاصل نہ کر سکیں۔ پاکستان کا ردِعمل اچانک یا بلاوجہ سامنے نہیں آیا۔دہشت گردی کی سرپرستی کوئی ’’تنازع‘‘ نہیں۔ پاکستانی جانوں کے معاملے میں بھی وہی اخلاقی وضاحت درکار ہے جو امریکی جانوں کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔
نیویارک ٹائمز کو اس دوہرے معیار پر شرم آنی چاہیے۔
جب راستے دھندلا جائیں، فیصلے مشکل ہو جائیں اور دل بےچین ہو تو بندۂ مومن کے پاس ایک خوبصورت دعا ہوتی ہے:
رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا
اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے ہر معاملے میں ہمارے لیے بھلائی، آسانی اور درست راہ مقدر فرما۔ آمین یا رب 🤲
یہ انتظامیہ خیبرپختونخوا میں پہلے بھی موجود تھی مگر اب متحرک ہوئی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی سرپرستی میں لوگوں نے سرکاری زمینوں پر قبضہ کیا ہوا تھا۔حکومت کے خاتمے کے بعد تجاوزات کا خاتمہ بھی تیزی سے جاری ہے۔
مورخ لکھے گا تاکہ سند رہے
اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو دن کے اجالے میں گھر میں گھس کر شکست فاش دینے والے فیلڈ مارشل کی تکریم ولی عہد سے بہتر کسی نے نہیں کی اور وہ دن آج بھی یاد ہے جب فیلڈمارشل اور وزیراعظم کا جہاز سعودی فضاؤں میں تھا اور سعودی فائٹر جہازوں نے فرشی سلام پیش کیا تھا
ذرا وہ آرٹیکلز بتا دیجئے جن سے جج بے اختیار ہوئے ہیں۔ کس آرٹیکل میں لکھا ہے ایسا لگتا ہے موصوف کو صرف آئین میں تحریف کرنے والے جج پسند ہیں جو یہودیوں کی یونیورسٹیوں میں گانا بجانا کرتے ہیں اور جہاں پڑھانے کا ڈھونگ کرتے ہیں اس ادارے کے اربوں کا ٹیکس دبڑ دوس کرواتے ہیں اپنے اسکولوں کے کیس خود فیصلہ کرتے جعلی ڈگریوں پر جج بنتے ، یتیموں کی اربوں روپے کی جائیداد کوڑیوں میں اپنے نام کراتے ہیں
گوادر واقعہ
تفصیلات کے مطابق، بی ایل اے کے دہشت گردوں نے تعمیراتی کمپنی کے پہلے سے خالی کیمپ کو نشانہ بنایا اور چند ٹرکوں کو آگ لگائی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بلوچستان کے سرکاری ذرائع نے سیکیورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کے دفتر یا کیمپ پر حملے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔