یہ ملک ھم سب کا ھے اس کے آئین وقانون کی رو سے آپ عوام کو امن وامان دینے کے زمہ دار ھیں جب ھم آپ سے آپ کی مسئولیت کا سوال کرتے ھیں، جب ھمارے رھبر مولانا فضل الرحمن آپ کی ناکام پالیسیوں پر تنقید کرتے ھیں تو آپ ان کی کردار کشی کرتے ھیں اور ھرزہ سرائی پر اتر آتے ھیں
جب آپ بلوچستان، کےپی کے فاٹا اور سندھ کے کچے کے عوام کو امن دینے میں بھی ناکام ھونگے
جب آپ عوام کو روزگار اورمعاش دینے میں بھی ناکام ھونگے
جب آپ روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اس پیسے سے عیاشیاں کریں گے
جب آپ اھل بلوچستان اور ان کے بڑوں کو اسلام آباد بلا کران کی توھین کریں گے
جب آپ مینڈیٹ چوری کریں گے
اور جب آپ ھارڈسٹیٹ کے نام پر سیاست اور سیاستدانوں کا گلہ گھونٹیں گے
جب آپ پارلیمنٹ کو گھر کی لونڈی بنائیں گے
تو یاد رکھو
آپ اس ملک کے مالک نہیں ھو ھم ھیں، ھم آپ سے بدامنی کا سوال بھی کریں گے اور آپ کو امن دینا بھی ھوگا اور ھم جمعیت کے کارکن اپنے رھبر مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں کل بھی آپ کی فرعونیت کے منکر تھے آج بھی منکر ھیں اور کل بھی منکر رھیں گے ان شاءاللہ
#رہبر_ملت_مولانا
#ہم_فرعونیت_کے_منکر
#ملک_عوام_کا_ہے
#تنخواہ_دار_مالک
#بدامنی_کا_حساب_دو
یاد رکھو ڈیجیٹل میڈیا پر گندگی اور غلاظت پھیلانے کیلئے قومی خزانے کا مزید ضائع کرنا بند کرو۔ یہ لائن کسی نے غلط دی ہے ، رعب داب یہاں کام نہیں کرے گا ۔
یہ جو تم نے چند ڈیجیٹل دلالوں کو اپنی عیاشیوں پر پردہ ڈالنے ، قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے ، اور اپنی جھوٹی تعریفوں کے پل باندھنے کیلئے تعینات کر رکھا ہے یہ ایڑی چوٹی کا زور لگاکر بھی عوامی قوت کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔
ہم ان کی اصلیت بہت پہلے سے جانتے ہیں یہ ہر ایک کو پرانی تنخواہ پر میسر آتے ہیں ۔ ہم ان کا کردار اور قیمت اچھے سے جانتے ہیں بہت سستے اور گرے ہوئے لوگ ہیں ۔
ہم نے تو تمہارے زرخرید ان چند درباریوں کو بھی کہیں کا نہیں چھوڑا جو پیٹھ میں چھرا گھونپ کر تمہارے قدموں میں کامیابی تلاش کرنے نکلے تھے اور اب رسوا زمانہ بن چکے یہ کس کھیت کی مولی ییں ۔
مولانا فضل الرحمٰن کیخلاف مہم جوئی کی دوبارہ جرأت کی گئی تو اب کی بار ابابیل ان شاءاللہ ان ڈیجیٹل چمچوں کے چودہ طبق ایسے روشن کریں گے کہ پھر انہیں کبھی دیہاڑیاں لگانے کا وہم �� خیال تک نہیں آئے گا ۔
ڈیئر ابابیلو اپنے ایکس اکاونٹس کو فعال رکھیں ۔ کمزوریاں ختم کریں ، تاکہ ان قومی لٹیروں سے دوبارہ دو دو ہاتھ کرنے پڑیں بھی تو کم ازکم بعد میں کسی کی حسرت باقی نا رہے ۔
آپ کا بھائی
سمیع سواتی
مضبوط فوج ہر محبِ وطن کی خواہش ہے، مگر مضبوط جمہوریت اسی وقت ممکن ہے جب ہر ادارہ آئینی حدود میں رہ کر اپنا کردار ادا کرے۔
جرات اور بہادری کا استعارہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب
آج محسن نقوی صاحب نے جو باتیں کی ھیں وہ 1973 کے آئین کے تحت ان کے لیے گئے حلف سے روگردانی ھے انکو فوری طور اپنی وزارت سے استعفی دے دینا چاھئیے یا وزیراعظم کو فی الفور انکو وزارت سے سبکدوش کردینا چاھئیے
#شہدائےجمعیت_باجوڑ#سالار_امن_مولانا#پیغام_امن_جمعیت#عوام_کو_جینے_دو
#ابابیلوں_کا_شکریہ