عمران خان اپنی قوم کی جنگ لڑ رہا ہے وہ کبھی اپنی قوم کو اکیلے نہیں چھوڑے گا۔ میرا بھائی جیل میں قید ہے میرا بھانجے کو ملٹری کورٹس سے سزا دلوائی گئی وہ بھی جیل میں قید ہے ہمارا جرم کیا ہے۔۔ علیمہ خان
آرمی چیف صاحب کو یقیناً علاج کی ضرورت ہے۔ اس ملک میں خواتین کے ساتھ جو کچھ انکے زیرسایہ ہوا ایسا ظلم، جبر، بدتمیزی، بدتہذیبی کسی دور میں نہیں ہوئی۔ عدت کیس کے ماسٹر مائینڈ اور ۷۰ سالہ کینسر کی مریضہ کو بغیر کسی جرم کے دو سال سے جیل میں رکھنے کا اعزاز بھی انہیں ہی جاتا ہے۔ خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی چارج شیٹ بہت طویل ہے۔
عمران خان نے ٹھیک کہا تھا “جھوٹ بولنا بند کریں”
🔥 بڑا بیان ! میں آپ سے ایسے لیڈر کا ذکر کروں گا جو انصاف ،سالمیت اور عوامی مدد کی ایک مثال ہے جو نہ صرف اپنے ملک کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے مثال ہے "وہ عمران خان ہے"جو سچ بولتا ہے جس نے اپنی انتھک محنت سے لوگوں کی فلاح اور ملک کی ترقی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہے۔رچرڈ گرینل
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
“تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق جدوجہد کی ہے مگر ملک پر مسلط مافیا ہمیشہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے- 9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام اور انڈر ٹرائل اسیران کی رہائی ہمارے جائز مطالبات ہیں-
میں سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے مؤخر کر رہا ہوں، اس دوران تحریک کے خدوخال اور ٹائم لائن کا فیصلہ کروں گا-
سات ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہمارےلیے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا ضروری ہو چکا ہے:
۱۔ 2023 میں لندن پلان کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے الیکشن آئین کے برخلاف 90 دن کے اندر نہیں کرائے گئے۔ کیونکہ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کو ختم کرنا مقصد تھا۔
۲- نو مئی سے پہلے ہی مجھ پر ایک سو چالیس سے ذائد مقدمات بنا دئیے گئے تھے۔ رینجرز نے مجھے اسلام آباد سے اغواء کیا جس کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا۔ نو مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کے تحت ہمارے لوگوں کو گرفتار کرنا مقصد تھا۔ دس ہزار افراد کو گرفتار کر کے جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ہمارے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں پہ تشدد کیا گیا ان کے گھروں کو توڑا گیا۔ ان کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا۔ ان کو عدالتوں سے ضمانت ملتے ہی کسی نئے جھوٹے پرچے میں گرفتار کر لیا جاتا۔ میرے اغوا سے لے کر کارکنان پہ تشدد، گرفتاریاں سب کچھ غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔
اس ظلم کے خلاف سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کی لیکن سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی ان بدترین خلاف ورزیوں کا نوٹس تک نہ لیا۔ قاضی فائز عیسیٰ حکومت کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ 1971 کے بعد کبھی کسی پارٹی پر اس طرح کا ریاستی جبر نہیں کیا گیا۔
۳- تمام غیر قانونی و غیر جمہوری حربوں کے بعد ان کو غلط فہمی تھی کہ 8 فروری کو تحریک انصاف الیکشنز نہیں جیت سکتی۔ سکندر سلطان راجہ اور قاضی فائز عیسیٰ نے مل کے پارٹی نشان چھینا جو پارٹی کو بین کرنے کے مترادف تھا۔ ہمارے امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تین تین امیدواروں کو زبردستی الیکشن سے دستبردار کرایا گیا۔
۴-ان کو انجینئرنگ کے ذریعے الیکشن جیتنے کا اس قدر یقین تھا کہ نواز شریف اپنی وکٹری سپیچ بھی کرنے کو تیار تھا لیکن تقریر سے پہلے ان کو پتہ چلا کہ تحریکِ انصاف الیکشن جیت گئی ہے۔ پھر انہوں نے فارم-47 کے زریعے الیکشن فراڈ کیا۔ کمشنر راولپنڈی نے اس فراڈ کو کنفرم کیا اور گواہی دی۔ لیکن اس پر بھی نظام انصاف خاموش رہا اور کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔
۵۔ اس رجیم چینج کے بعد کے ڈھائی سالوں میں یوں تو انصاف کے نظام پر قبضے کے لیے ہر جابرانہ اور غیر اخلاقی حربہ استعمال کیا گیا لیکن چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کی آزادی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا گیا۔ اپنی مرضی کے جج لگانے کے لیے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اس ترمیم کی منظوری کے لیے جو حربے استعمال کئے گئے وہ بھی ایک مضحکہ خیز داستان ہے، لیکن اس سارے معاملے پر بھی نہ عدلیہ نے کوئی نوٹس لیا نہ ریاست کا چوتھا ستون سمجھے جانے والے میڈیا میں اس کےخلاف آواز بلندکرنے کی اخلاقی جرات تھی۔
۶-سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے فیصلے کے باوجود تحریکِ انصاف کو آج تک مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں۔ یہ نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ عوامی فیصلے کی توہین اور جمہوریت پر شب خون بھی ہے۔
۷۔ 26 نومبر کو ہمارے پرامن اور نہتے سیاسی کارکنان پہ گولیاں برسائی گئیں۔ ہمارے کارکنان مکمل طور پہ پر امن تھے انہوں نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ ان کا مطالبہ آئین اور جمہوریت کی بحالی تھا- نہ تو لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال تھی نہ ہی کوئی اور پر تشدد کاروائی ہوئی لیکن اسکے باوجود ہمارے لوگ شہید کئے گئے۔ 12 لوگ مغرب سے پہلے شہید کئے گئے اور باقیوں کو رات بجلی بند کر کے گولیاں ماری گئیں۔
ان حالات میں جب پاکستانیوں سے تمام آئینی حقوق چھین لیے گئے ہیں، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے، پرامن احتجاج کا حق چھین لیا گیا ہے، قانون اور آئین کی بنیادیں ہلا دی گئی ہیں، اپنے ہی شہریوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں، اداروں کو عوام کے مقابلے میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا قوم کی مجبوری بن چکی ہے-
اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈران کو جیل میں ملاقات کے لئے ویلکم کرتا ہوں۔ پر مجھے اس حکومت سے امید نہیں ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈران کو مجھ سے ملاقات کی اجازت دیں گے۔ کیونکہ انہوں نے میری پارٹی کے لوگوں سے بھی تین مہینے سے میری ملاقات نہیں کروائی-“
The #Pakistan government deserves sanctions and diplomatic pressure because it brutally used force against and even massacred peaceful demonstrators, and it is using lawfare - the misuse of the legal system for political purposes - to keep Imran Khan in jail. It is time for change in Pakistan. The people of Pakistan want it, and they deserve it. #USA @EU https://t.co/ZT6s8taPUC
جس طرح ہر صحافی ہر بندہ آج رات کو بڑے آپریشن کی دھمکی کی خبریں دے رہا ہے اس سے سمجھ تو یہی آتی ہے کہ صرف خوف پھیلانے کی کوشش ہے۔ تا کہ لوگ گھبرا کر واپس چلے جائیں۔ تعداد تھوڑی رہ جائے اور دھرنا بے وزن ہو جائے۔
کیونکہ اگر واقعی کوئی اتنا بڑا آپریشن انڈر ہونا ہے تو سبھی کو کیسے پتہ ہے
عمران خان کا جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
پاکستانی قوم اور تحریک انصاف کے کارکنان کو سلام جو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے، پرامن احتجاج میں شامل ہیں اور ملک پر مسلط مافیا کے سامنے اپنے مطالبات اور حقیقی آزادی کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں
میرا اپنی ٹیم کو بھی پیغام ہے کہ آخری بال تک لڑیں، جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے
محسن نقوی کی ہدایات پر رینجرز اور پولیس نے ہمارے ورکرز پر فائرنگ اور شیلنگ کر کے پرامن شہریوں کو شہید اور زخمی کیا، اسے اس کا حساب دینا ہو گا!
شہری ناصرف پرامن تھے بلکہ شیلنگ اور فائرنگ کرنے والے پولیس اور رینجرز کو بھی ریسکیو کرتے رہے-
اوورسیز پاکستانیوں کا بھی شکریہ جو ناصرف پاکستان میں موبلائزیشن کر رہے ہیں، فنڈز بھیج رہے ہیں، بلکہ اپنے اپنے ملکوں میں بھی تاریخی مظاہرے کیے
سوشل میڈیا وارئیرز بھی دنیا بھر میں ہمارے مطالبات اور پاکستان میں جاری ظلم و ستم کی بھرپور کوریج جاری رکھیں!!
مجھے ملٹری کورٹ میں ٹرائل کی دھمکیاں دینے والوں کے لیے پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کر لو میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا
جو اب تک نہیں پہنچ پائے وہ بھی ڈی چوک پہنچیں
مظاہرے میں شامل تمام پاکستانی پرامن رہیں، متحد رہیں اور ڈٹے رہیں جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے- یہ پاکستان کی بقا اور حقیقی آزادی کی جدوجہد ہے!!
Over 60 Democratic lawmakers from the US House of Representatives on Wednesday urged President Joe Biden in a letter to secure the release of all political prisoners in Pakistan, including former Prime Minister Imran Khan, who has been in jail since his arrest in August last year.
الزام تراشیاں کرنی ہیں؟ انگلیاں اٹھانی ہیں آئیں میں آپ کے ساتھ اٹھاتا ہوں۔ ۹ اپریل کو ہی ڈٹ جاتے تو یہ سب نہ ہوتا۔ میں نے تو کہا تھا خان صاحب کو کہ جو آپ کو ہٹا رہے ہیں وہ اس لیے نہیں ہٹا رہے کہ آپ کو واپس آنے دیں گے۔ لڑ جاتے اسی دن۔ دیکھ لیتے کون کس پر لگاتا آرٹیکل ۶۔صحیح ہے ایسے؟
چلو پھر ۲۵ مئی کو تو واپس نہ جاتے۔ لوگ مرتے؟ تین سال سے مر ہی تو رہے ہیں۔ تب مرجاتے۔ یہ فوج اور عوام کو سامنے لارہے تھے، تو اب کیا ہوا ہے؟ تب ہی ہوجاتا، نہیں؟
۴ نومبر کو گولیاں کھا کر عمران خان کنٹینر کے دروازے پر آکر مکا نہ لہراتا۔ مسکراتا نہیں، ہر جانب آگ لگ جاتی۔ تبھی دھڑن تختہ ہوجاتا سب کا۔ وہی گھڑی تھی اسی دن فیصلہ ہوجاتا، نہیں؟
۹ مئی کو ہائیکورٹ کے احاطے سے غیر قانونی اغوا کرکے فالس فلیگ آپریشن کیا پھر الزام لگایا کہ زمان پارک میں دہشت گردوں کو مقیم کررکھا ہے۔ عمران خان نے زمان پارک کے کیمپ ہی خالی کرادیے۔ تھے ہم دہشتگرد بیٹھا رہنے دیتے ہمیں وہیں۔ بھیج دیا تو کون سا نیک نام ہوگئے، مطلوب تو اب بھی ہیں۔ آ کے دکھاتا پھر کوئی اور لے جا کے دکھاتا عمران خان کو۔ بتاتے ہم بھی پھر دہشتگرد کیسے ہوتے ہیں۔ کچھ غلط کہا؟
مگر یہ سب فیصلے تو عمران خان کے تھے نا؟ میرا، آپ کا، ہمارا لیڈر۔ جس کی نیت اور خلوص پر ہمیں کوئی شک نہیں!
پھرآج کیا ہوا؟ لڑائی طویل ہوگئی ہے؟ نتائج حسب منشاء نہیں؟ چار انڈے گندے نکل آئے؟ تو یہ جو ہزاروں لوگ مہینوں سے ہزیمت، تشدد، نقصان، اذیت برداشت کررہے ہیں ان کا کیا؟ آج آپ کو اس کی تربیت پر بھی شک ہے، اس کے فیصلوں کی حکمت پر بھی شک ہے۔ اس کے ساتھ کھڑے لوگوں پر بھی شک ہے۔ کیوں؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ جو لڑائی ہم سب لڑ رہے ہیں وہ اس ملک کی تاریخ میں کسی نے نہیں لڑی؟ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ دنیا کی ہر طاقت اس وقت ایک بات پر متفق ہے؛ مائنس عمران خان!
کیا آپ نہیں جانتے کہ عمران خان کی واپسی کا ایک ہی راستہ ہے؛ یہ ثابت کرنا کہ عمران خان فرد نہیں نظریہ ہے۔ یہ کہ اس کا وجود قید کرکے بھی آپ اس کا دیا شعور نہیں قید کرسکتے؟
۲۷ سال وہ ہواؤں کے مخالف لڑا ہے۔ اس لیے کہ وہ منظر سے غائب ہو تو ہم ایک دوسرے کے گریبانوں کو پڑ جائیں؟ حالات سخت ہوں تو ایک دوسرے کا چہرہ نوچیں؟ ایک دوسرے کی وفاداری پہ سوال اٹھائیں؟ یہ مشن تھا اس کا فین کلب نہیں۔ دو سال اس نے گھنٹوں طویل لیکچر دے کر ہمیں آپ کو سمجھایا کہ لڑائی صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی اور جیت میں صرف تخت و تاج نہیں ملتے۔ ہم کیسے بیس دن میں یہ بھول سکتے ہیں؟
عمران خان صاحب سے ملے 20 گھنٹے ہوے۔ ٹی وی اور اخبار سے دور 16 دن کی قید تنہائی کاٹنے والے قیدی کا عزم میرے گمان کی حد سے دور کھڑا مسکرا رہا ہے۔ 'میں کبھی نہیں ہاروں گا۔ ان سے کہو بھیج دیں مجھے فوجی عدالت کے سامنے۔ جیت پاکستان کے کروڑوں انسانوں کی ہو گی۔ سڑکوں پر، میدانوں میں۔'
رجیم چینج آپریشن کی رات کچھ معتبر چہروں پر خوف کے گھمبیر سائے تھے۔ کچھ دیر قبل کی میٹنگ میں ہوئے فیصلے پر آنے والی کال کا حکم حاوی ہوچکا تھا۔ وزیر اعظم کو سرینڈر پر آمادہ کیا جارہا تھا۔ آئین، قانون کی پاسداری کے گذشتہ دعوی اتنے ہی حقیقت تھے جتنا کے ۷۷ سال سے اعلی جاہ کا غیر سیاسی ہونے کا بیان۔ اگلی شام عوام سڑکوں پر آگئی، عقابی روح پھر بیدار ہوگئی۔ ۲۵ مئی تک چہروں کے رنگ کھلتے بکھرتے ہی رہے۔ عمران خان کا حکم آتا شہر کے شہر سڑکوں پر ہوتے۔ پھر یوں ہوا کے ۲۵ مئی کا مارچ ۲۶ مئی کی صبح ختم ہوگیا، سیاہ سائے پھر منڈلانے لگے۔ آگے سر پر ضمنی انتخابات بھی تھے۔ آقاؤں نے پورا زور لگایا، ان کی کوششوں پر یقین محکم رکھنے والوں کے تجزیے بھی ان کی فتح کا اعلان کر رہے تھے۔ عوامی طاقت اور بہتر حکمتِ عملی سے ہم نے اپنا مینڈیٹ محفوظ کرلیا تو بجھے چہروں پر پھر چراغ روشن ہوگئے مگر اگست میں ڈاکٹر شہباز گل کی گرفتاری کے حالات اور ان پر ہونے والے بہیمانہ تشدد کی خبروں نے پھر یہ شمعیں معدوم کردیں۔ پارٹی کے کچھ خیرخواہوں نے ہمیں بھی گِل سے دور رہنے کی تنبیہہ کی تو دوسری جانب اپنے اور غیروں نے مل کر اُس کے ڈبل ایجنٹ ہونے کا بیانیہ بنانا شروع کردیا۔ باوجود ان سب بیانیوں کے ناصرف خان صاحب شہباز گِل کی تیمارداری کے لیے ہسپتال آئے بلکہ ان کے لیے ریلی بھی منعقد کی۔ خیر کبھی کے دن بڑے تو کبھی کی راتیں، یہ اتار چڑھاؤ چلتا رہا۔ کبھی ہمارا پلڑا بھاری تو کبھی مدمقابل کا داؤ چل جاتا، ایسے ہی بنی گالہ کیمپ سے نکلتے ہوئے کچھ ”سرگرم“ رہنماؤں نے گھیر لیا، پوچھا کیا لگ رہا ہے؟ موسم کچھ بدلا بدلا سا نہیں ہے؟ میں نے کہا اپنی میٹنگز کا احوال بتانا چاہ رہے ہیں یا مستقبل کا حال جاننا مقصود ہے؟ کہا تمہارا اندازہ کیا ہے؟ میں نے کہا ٹرک کی بتی کے پیچھے مت لگو۔ نا ان کی گیدڑ بھبکیوں سے ناامید ہو، نا ان کی چکنی چپڑی باتوں سے کوئی امید باندھو۔ ان کی کیلکولیشن کے مطابق مستقبل کے منظرنامے میں عمران خان نہیں ہے۔ چہرے پھر لٹک گئے۔ کہا مگر عمران خان ان کی کیلکولیشنز کا محتاج نہیں ہے۔
پوچھنا تو بہت کچھ چاہتے تھے کہ ان کی خدائی پر ایمان کچھ اپنوں کو بھی کم نہ تھا مگر پوچھا فقط اتنا کہ کیسے؟
(اور اس کیسے کا جواب وہ جواب ہے جو میں آج بھی خود کو دیتا ہوں جب مجھے اپنا آپ بے بس محسوس ہونے لگتا ہے۔)
”جس شخص نے دنیاوی طاقتوں کو للکار کر اللہ کے پیغمبر (ص) سے محبت کا اقرار کیا۔ جس نے نبیوں کی سرزمین بیت المقدس کا مقدمہ لڑا۔ جو کشمیر سے لے کر افغانستان تک ہر مظلوم مسلمان کی آواز بنا۔ جس نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کے بیانیے کو نیست و نابود کیا۔ جو اپنی قوم کی اس وقت ڈھال بنا جب بیرونی ہر طاقت ان کے خون کی پیاسی اور اندرونی ہر طاقت ان کی قیمت لگانے کو تیار تھی۔ جس نے اللہ کے بندوں کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ان کی فلاح کو مقدم رکھا۔ ان کے وقار کی حفاظت کی۔اللہ ہی اس کی مدد کرے گا۔ اللہ اس کی مدد اس لیے کرے گا کہ اس نے ہر قدم پر صرف اللہ سے مدد مانگی ہے۔ اللہ اس کی مدد اس لیے کرے گا کہ اس نے یہ لڑائی صرف اور صرف اس کی خدائی کے بھروسے مول لی ہے اور اللہ اپنی کبریائی میں کوئی شراکت نہیں قبول کرتا۔ ہاں یہ لڑائی آسان نہیں ہونی، گِل آخری نہیں جس نے یہ سب سہا اوروں کو بھی سہنا ہوگا۔ جسم پہ جبر بھی اور روح پر زخم بھی!
میں آخری نہیں جس کے سر کی قیمت لگی اوروں کی بھی لگے گی۔ سب کا سب داؤ پہ لگے گا۔مگر سب سے کھٹن یہ سفر عمران خان کے لیے ہوگا کیونکہ ہم، ہم سفر سہی مگر اصل میں تو صراط مستقیم کا متلاشی وہ ہے اور صراط مستقیم پہ چلنا سہل کب رہا ہے؟
اب اس کو تو اپنی خواہش کی قیمت معلوم ہے، جس جس کو ساتھ چلنے کی خواہش ہے جگرا بڑا رکھے“۔
آپ سمجھ رہے ہوں گے یہ کہہ کر میں خود کو اور آپ کو ذمہ داری سے مبرا کررہا ہوں۔ میں ایسا نہیں کررہا۔ میں اپنے جواب میں سوال چھوڑ رہا ہوں اور جان کر چھوڑ رہا ہوں کیونکہ کچھ دن سے اندازہ ہورہا ہے کہ کم لکھے کو زیادہ پڑھنے کا ہنر سیکھنا آپ کے لیے بھی اب ضروری ہے۔
Khan Sahib is ok. He has not been allowed to meet Bushra Bibi for two weeks. He was restricted to his cell for ten days, five without any electricity. Even now, he is only allowed out of his cell for only 1.5 hrs.