قومی اسمبلی کا اجلاس: خاتونِ اوّل آصفہ بھٹو زرداری اپنی سیٹ سے اٹھکر آگے بڑھ کر نواز شریف سے ملیں ۔ نواز شریف نے سر پہ ہاتھ رکھ کر انکے سلام کا جواب دیا
آج کل عزت کی باتیں وہ کر رہے ہیں جو تین بار کان پکڑا کر اور جوتے مار کر اقتدار سے نکالے گئے بلکہ ایک بار تو سائیوں نے مار مار کے واش روم میں بھی بند کر دیا تھا ایئر پورٹ پہ ۔ چوتھی بار کبوتر بازی کروا کا زلیل کیا
@Shahzad_Sidd11 دنیا آہستہ آہستہ پینشن کو کم کرتی جا رہی ہے۔ فرانس میں تو کئی سال اس شدید احتجاج بھی ہوئے۔ ہمارے یہاں کوئی سات سو ارب خرچ ہوتے اس پہ۔ اس کا بھی میجر چنک فورسز کی پینشنز ہیں۔
آپ کسی بھی صوبے کے تعلیم کی پینشن چیک کر لیں طبیعت خوش ہو جائے گی۔ اس بڑے خرچے کو کم کرنا پڑے گا ایک دن
پٹواریوں کی پوری جماعت اور ان کے چمچے اس وقت زوروشور سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فوائد گنوا رہے ہیں، زرا سوچیں یہی کام اگر کسی اور جماعت نے کیا ہوتا تو یہودی لابی و اسرائیلی ایجینٹ کا واویلا ہوتا ۔۔۔ ٹرمپ ایسے ہی ان کی بلائیں نہیں لے رہا تھا، یہی اصل مدعا تھا
خاتون دعوی کر رہی کہ وہ وزیراعظم کی ایڈوائزر ہے اور ثبوت اس نے یہ اقوام متحدہ کا کارڈ دیکھایا ہے اور کہا وہ دوران جنگ پالیسی ایڈوائز دیتی رہی ہوں
سوال یہ کہ وزیراعظم کا ایڈوائزر ایک آئینی عہدہ ہے 1973 کے آئین کی شق 93کے مطابق ایک ایڈوائزر کے لئے صدر و��یراعظم کی ایڈوائس پر نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے یہ قانونی ضرورت ہے اس کے بغیر ایڈوائزر نا کام کر سکتا نا ایڈوائزر کہلا سکتا
سوال یہ وزیراعظم نے کب یہ تعیناتی کی اس کا نوٹفیکشن کہاں اس کے بغیر اتنے حساس ترین کام یہ کیسے کر رہی تھی ؟
میں پچھلے کئی مہینوں سے پاکستان اور وزیراعظم صاحب @CMShehbaz کے لئے کام کر رہی تھی!
پاک بھارت جنگ کے دوران میرے پالیسی بریفس، ایڈوائس، اور پوائنٹس، سب کچھ ریکارڈ کا حصہ ہے اور محفوظ ہے۔
مجھے وزیراعظم صاحب نے اقوام متحدہ کی تقریر لکھنے کا ٹاسک دیا۔ اور خود وفد کا حصہ بنایا۔ میرا نام باقاعدہ ایڈوائزر کے طور پر شامل کیا گیا اور میرا سیکیورٹی پاس بھی اسی حوالے سے اشو کیا گیا۔ میں نے اُن کی ٹیم کے ساتھ مل کے دن رات کام کیا۔ میں نے اُن کے ساتھ سفر کیا، اُن کے اور ٹیم کے ساتھ ایک ہی ہوٹل میں قیام کیا، اُن کی بِل گیٹس جیسی اہم ترین سائیڈ لائین میٹنگس کا حصہ بنی، اور جن کی فوٹیج ٹی وی پر بھی آئیں، کلائیمیٹ کانفرنس میں وزیراعظم صاحب کے پیچھے میں اور اسحاق ڈار صاحب ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جن کی منسٹری نے میرے بارے میں ٹویٹ کیا ہے کہ میں وفد کا حصہ نہیں تھی۔
اس کانفرنس کے بعد مجھے پروٹوکول ٹیم والے اے آئی کانفرنس میں لے گئے جہاں خواجہ آصف کے پیچھے بلال اور میں سارا وقت نہ صرف ساتھ بیٹھے رہے بلکہ بلال نئی تقریر بھی لکھتے رہے۔ اس تقریر کے بعد ہم نے مل کے چائے پی، گاڑی کے انتظار میں چالیس منٹ ساتھ بیٹھے، دوبارہ تصویریں لیں، اور ایک ہی کار میں تینوں ساتھ واپس ہوٹل بھی آئے۔ خواجہ صاحب کار میں پیچھے میرے ساتھ ہی بیٹھے تھے۔
آخری دن وزیراعظم کی تقریر کے وقت ب��ی میں سب کے ساتھ اقوام متحدہ میں تھی جہاں خواجہ آصف میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے اور ہم سب نے مل کے وزیراعظم کے لئے تالیاں بجائیں۔
وزیراعظم کی تاریخی تقریر صرف میری لکھی ہوئی نہیں تھی، ہم سب کے ٹیم ورک کا حصہ تھی، اور ہم سب کی محنت شامل تھی۔ میری واپسی کی فلائیٹ بھی پہلے ہی طے تھی۔ اور مجھے مشن پروٹوکول والے خود ایئرپورٹ تک ڈراپ کرنے آئے۔
اب خواجہ صاحب ایسے بیان کیوں دے رہے ہیں، اور کس ایجنڈے کے تحت اپنی حکومت کے ایک تاریخی دورہ کو بدنام کررہے ہیں، وہ وزیراعظم صاحب کو اُن سے پوچھنا چاہیئے!
کیونکہ اُن کی اتھارٹی چیلنج ہوئی ہے، میری نہیں!
@RShahzaddk یہ پیچھے بیٹھی شمع جونیجو نے غزہ پہ حملوں کو سیلیبریٹ کیا تھا ۔ یہ اسرائیل کو ایک عظیم ملک سمجھتی ہے ۔ نیتن یاہو سے ملنا اسکے لیے اعزاز ہوگا ۔ خواجہ آصف ٹویٹر پر غزہ کے لیے آنسو بہاتے ہیں اسے ساتھ کیوں بٹھا لیا ۔۔؟ یہ کیسی منافقانہ پالیسی ہے؟
مریم نوازصاحبہ سے عرض ہے کہ رضی دادا نے جب معذرت کرلی تب بھی ان کی تضحیک کی گئی،اب ہونا یہ چاہیے کہ پنجاب حکومت مداوا کرے،ان کو پورا مان دیا جائے،عزت و احترام واپس لوٹایا جائے،نوکری تو ان سے چھین لی لیکن عزت تو واپس دی جاسکتی ہے
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں ایک انقلابی کینسر علاج متعارف کرایا گیا ہے جو نہ صرف نیا ہے بلکہ پورے ریجن میں صرف پنجاب کے پاس ہے۔
یہ دعویٰ مکمل طور پر گمراہ کن ہے۔
جس طریقہ کار (Cryoablation / Co-ablation) کا ذکر وہ کر رہی ہیں، وہ 19ویں صدی سے میڈیکل سائنس میں موجود ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے یہ علاج امریکہ، چین، جاپان، جرمنی اور دیگر ممالک میں مخصوص قسم کے کینسرز کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
مریم نواز کا یہ دعویٰ کہ Mayo Hospital میں نصب cryoablation مشین جنوبی ایشیا میں “پہلی” بار استعمال ہو رہی ہے، حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ یہ ٹیکنالوجی بھارت، ترکی اور UAE جیسے ممالک میں پہلے سے استعمال ہو رہی ہے۔
یہ کوئی ایسا جادوئی علاج نہیں جس سے ہر مریض کا کینسر ختم ہو جائے۔ اس کا مؤثر ہونا مریض کی صحت، ٹیومر کے سائز، اسٹیج، اور مقام پر منحصر ہوتا ہے۔
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پہلے پانچ مریض کینسر فری ہو چکے ہیں، لیکن اس دعوے کی نہ کوئی شفاف کلینیکل رپورٹ ہے، نہ کوئی ڈیٹا، نہ کوئی فالو اپ۔ دنیا بھر میں اس طریقۂ علاج سے اب تک صرف 194 مریضوں پر سٹڈی ہوئی ہے — یہ کوئی مکمل علاج نہیں بلکہ ایک مخصوص سیچوئیشن میں مددگار تکنیک ہے۔
مسئلہ علاج سے نہیں، جھوٹ سے ہے۔
پرانے سائنسی طریقوں کو اپنا کارنامہ ظاہر کرنا اور انہیں عوام کے سامنے نیا بنا کر پیش کرنا انتہائی افسوسناک ہے، خاص طور پر جب بات انسانی صحت کی ہو۔ عوام شفافیت کے حقدار ہیں، نہ کہ سیاسی تماشے کے۔