میں گزشتہ ایک ماہ سے گلگت بلتستان میں موجود ہوں ۔۔تحریک انصاف کے امیدوارں کے
حوالے سے میرا تجزیہ
*
گلگت بلتستان کے عام انتخابات 2026 کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ 24 امیدواروں کی فہرست دیکھ کے کئی سوالات پیدا ہوتے ہے۔ اس فہرست میں شامل چار امیدوار ایم ڈبلیو ایم کے ہیں، جن میں سے تین اپنے اپنے حلقوں میں نسبتاً مضبوط پوزیشن رکھتے ہیں اور انتخابی میدان میں مؤثر مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں، جبکہ ایک امیدوار کی پوزیشن زیادہ مضبوط دکھائی نہیں دیتی۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے اپنے 20 امیدواروں میں سے بمشکل چار یا پانچ ایسے ہیں جنہیں حقیقی معنوں میں مقابلے کی دوڑ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ باقی بیشتر امیدوار نہ صرف جیتنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتے بلکہ کئی حلقوں میں ان کی عوامی حمایت انتہائی محدود دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی کارکنوں اور مبصرین کا خیال ہے کہ پارٹی کے پاس کئی مضبوط، متحرک اور عوامی حمایت رکھنے والے امیدوار موجود تھے، تاہم انہیں نظر انداز کرکے سفارشوں، ذاتی تعلقات یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر ایسے افراد کو ٹکٹ جاری کیے گئے جن کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ چند سو ووٹ لینے میں بھی مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو تحریک انصاف کے لیے انتخابات میں خاطر خواہ نتائج حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
#Gilgitbaltistan
@javerias@SdqJaan
مارکو پولو کی بس جس کا نمبر (8829) ہے کل رات 12 بجے سے کوہستان پٹن کے مقام پر خراب ہوئی پڑی ہے رات سے یہی بتایا جا رہا ہے کہ دوسری گاڑی آرہی ہے لیکن اٹھ سے دس گھنٹے گزرنے کے باوجود ابھی تک کمپنی کی طرف سے کوئی دوسری گاڑی کا بندو بست نہیں کیا گیا ہے، فیملیز اور بچے پوری رات اسی ایک جگے پر ذلیل ؤ خوار ہو رہے ہیں، مارکوپولو کمپنی کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سواریوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنا انتہائی ظلم ہے
تمام احباب اس پوسٹ کو شیئر کریں شکریہ 🙏
#Gilgitbaltistan @csgbpk
سینئر صحافی ہریار کی وال سے۔۔۔
ایسی صحافت سے دل بھر گیا 😞
12 سال روزنامہ اوصاف میں ملازمت کی کبھی پریشان نہیں ہوا نہ انتظامیہ نے تنگ کیا پھر کچھ دوستوں کے مشورے پر زیادہ تنخواہ اور بچوں کے اچھے مستقبل کی لالچ میں دنیا اخبار جائنگ دے دی اور ان کیلئے بھی 11 سال دن رات ایک کردیا پھر زلالت کا سفر شروع ہوا اسلام آباد آفس جاتے ہوئے ایک حادثے میں ٹانگ کی ہڈی چکنا چور ہوگئی ادارے کے مالک سیٹھ صاحب نے ایک ماہ تو تنخواہ کے ساتھ چھٹی دی پھر یہ کہہ کر تنخواہ ڈیڈھ سال بند کردی کہ شکر کرو ملازمت سے نکالا نہیں ٹانگ پر لوہے کے کڑے اور دس کے قریب راڈ پڑنے کے باوجود آفس حاضری لگانے بساکیوں پر جاتا رہا پھر بھی تنخواہ نہیں ملی اور پھر وہ کام شروع ہوا جس کا ساری زندگی روادار نہیں تھا کبھی کسی دوست سے قرض لیا کبھی کسی سے اور اس طرح قرضوں میں ڈوبتا چلا گیا بنک سے لون لیا جنھوں نے ڈیفالٹر کردیا ڈیڈھ سال اس زلالت سے گزرنے کے بعد 2023 میں دوبارہ ڈیوٹی جوائن کی تو چند ماہ میں ہی سیٹھ صاحب نے یہ بہانا بنا کر نوکری سے فارغ کردیا کہ ایکسائز کی ایک معمولی سے خبر پر ایکسائز کا موقف شامل نہیں کیا اور ساتھ مزید رپورٹرز کو بھی ایسے ہی بہانے بنا کر فارغ کردیا گیا تب سے اب تک بے روزگاری چل رہی قریبی رشتوں اور ایسے لوگوں کے اللہ نے رنگ دکھائے جن کے شاہ جی شاہ کررتے منہ نہیں تھکتے تھے
اس عرصہ میں کچھ دوست ایسے تھے جو فرشتوں سے کم نہیں تھے اللہ انھیں میری عمر بھی لگادے جنھوں نے بہت ساتھ دیا، اس دوران ملازمت کی بہت کوشش کی دروازے کھٹکٹائے پر کچھ نہیں بنا بچوں کیلئے کچھ ایسے کام کئے جس سے کچن بھی نہیں چلا اس بدبخت صحافت کے علاوہ آتا بھی کچھ نہیں کہ کہاں جاؤں دو سال سے بچے تعلیم سے فارغ گھر بیٹھے ہیں گھر کبھی کھانا پکتا ہے کبھی نہیں قرضوں میں ڈوب گیا دوستوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے شرمندہ ہوگیا اور ہمارے چند نام نہاد لیڈرز نہ فون اٹھاتے نہ میسجز کے جواب دیتے تنظیموں کی توجہ کیلئے تو مرنا ضروری ہے تعزیتی ریفرنس بھی تو کرنے ہوتے ہیں صاحب۔ گرمی میں بجلی کے بغیر بیٹھے ہیں میٹر کٹا ہوا ہے، قرضوں سے قبر اور آخرت دونوں خراب ہوچکے ہیں اللہ اب اس زلالت والی زندگی سے نکال دیں آمین
@HamidMirPAK@SdqJaan@javerias@Kashifabbasiary
Construction industry is almost Dead.
We are working on a construction Project.
We submitted 1900/ 50kg rates a month ago l.
Now within a month cement rate increased to 2400/ per bag.
Totally in lose
Shame on Puppet government
Pakistan Telecommunication Authority
کے چیئرمین حفیظ الرحمن نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انداز میں کی جائے گی۔ اجلاس کی صدارت سید امین الحق نے کی۔ چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق جاز، یوفون اور زونگ سمیت تینوں ٹیلی کام آپریٹرز نے بولی میں حصہ لینے کے لیے لازمی 15 ملین ڈالر زرِ ضمانت جمع کرا دیا ہے جبکہ بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ 27 فروری مقرر کی گئی ہے اور نیلامی 10 مارچ کو ہوگی۔ ڈی جی لائسنسنگ عامر شہزاد نے کمیٹی کو بتایا کہ مجموعی طور پر چھ بینڈز نیلامی کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں جن میں چار نئے اسپیکٹرم بینڈ شامل ہیں، اور اس عمل کے لیے کنسلٹنٹ کی رپورٹ کی بنیاد پر حکومتی پالیسی ڈائریکٹو جاری کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس وقت 597 میگاہرٹز اسپیکٹرم نیلام کیا جائے گا اور ہر آپریٹر کے لیے 100 میگاہرٹز خریدنا لازمی ہوگا، یوں کم از کم 300 میگاہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی یقینی بنائی جائے گی۔ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ گزشتہ بارہ برسوں میں چار نیلامیوں کے ذریعے 69 میگاہرٹز اسپیکٹرم فروخت کیا گیا جبکہ اس بار 50 فیصد سے زائد دستیاب اسپیکٹرم نیلام ہونے کی توقع ہے۔ ڈی جی پی ٹی اے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں فائیو جی سروس وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں تک فراہم کی جائے گی اور فائبرائزیشن کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اجلاس میں سید امین الحق نے وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ فائیو جی کے ثمرات عام عوام تک پہنچنے چاہییں۔
#pta #GalaxyAI
جہنم کے مکین
از:عزیز علی داد
گلگت بلتستان میں پچھلے دنوں کچھ افراد کی جانب سے شوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے شیئر کرنے پر مظاہروں اور احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ گلگت بلتستان میں شوشل میڈیا میں توہین اور تحقیر آمیز مواد شیئر کرنے کے رجحان میں پچھلے کچھ مہینوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس معاملے پر شوشل میڈیا اور اس کے استعمال کے متعلق ایک نئی بحث چھڑی ہے۔ مگر اس بحث میں معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی بجائے ایک سادے سے فارمولے کہ ایک دوسرے کے عقیدوں کا احترام کیا جائے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ معاملہ تب تک حل نہیں ہوگا جب تک ہم ریاست، تعلیم، سماج، گھر اور مروج مذہبی سوچ کے متعلق کچھ بنیادی سوالات نہ اٹھائیں۔ اس مضمون میں ہم گلگت بلتستان میں مذہبی سوچ کے متعلق کچھ زاویے اور ان کا تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کرینگے۔
کسی بھی معاشرے میں احترام اچانک سے پیدا نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس کی پیدائش کے لئے معاشرے کے ذہن اور روح کی آبیاری کی جاتی ہے۔ ذہن اور فکر کی یہ آبیاری ہی ایک ایسی مثبت سوچ کی بنیاد رکھتی ہے ۔ اور اسی بنیاد کے اوپر ایک اچھے انسانی شخصیت کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔ اگر معاشرے میں فرد کی عمارت کی بنیاد ہی تخریب پر رکھی جائے تو انسان کو حیوان بننے سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔ صائب تبریزی کا کہنا ہے:
"خشت اول چوں نہد معمار کج،
تا ثریا میرود دیوار کج"
ترجمہ: اگر معمار پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھے تو دیوار آسمان تک بھی ٹیڑھی ہی جائے گیا۔
ٹیڑی بنیاد پر بنائی گئی شخصیت آسمان اور روحانی بلندیوں تک کبھی بھی نہیں پہنچ سکتی ہے کیونکہ تخریبی جسم اور ذہن پر روح کے پر نہیں اگتے ہیں۔ یہی بات معاشرے پر بھی صادق آتی ہے۔ وہ معاشرہ جو اپنی نئی نسل کی تربیت نفرت، خوف اور تحقیر کے ذریعے کرتا ہے، وہ اپنے سماجی وجود کے اندر زہر بھر رہا ہوتا ہے۔ یہ زہر باہر کے بیگانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے۔ بلکہ یہ زہر سماجی جسم کو اندر سے ہی کھا جاتا ہے۔ یہی صورتحال آج گلگت کے سماج کے ساتھ ہے۔ بدقسمتی سے گلگت کے معاشرے بطن میں اتنا زہر بھر گیا ہے کہ وہ اس میں موجود اپنے ہی بچوں کو مار رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اس زہر کو تریاق سمجھ کر اپنے بچوں کو کھلا رہے ہیں۔
کسی بھی معاشرے میں احترام کا ظہور فرد کی سماجی تربیت، طریق عمل اور ذہن سازی کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ مگر گلگت بلتستان کے سماج میں ریاست سے لیکر، تعلیم، نصاب، مسجد، گھر اور گھر کا سربراہ سب ہی فرد کی تعمیر کی بجائے تخریب کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ تخریب پہلے خیالات کی سطح پر وقوع پذیر ہوتی ہے۔ جب زہریلے خیالات ذہن پر قبضہ جما لیتے ہیں، تو فرد ایک ایسا کھلونا بن جاتا ہے جو اپنی سوچ کی اجارداری کے لئے اپنے سے مختلف سوچنے اور عمل کرنے والے انسان کا قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا ہے۔ جب ایسے فرد کو اپنے سے مختلف سوچ کے حامل انسان سے واستہ پڑتا ہے، تو وہ اسے اپنے وجود کے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسی لئے وہ اپنے وجود کو بچانے کے لئے دوسرے کے وجود کا خاتمہ کردیتا ہے۔ گلگت بلتستان میں اس رویے کی تشکیل میں ریاست سے لیکر سماج اور گھر کے ادارے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ریاست نے سکول سے لیکر یونیورسٹی تک ہمارے ذہنوں کے اندر اسلام کو اتنا ٹھونسا ہے کہ اب اس میں نئے خیالات اور نیا مذہبی علم داخل نہیں ہوسکتے ہیں۔ میں خود جماعت نہم میں داخل ہوا تو سنی اور شیعہ اسلامیات کو انتخاب کرنے کے مسئلے سے دوچار ہوا۔ اسماعیلیوں اور نور بخشیوں کے لئے کوئی اسلامیات تھا ہی نہیں۔ سو ان میں سے ایک کو پڑھنا پڑا۔ کراچی میں انٹر کے تعلیم کے دوران ایک سندھی ہندو لڑکا دوست بنا۔ نہایت شریف اور ایماندار تھا۔ میں نے پوچھا کہ اسلامیات پڑھتے ہوئے کیسے لگتا ہے؟ کہنے لگا کہ یہاں غیر مسلموں کو اسلامیات کی جگہ اخلاقیات کا مضمون پڑھایا جاتا ہے۔ یہ میرے لئے نئی بات تھی۔ عجیب سا ملک ہے۔ جن کو اخلاق سکھانا کی ضرورت ہے، ان کو وہ مضمون پڑھایا ہی نہیں جاتا ہے۔ اور جن کو ضرورت نہیں انھیں پڑھایا جا رہا ہے۔ جاپان میں سکول کے ابتدائی پانج سال میں صرف معاشرتی اخلاقیات سکھایا جاتا ہے۔ جب انسان کی شخصیت اخلاقیات کے سانچے میں ڈھل جاتی ہے تو اس میں جو بھی فکر بشمول مذہب داخل ہو تو اس کے خدوخال اس فرد کی شخصیت کی طرح ہی بن جاتے ہیں کیونکہ مذہب ہمارے ذریعے ہی ظاہر ہوتا ہے نا کہ انسان کی غیر موجودگی میں جنگل اور بیابانوں میں۔ اسی لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی مذہب کا خدا اور دیوتا ایسا ہی ہوگا، جیسا کہ اس سماج کا ذہن ہے۔ کہتے ہیں کہ علم بشریات کے ماہرین جب مرکزی افریقہ کے قبائل اور ان کے مذاہب کا مطالعہ کرنے گئے تو انھوں نے دیکھا کہ قبائلی خداوں کے مجسموں میں بنی ناک بھی افریقیوں کے طرح بڑی اور پھیلی ہوئی تھی۔
#Budget2026 #GilgitBaltistan
A proud and historic moment for the KIU Book Club!
The KIU Book Club, working under the patronage of Karakoram International University, has officially signed a Memorandum of Understanding (MoU) with the Gilgit Arts and Cultural Council to promote book culture, local languages, literature, and the rich cultural heritage of Gilgit-Baltistan.
This landmark initiative was led by the visionary leadership and dedication of founder KIU Book Club, Dr. Mir Waheed Akhlaq, whose continuous efforts have transformed the Book Club into a vibrant platform for intellectual, literary, and cultural engagement. His commitment to connecting academia with society is opening new doors for preserving and promoting our collective identity.
We also extend our sincere appreciation to the Vice Chancellor, Prof. Dr. Attaullah Shah, and the entire university administration for their unwavering support in encouraging literary and cultural initiatives that strengthen social harmony and intellectual growth.
This collaboration will create new opportunities including literary festivals, seminars, cultural exhibitions, mushairas, and documentation of indigenous knowledge and traditions. It is not just a partnership—it is a step towards preserving our roots, empowering our voices, and celebrating the unique identity of Gilgit-Baltistan.
We deeply appreciate the cultural community, writers, artists, and youth of Gilgit-Baltistan whose passion keeps our heritage alive. Together, we are building a future where culture, knowledge, and identity thrive.
#KIUBookClub #GilgitBaltistan #Culture #Literature #KIU #OurIdentity #bookculture
اسلام اباد سرسید ممیوریل حال میں گلگت بلتستان غذر سے تعلق رکھنے والے نوجوان عبدالکریم کی کتاب
Building Bridges Beyond Borders: The Brilliance of Pakistan
کی تقریب رونمائی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ مجھے اس بات کی سب سے ذیادہ خوشی ہے کہ ہمارے نوجوان اب بین القوامی لکاریوں کے ساتھ مل کے کتانیں لکھیں رہے ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں نفاسا نفسی کا عالم ہے وہاں اسطرح کے نوجوانوں کا ابھر اناپورے گلگت بلتستان کے لے فخر کا باعث ہے۔
اس کتاب کے حوالے سے اگر مختصر بات کی جاے تو وہ کچھ یوں بنتی ہے۔ پاکستان کے بارے میں عالمی میڈیا میں عام تاثر اکثر تنازعات اور مزہبی انتاہپسندی کا لگایا جاتا ہے ، مگر کتاب
Building Bridges Beyond Borders: The Brilliance of Pakistan
ایک نادر اور مثبت زاویہ پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب گلگت بلتستان کے نوجوان مصنف عبدالکریم اور فرانس کے کیتھولک رائٹر Christophe de Contenson کی مشترکہ کاوش ہے، جو پاکستان کے بارے میں عالمی بیانیے میں موجود خامیوں اور مسخ شدہ تصاویر کو چیلنج کرتی ہے۔
کتاب میں پاکستان کی 24 مختلف شخصیات کی آوازیں شامل ہیں، جو انسانی تجربات، معاشرتی ہم آہنگی اور اخلاقی اقدار کے ذریعے ملک کی متنوع اور حقیقی تصویر پیش کرتی ہیں۔ یہ نہ کوئی سیاسی منشور ہے اور نہ دفاعی دستاویز، بلکہ عالمی قارئین، میڈیا اور اداروں کے لیے ایک دعوت ہے کہ پاکستان کو سیاق و سباق اور حقیقت کے ساتھ سمجھیں۔ یہ کتاب بیانیوں کی دیواریں توڑنے اور سچائی کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی ایک اہم کاوش ہے۔
#islamabad #gilgitbaltistan #highlights2025
@javerias@SdqJaan
غیرت کے نام پر قتل سے بچانے والی بہادر افسر — ایس ڈی پی او دنیور عمارہ ستار کی بروقت کارروائی، لڑکی کی جان بچ گئی
ایس ڈی پی او دنیور سر کل عمارہ ستار(پی ایس پی ) نے شاندار بہادری کا مظاہرہ کر کے کل رات ۱۲ بجے جٹیال گلگت میں ایک ایسی جوان عمر لڑکی کی جان بچائی جو عزت کے نام قتل ہونے والی تھی۔ ASP نے ایک منٹ بھی ضائع کئے بغیر خود اپنے گن مین اور ڈرائیور کے ساتھ جاکر بچی کو ریسکیو کیا۔
ڈی آئی جی گلگت رینج راجہ مرزا حسن(پی ایس پی) نے ایس ڈی پی او دنیور کو اس شاندار کارکر دگی پر شاباش دی اور تعریفی
خط سے نوزا۔
@javerias@noshigilani
#Gilgitbaltistan
گزشتہ ایک ماہ سے نیٹکو گاڑی کی چلاس ٹو روالپنڈی سروس بند ہونے پر احتجاجاً نیٹکو آفس کی تالا بندی کرنے پر فراحت اللّٰہ کو پولیس نے گرفتار کر کے حوالات منتقل کر لیا عوامی حلقوں کی مذمّت فوری رہا کرنے کا مطالبہ۔۔
#gilgitbaltistan