A demonstration rally was held by the family of Abdul Hameed Zehri, forcibly abducted and disappeared by State forces, rangers CTD two years ago
They demand safe #ReleaseAbdulHameedZehri and raise slogans against #EnforcedDisappearances in #Balochistan
ہماری قومی شناخت کے وجہ سے ہمیں جبری گمشدہ کیا جارہا ہے،میرے والد کو کیوں قید رکھا ہے؟اس ریاست کو ہماری تکلیف کیوں نظر نہیں آتی؟
ایک بیٹی کا اپنے مہربان باپ کے رہائی کیلئے جدوجہد !
یہ آنسو اور اس ریاست کے بلوچ پر مظالم ہمارے ہرسوال کا جواب بن کر ہماری شعوری تربیت کر رہے ہے۔
میرےباباعبدالحمید زہری کی جبری گمشدگی کے خلاف آرٹس کونسل سے کراچی پریس کلب تک ایک ریلی نکالی گئی ہے
میں تمام صحافی حضرات سے اور انسانی حقوق کےکارکنوں سے اپیل کرتی ہوں کہ میرے والد کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں
@HamidMirPAK@AsadAToor@asmashirazi#ReleaseAbdulHameedZehri
عبدالحمید زہری کو دو سال سے اغوا کرکے لاپتہ کر دیا گیا ہے دو سال سے عبدالحمید کی فیملی اذیت سے گزار رہی ہے عبدالحمید زہری کی جبری گمشدگی کے خلاف اور فوری بازیابی کے لیے احتجاج
#ReleaseAbdulHameedZehri
عبدالحمید زہری کی جبری گمشدگی کو2سال مکمل ہونے پر آج کراچی آرٹس کونسل سےکراچی پریس کلب تک احتجای ریلی نکالی گئی ہے میرےبابا عبدالحمید کو بازیاب کیاجائے اور ہمیں اس ازیت کرب اور درد سے نجات دلائیں جائے جبری گمشدگیاں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے
#ReleaseAbdulHameedZehri
میرے والد عبدالحمید زہری کی جبری گمشدگی کے خلاف بروز اتوار 30 اپریل کو شام 4 بجے آرٹس کونسل سے کراچی پریس کلب تک ایک ریلی نکالی جائے گی
میں تمام سیاسی سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے اور طلبا تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ اس ریلی میں بھرپور شرکت کر کے ہماری آواز بنیں
We are going to organize a protest rally against the enforced disappearance of my father Abdul Hameed Zehri.
We appeal to all political, social and human rights organizations to join us .
Time: 4:00 pm
Venue : Arts Council to Karachi Press club
#ReleaseAbdulHameedZehri
اس بیٹی کو بھی انصاف کے لئے کسی جج کے از خود نوٹس کا انتظار ہے لیکن اس بیٹی کے لیے کہیں کوئی نوٹس نہیں ہو رہا کوئی عدالت رات بارہ بجے نہیں کھلتی کیونکہ اس بیٹی کا تعلق بلوچستان سے ہے #ReleaseAbdulHameedZehri
میرے والد عبدالحمید زہری کی جبری گمشدگی کو2سال کا طویل عرصہ مکمل ہونے پر10اپریل بروز پیر شام6بجے سے رات12تک میرےباباکے بحفاظت بازیابی کے لئےٹویٹر کمپین چلائی جائے گی
میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں سے اپیل کرتی ہوں کہ اس کیمپن میں بھر پور شرکت کریں۔#ReleaseAbdulHameedZehri
میں انسانیت کا درد رکھنے والے تمام لوگوں سے اپیل کرتی ہوں میرے والد عبدالحمید زہری کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائیں اور ہمیں اس اذیت سے آزاد کرنے میں اپنا کردار ادا کریں میرے والد گزشتہ دو سالوں سے بغیر کسی ایف آئی آر کے جبری طور پر گمشدہ ہے اور ہم اہلخانہ کو نہیں پتا وہ کہاں ہے
کون کہتا ہے کہ ریاست ماں ہوتی، یہ تو ہماری ماؤں کو نگل رہی ہے۔ لاپتہ رشید کی والدہ اپنے بیٹے کے دید کیلئے ترستی رہی اور انتقال کر گئی، آخری وقت میں اگر منہ سے کلمہ کے بدلے اپنے لاپتہ بیٹے کا نام ہو ان ماؤں کی دل سے نکلی ہوئی آہ کی وجہ سے یہ ادارے عبرت کا نشان بنیں گے ضرور
والد کے جبری گمشدگی کو آج 23 ماہ مکمل ہوگئے ہیں گزشتہ 23 مہینوں سے ہم اپنی بابا کی بازیابی کے لیے احتجاج پر ہیں
ماہروز اپنے بابا کی بازیابی کے لئے ہر احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوتی ہے
ماہروز کو اس نھنی عمر میں ریاست اسے جس طرح محب الوطنی کا درس دے رہی ہے ماہرو کو یہ سبق یاد ہے
اسلام آباد : قائد اعظم یونیورسٹی میں بلوچ طلبا پر ہونے والے حملے کے بعد حالت کشیدہ ہونے کے باعث ہاسٹل کو خالی کرایا جا رہا ہے۔ دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے طالبات سے رات کو ہی ہاسٹل خالی کرایا گیا۔