If you are still breathing, you have a second chance.”
WHAT A COMEBACK ❤️
𝗪𝗮𝗿𝗿𝗶𝗼𝗿 ❤🔥
𝗦𝗮𝗿𝗳𝗮𝗿𝗮𝘇 𝗔𝗵𝗺𝗲𝗱 💕
An innings of the highest quality, a superb century from Sarfraz Ahmad in a difficult situation 🙌
#PakvsNZ#SarfarazAhmed#PakistanCricket
میرا کپتان❤️
جے یو آئی ترجمان اسلم غوری کا حافظ نذیر احمد شاہوانی بلوچستان کی شہادت پر اظہار تعزیت
جے یو آئی ضلع سوراب کے سینئر رہنما اور مدیر مدرسہ بدرالہدیٰ محمودیہ حافظ نذیر احمد شاہوانی کی شہادت پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔
حافظ نذیر احمد شاہوانی کی دینی، علمی اور جماعتی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی
بدامنی اور دہشت گردی نے ہر طبقہ فکر کو متاثر کیا ہے
حکمران بتائیں بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں جےیوآئی رہنما کیوں محفوظ نہیں
قوم پوچھتی ہے کہ نامعلوم کب معلوم ہو نگے
اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ و تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
حکومت مخالف تحریک جےیوآئی کا اگلا قدم
جنوبی پنجاب کے دل ملتان میں ہو گا۔
15 اکتوبر کو ملتان میں مفتی محمود کانفرنس ہوگی
کانفرنس عوامی حقوق کے تحفظ ،مہنگائی اور بدامنی کے خلاف سنگ میل ثابت ہوگی
مفتی محمود کانفرنس جنوبی پنجاب کی سیاسی سمت کا تعین کرے گی
مولانا فضل الرحمان ، مولانا عبدالغفورحیدری ودیگرمرکزی اور صوبائی قائدین کانفرنس سے خطاب کریں گے
مولانا فضل الرحمان احتجاجی تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے۔
جے یو آئی ملک میں قانون کی حکمرانی اور صاف و شفاف انتخابات ، عوامی مسائل کے لیے میدان عمل میں ہے
بدامنی ،مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے
عوام کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے جے یو آئی کے شانہ بشانہ میدان میں نکلنا ہوگا
کارکن یکسوئی ،اعتماد اور نظم وضبط سے کانفرنس کی تیاریاں تیز کریں ،گلی گلی کوچے کوچے عوام کو دعوت دیں
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
طویل عرصے بعد حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کا مذاکرات کی میز پر آنا خوش آئند تھا۔
مذاکرات ہی سیاسی مسائل کے حل کا جمہوری راستہ ہیں ۔
حکومت اور اپوزیشن کو کھلے دل کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھنا چاہیے۔
اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔
دونوں فریقین اپنے انداز گفتگو میں نرمی پیدا کریں ۔
سیاسی کشیدگی کا خاتمہ مذاکرات اور باہمی مفاہمت سے ہی ممکن ہے
ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ حکومتی رویہ میں لچک کا مظاہرہ کرے
مذاکرات میں پیش رفت کے لیے لچک اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ ضروری ہے
اختلاف رائے جمہوریت کا حصہ ہے۔ مسائل کا حل تصادم نہیں مذاکرات ہیں
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
حکومت کی اپنی نااہلیوں سے پی ٹی ائی کو فائدہ پہنچ رہا ہے ان نا اہلو کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے اربوں روپے مالیت کے ایکسپورٹرز کے کنٹینرز اسلام اباد کی سڑکوں کو بند کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں اور ٹرانسپورٹرز کی گاڑیاں پکڑی ہوئی ہیں
جناب محمد اسلم غوری صاحب
مرکزی سیکرٹری اطلاعات جے یو ائی پاکستان
امن و سلامتی کے سب سے بڑے علمبردار سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر پر حوثیوں کے حملے کی خبر سے دل رنجیدہ اور زخمی ہے،مدینۃ الرسول پر حملہ ایک شہر پر نہیں بلکہ عالم اسلام کے دلوں اور عقیدے پر حملہ ہے۔
مسلم حکمرانوں اور امت مسلمہ کو مصلحتیں بالائے طاق رکھتے ہوئے یکجاں ہوکر حملہ آوروں کا مقابلہ کرنا ہوگا،آج اگر حرمین شریفین کے لئے متحد نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے،حرمین شریفین ہماری وحدت کی علامت ہیں،جس کی حرمت کے لئے اپنی جان و مال اور اولاد کی قربانی کو باعث فخر سمجھتے ہیں،یہی چیزیں جمعیۃ علماء اسلام کے اغراض و مقاصد کا حصہ ہیں۔
مملکت سعودیہ کے عوام،خادم الحرمین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ حملہ صرف آپ کے شہر اور ملک پر نہیں،امت مسلمہ پر حملہ ہے،امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستان کے عوام حرمین شریفین کے تحفظ و حرمت کے لئے مملکت سعودیہ اور عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
چند دن پہلے کی بات ہے ملتان میں ایک شخص کے پاس اپنے بچے کو دفنانے کے لیے پیسے نہیں تھے
کراچی میں ایک ڈاکٹر اپنی بیوی اور تین بچیوں سمیت حالات کے ہاتھوں مہنگائی کے ہاتھوں خود کشی کر لیتا ہے اور یہ میرے ساتھ بیٹھے مرکزی اور صوبائی حکومت کے نمائندے بڑی بڑی باتیں ہانک رہے ہیں ان کو کیا اس سے یہ تو اسلام اباد کی سڑکوں کو بلاک کرنے کے لیےکنٹینر لگوانے میں اور اٹھانے میں بھی کمیشن کھا رہے ہیں
محمد اسلم غوری مرکزی سیکرٹری اطلاعات جے یو ائی پاکستان
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ژوب، ڈی آئی خان روڈ درازندہ کے قریب امن میلہ چیک پوسٹ پر خودکش حملے کی شدید مذمت
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ژوب، ڈی آئی خان روڈ درازندہ کے قریب امن میلہ چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ درازندہ میں پیش آنے والا یہ المناک سانحہ انتہائی افسوسناک اور دلخراش ہے، بے گناہ انسانوں کو اس طرح دہشت گردی کا نشانہ بنانا انتہائی قابلِ مذمت اور باعثِ تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج خیبر پختونخوا اور بلوچستان بدامنی کی لپیٹ میں ہیں، جبکہ سندھ میں بھی امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے؛ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی اور بدامنی کے سدباب کے لیے مؤثر، مربوط اور ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اہلکاروں اور عام شہریوں کو خوف و دہشت کی فضا میں تنہا چھوڑ دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع اور مؤثر حکمتِ عملی تشکیل دے کر اس پر عملی طور پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے حملے میں شہید ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم غم کی اس گھڑی میں لواحقین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے لیے بلندیٔ درجات، زخمیوں کی جلد اور مکمل صحتیابی اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ شہداء کی قربانیوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ملک کو امن و سلامتی نصیب فرمائے۔
قومی تعلیمی کانفرنس اسلام آباد مہمان خصوصی
قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب خطاب فرمائیں گے
تمام اساتذہ کرام اور ملازمین سے شرکت کی درخواست ہے
جمہوریت کے لیے جے یو ائی کی قربانی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے 1980 میں جب ایم ار ڈی کی تحریک شروع ہوئی تھی تو مولانا فضل الرحمن وہ شخصیت تھی جنہوں نے سب سے پہلے گرفتاری دی تھی اور جب سندھ میں پیپلز پارٹی کی قیادت گرفتار ہو چکی تھی تو ایم ار ڈی کی تحریک کی قیادت مولانا شاہ احمد امروٹی صاحب نے کی تھی
محمد اسلم غوری مرکزی سیکرٹری اطلاعات جے یو ائی پاکستان
آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔
بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔
اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔
مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔
حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟
وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔
اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔
حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔
ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟
آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔
لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔
پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔
سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔
اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔
قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔
پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔
ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
حکومت اگر کہہ رہی ہے کہ یہ فرمائشی گرفتاریاں دے رہے ہیں تو ان کو چاہیے کہ یہ فرمائشی گرفتاریاں نہ کریں حکومت اگر کہہ رہی ہے کہ بانی پی ٹی ائی کی بہنیں کے پی کے میں چلے جاتی تو جو کے پی کی میں حاضر منسٹر کے ساتھ ہوا ہے کیا ان کے ساتھ بھی وہی ہوتا
میرے خیال میں حکومت اس وقت نااہل اور نکمے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اپنے اقدامات کے ذریعے اپوزیشن کو اشتعال دلوا کر اپنی ہی حکومت کے خلاف خود اپنے پاؤں پر کلہاڑیاں مار رہی ہیں
محمد اسلم غوری مرکزی ترجمان جے یو ائی پاکستان
بھکر: جمعیت علماء اسلام ضلع بھکر کے زیر اہتمام سالانہ تحفظ ختم نبوت وعظمت صحابہ و اہلبیت ریلی کے مناظر
سابق وفاقی وزیر فرزند قائد جمعیۃ مولانا اسعد محمود، صوبائی امیر پنجاب مولانا امجد خان، سینئر نائب امیر مولانا محمد صفی اللہ کی خصوصی شرکت
ہماری جماعت میں فیصلے ادارے کرتے ہیں شخصیات نہیں کرتی۔
دوسری بات اپ کہہ رہے ہیں کہ خیبر پختون خواہ میں اگر گورنر راج لگ جائے۔ میں تو حیران ہوں پی ٹی ائی کے منسٹر کے اس طرح اغوا کے بعد اپ سمجھتے ہیں کہ وہاں کوئی حکومت ہے یا وہاں کسی گورنر راج کی ضرورت ہے اس قسم کے اقدامات کر کے وفاقی حکومت اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہے اور کوئی تیسرا اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے
محمد اسلم غوری مرکزی ترجمان جے یو ائی پاکستان