@Alisafinas1 آفیشلی نمائندہ کون ہے؟ مزھب کے نمایندگی اس مذھب کی مستند کتب کرتی ہیں، اس شخص کا قصور یہ ہے کہ وہ شیعوں کو شخصیت پسندی سے ہٹا کر کلام معصوم بیان کرتا ہے
اندازہ بیان سے اختلاف ضرور کیا جا سکتا ہے
شیعہ عورتوں کا گیت
ہماری کوکھ بانجھ نہیں ہے
نہ ہماری چھاتیاں رزق دینے میں بخل کرتی ہیں
ہم پاک آیتوں کی تلاوت اور صیغوں کے ورد کے دوران منکوحہ ہونے والی عورتیں ہیں
نیک مباشرت میں حلال زادے جنتی ہیں
پھر اُنھیں نرم کھال ہرنوں کی طرح گود میں اُٹھاتی ہیں
اور طاہر دودھ کا رزق دے کر پالتی ہیں
ہم وہ ہیں جھنیں سوز اور گریہ کے لحن بھولتے نہیں
اُنھی لحنوں کی لوریوں سے اپنے بچوں کو سلاتی ہیں
اُنھیں درود و صلواۃ کی آوازوں کا سُننے والا اور سنانے والا بناتی ہیں
ہمیں اپنے جنے ہووں کی گنتی نہیں بھولتی
نہ ہم اُنھیں بارود کے کُرتے پہننے دیتی ہیں
مگر افسوس ہمارے حلال زادوں کو جوان ہوتے ہی بھیڑیے کھا جاتے ہیں
وہ بھیڑیے جنھیں اُن کی مائیں جَن کر بھول جاتی ہیں
وہ مائیں اُنھیں جَن کر ایسے پھینک دیتی ہیں
جیسے اُن پر کوئی محنت نہ خرچ ہوئی ہو
یا اُنھیں رِحموں کی بجائے آگ کی دھونکنی سے نکالا گیا ہو
وہ بھیڑیے کھا جاتے ہیں ہمارے اِس کائنات کےعزیز ترین بیٹوں کو
اور ہم مائیں
اپنے اپنے یوسف کی مائیں
فقط اُن کے خون آلود کُرتے آنکھوں اور سینوں سے لگائے
اندھے یعقوب کا گریہ میں ہاتھ بٹاتی ہیں
یہ گریہ ہماری تمام عمر کی پونجی ہے
زینب کے شکریے کے ساتھ
ہمارا گریہ حسین کے لیے ہے
مگر کبھی کبھی اپنے یوسفوں پر بھی رونے کو جی چاہتا ہے
ہم شیعہ عورتیں وہ یعقوب ہیں
جن کے کئی کئی یوسفوں کو بھیڑیے کھا گئے
اور وہ یعقوب کے بیٹے کی طرح وآپس نہیں آتے
نہ ہماری آنکھیں وآپس آتی ہیں
حالانکہ ہماری کوکھ بانجھ نہیں تھی
نہ ہماری چھاتیاں رزق دینے میں بخل کرتی تھیں
علی اکبر ناطق