قصص القرآن: قصہ طالوت و جالوت
بنی اسرائیل کی شان دار فتح:بنی اسرائیل کی مسلسل نافرمانی، سرکشی اور جہاد سے انکار کی بِنا پر اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو چالیس سال تک صحرائے تیہ میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ابھی اُن کی اَسیری کی مدّت پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام انتقال فرماگئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خادمِ خاص، یوشع بن نون علیہ السلام کو حکم دیا کہ ’’بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر جائو، قومِ عمالقہ و دیگر سے جہاد کرو اور اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین ارضِ مقدّس کو آزاد کرواؤ۔‘‘ وادئ تیہ میں قید کے چالیس سال مکمل ہوچُکے تھے، چناںچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے چھے لاکھ سے زائد افراد کو لے کر جہاد کے لیے نکلے۔طویل اور سخت ترین جنگ کے بعد اُنھیں شان دار کام یابی نصیب ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ، آیت 12 میں کیے گئے اپنے وعدے کے مطابق کنعان، فلسطین اور شام تک کا پورا علاقہ بنی اسرائیل کے حوالے کردیا۔ علّامہ عمادالدین ابنِ کثیرؒ نے لکھا ہےکہ ’’اس جنگ میں بے شمار دولت، مال و متاع اور ہیرے جواہرات بنی اسرائیل کے ہاتھ آئے۔ قومِ عمالقہ کے بارہ ہزار مرد و خواتین کو تہ تیغ کیا گیا۔ بہت سے بادشاہوں سے مقابلہ ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت یوشع بن نون نے شام کے اکتیس بادشاہوں پر غلبہ پایا تھا۔‘‘ (قصص الانبیاء ابن کثیرؒ، 489)۔پُرانی ڈگر پر واپسی:مولانا حفظ الرحمٰن سیوہارویؒ لکھتے ہیں کہ ’’یوشع علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے تمام مفتوحہ علاقے بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے درمیان تقسیم کردیئے، تاکہ وہ امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کریں اور دینِ حق کے لیے سرگرم رہیں۔ حضرت یوشع علیہ السلام آخری عُمر تک ان بارہ قبیلوں کی نگرانی اور اصلاحِ حال میں مصروف رہے۔ آپ نے خاندانوں اور قبیلوں میں سردار مقرر کیے اور ہر قبیلے میں معاملات و مناقشات کے فیصلوں کے لیے قاضیوں کو نام زد کیا۔ حضرت موسیٰ ؑکے بعد حضرت یوشع علیہ السلام27سال تک حیات رہے اور127سال کی عُمر میں اُن کا انتقال ہوگیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے انتقال کے بعد تقریباً ساڑھے تین سو سال تک یہ نظام یُوں ہی چلتا رہا۔
قصص القرآن: قصہ طالوت و جالوت
قصص القرآن: قصہ حکیم لقمان
اس تمام عرصے میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر بہت سے انبیاء مبعوث فرمائے، جو اُنھیں وعظ و نصیحت کرتے رہے، لیکن وہ بتدریج اپنی پُرانی ڈگر پر آگئے۔ دُنیا بھر کی برائیوں کو اپنانے کی شوقین اس بدنصیب قوم کی مسخ فطرت، تباہ ذہنیت اور دین سے بے زاری سب پر عیاں تھی، قدم قدم پر ناشُکری، نافرمانی، حجّت، سرکشی اور غرور و تکبّر اُن کی فطرت کا حصّہ تھے۔ پھر بارہ ٹکڑوں میں بٹی اس قوم میں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے ہمسائے کے اکثر قبائل اُن پر حملہ آور ہوتے رہتے۔ کبھی عمالقہ چڑھ دوڑتے، کبھی فلسطینی، کبھی مدیانی تو کبھی آرامی، جب کہ آئے دن لُوٹ مار اور شب خون مارناان کا معمول تھا۔ (قصص القرآن، جلد 2،صفحہ57)۔جالوت کا خوف ناک حملہ:چوتھی صدی عیسوی کے آخر میں غزہ کے فلسطینی ان پر حملہ آور ہوئے اور اُن کا متبرک صندوق ’’تابوتِ سکینہ‘‘ چھین کر لے گئے۔ اس میں توریت کا اصل نسخہ، موسیٰ و ہارون علیہم السلام کے عصاء، پیرہن اور من کا مرتبان محفوظ تھے۔ بعض آثار میں مذکور ہے کہ حضرت الیسع علیہ السلام کے انتقال کے بعد مصر و فلسطین کے درمیان بحرِ روم کے کناروں پر آباد قوم عمالقہ کا جابر و ظالم حکم ران ’’جالوت‘‘ اسرائیل کی آبادیوں پر قبضہ کرکے اُن کے سرداروں اور نام وَر افراد کو قیدی بناکر اپنے ساتھ لے گیا، باقی کو مقہور و مغلوب کرکے ان پر خراج مقرر کردیا اور توریت بھی ضایع کردیا۔بنی اسرائیل کے لیے یہ بڑا نازک دَور تھا۔ قوم میں نہ کوئی نبی تھا، نہ سردار و امیر۔ خاندانِ نبوت میں سے ایک حاملہ خاتون بچی تھیں، جنہوں نے ایک بچّے کو جنم دیا، توبچّے کا نام شمویل رکھاگیا۔شمویل ذرا بڑے ہوئے، تو والدہ نے بنی اسرائیل کے ایک بزرگ اور صالح شخص کے پاس تعلیم و تربیت کے لیے بھیج دیا۔ آپؑ جلد ہی توریت کے ایک بڑے عالم و فاضل کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے۔ بنی اسرائیل کے لیے ایک طویل عرصے بعد حضرت شمویل ؑ کی شکل میں ایک دینی و مذہبی شخصیت کسی نعمت سے کم نہ تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُنہیں منصبِ نبوّت سے سرفراز فرما کر بنی اسرائیل کی ہدایت پر مامور فرما دیا۔ (روح المعانی، جلد2، صفحہ142)۔بادشاہ مقرر کرنے کی درخواست:شمویل علیہ السلام کے زمانے میں بھی جالوت اور اس کی قوم کی شر انگیزیاں، ظالمانہ شرارتیں، لُوٹ مارکا سلسلہ جاری و ساری تھا۔ حضرت شمویلؑ کے درس و تبلیغ سے اُن کے اندر کچھ غیرتِ ایمانی جاگی، تو وہ حضرت شمویلؑ کے پاس آئے اور درخواست کی کہ ہم پر ایک بادشاہ مقرر کردیں۔
👇
بڑی معقول تشریح تھی چنانچہ مجھے تسلیم
کرنا پڑی
جہاں پناہ تیسرا مسئلہ میں نے انڈا دکھا کر پیش کیا کہ" زمین شکل و صورت کے اعتبار سے انڈے کی طرح گول ہے" ۔ملا نے پیاز دکھا کر تصحیح فرمائی کہ" سات آسمان اور زمین پیاز کی طرح تہ بہ تہ لپٹے ہوئے ہیں " - - -
تینوں جوابات مُسکت اور از حد عالمانہ تھے چنانچہ مجھے ملا کی علمیت تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں " ۔
اگلے روز بادشاہ نے ملا دو پیازہ سے دریافت کیا تو وہ کہنے لگا :-
" عالم پناہ وہ عالم کہاں کا تھا ، ایک جاہل اور گھامڑ تھا چناچہ معیار کم کرکے اُس کی سطح پر آکر جواب دینا پڑا" -
" وہ کیسے ؟" - ' بادشاہ نے تعجب سے دریافت کیا
" حضور اُس نے بیٹھتے ہی اپنی انگلی میری آنکھ کی طرف بڑھائی اور دھمکی دی کہ میں تیری آنکھ پھوڑ دونگا " - -
پھر" ؟"
جہاں پناہ میں نے جواب میں اشارہ دیا کہ میں تیری دونوں آنکھیں پھوڑ دونگا اِس پر وہ اور زیادہ بد تمیزی پر اُتر آیااور اشارہ دیا کہ تھپڑ ماروں گا ۔
اچھا ؟ بادشاہ نے سمجھتے ہوئے کہا ' جی عالم پناہ ، میں نے جواب دیا کہ ایسا گھونسہ ماروں گا کہ بتیسی باہر نکل آئے گی پھر جہاں پناہ ، وہ مجھے انڈا دکھانے لگا کہ میں یہ کھاتا ہوں اتنی طاقت ہے کہ میں تمہارا بھرکس نکال دوں گا ۔ واقعی ، ؟ جی جہاں پناہ ، لیکن بندے نے جواب میں پیاز دکھا ئی کہ یہ انڈے میں ملا کر کھاتا ہوں جس سے طاقت دس گنا ہو جاتی ہے اس لیے جان نکال دوں گا بس عالی جاہ ، پھر حضور کے اقبال کی بدولت وہ بھاگ نکلا ۔ "
ابو الحسن عرف ملاّ دوپیازہ نے 60 برس کی عمر پائی۔مغل اعظم احمد نگر کے محاصرے سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں ملاّ دوپیازہ بیمار پڑ گئے، اور مہینہ بھر بیماری کاٹ کر 1600میں قصبہ ہنڈیا میں انتقال کرگئے، چنانچہ کسی ظریف نے اسی وقت کہا کہ”واہ بھئی! ملاّ دوپیازے۔مر کے بھی ہنڈیا کا پیچھا نہ چھوڑا۔ ملاّ دوپیازہ اور لالا بیربل کے چٹکلوں سے مہابلی اکبر کا من خوب بہلتا تھا، سو ملا جی کی وفات پر اکبر کئی دن تک غمگین رہا۔
Copied
#موناسکندر
" ملا دو پیازہ" کا اصل نام "ابوالحسن بن ابو المحاسن بن ابو المکارم" تھا۔ مکّہ معظمہ کے قریب شہر طائف میں (عرب) میں 1540 کو پیدا ہوئے۔فطری طور پر ہنسوڑ اور ظریف تھے۔ ہنسنا ہنسانا عادت ثانیہ تھی۔
اس کے والد اس کی سوتیلی ماں سے لڑ جھگڑ کر گھر سے نکل گئےتو یہ اپنے والد کی تلاش میں نکلےاور قافلہ در قافلہ پھرنے لگے۔آخرکار ایک ایرانی قافلے کے ہمراہ ایران پہنچے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نصیر الدین ہمایوں ، شیر شاہ سوری سے شکست کھا کر امداد لینے ایران آیا ہوا تھا۔ہمایوں کے سپہ سالار بخش اللہ خان اور ایرانی سپہ سالار اکبر علی کی آپس میں گہری دوستی ہو گئی تھی۔ابو الحسن کی خوش مزاجی ، لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی نے سپہ سالار بخش اللہ خان کو بے حد متاثر کیا۔اس نے سپہ سالار اکبر علی سے ابوالحسن کو بطور یادگار مانگ لیا۔
شو مئی قسمت ابو الحسن کا مربی سپہ سالار بخش اللہ خان کابل کے ایک محاصرے میں مارا گیا، اور ابو الحسن فوج کے ہمراہ ہندوستان پہنچا۔
1556میں ماچھی واڑے کی لڑائی کے بعد ابو الحسن دہلی آ کر رہنے لگا۔ اس وقت ابو الحسن کی عمر 15،16 برس تھی مگر علم خاصا تھا۔ابو الحسن نے دنیا سے بیزار ہو کر شمس الامراء محمد خان لودھی کی مسجد میں ٹھکانا کر لیا۔علم کے اظہار اور خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا وصف بھی تھا، لہٰذا سب ابو الحسن کو " ملاّ جی ، ملاّ جی" کہنے لگے۔
رفتہ رفتہ ان کی خوش خلقی اور لطیفہ گوئی نے شہر بھر میں دھوم مچا دی۔ایک روز ملاّ جی ایک امیر کے ہاں دعوت پر گئے،وہاں ان کو ایک قسم کا کھانا بہت پسند آیاجو شخص ان کے برابر میں دسترخوان پر بیٹھا تھا اس سے دریافت کیا کہ اس کھانے کا نام کیا ہے؟جواب ملا اسے " دو پیازہ ". کہتے ہیں،کہ اس میں پکاتے وقت دو بار پیاز ڈالی جاتی ہے۔ ملاّ جی اس نام سے بہت خوش ہوئےاور یاد کر لیا، بلکہ عہد کر لیا کہ جب تک " دوپیازہ" دسترخوان پر نہ ہوگا وہ کسی کی ضیافت قبول نہ کریں گے۔
ملاّ جی کی یہ معصوم اور البیلی ادا بھی لوگوں کو بہت پسند آئی، پس لوگوں نے ملاّ جی کی دو پیازہ سے یہ رغبت دیکھ کر ان کا نام ہی "ملاّ دو پیازہ" رکھ دیا اور یہی نام انکی وجۂ شہرت بنا، اور اصل نام ابو الحسن بس پردہ رہ گیا۔
علامہ ابو الفیضی(ثم فیاضی)اور علامہ ابو الفضل دونوں بھائی ہی ملاّ دوپیازہ کے ہم جلیس اور مداح تھے۔علامہ فیضی اور ملاّ دوپیازہ کی دوستی تو یہاں تک بڑھی کہ علامہ فیضی نے عبادت خانہ الہٰی کا انتظام و انصرام ملاّ دوپیازہ کے سپرد کر دیا،اور شہنشاہ اکبر تک ان کو پہنچا دیا۔یوں قدرت نے انہیں ان کے صحیح مقام پر لا کھڑا کیا۔ ملاّ دوپیازہ کی ظرافت دربار میں پھلجھڑی چھوڑتی، باہر کا رخ کرتی تو کیا امیر کیا غریب سبھی سے خراج وصول کرتی۔
شہنشاہ اکبر کے دور میں ایک ایرانی عالم اور ملا دو پیازہ کا مشہور تاریخی مناظرہ منسوب کیا جاتا ھے ۔جس میں شرکا کو زبان کی بجائے صرف اشاروں سے کام لینا تھا رویت کے مطابق جب ایرانی عالم اور ملا دو پیازہ آمنے سامنے بیٹھ گئے تو ایرانی عالم نے اپنی انگشت شہادت بلند کی ،ملا نےجواب میں اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی ایرانی کے چہرے کے سامنے لہرائی ایرانی نے اثبات میں سر ہلایا ۔اُس کے بعد اُس نے اپنا داہنا ہاتھ پھیلا کر ملا کے سامنے کیا جواب میں ملا نے داہنا ہاتھ مٹھی کی صورت میں بند کیا اور ایرانی کے سامنے مکّے کی طرح بلند کیا ایرانی نے ستائش کے انداز میں سر ہلایا
پھر ایرانی عالم نے اپنے آدمی کے کان میں کچھ کہا اور اُس نے اپنی جیب سے انڈا نکال کر ملا کے سامنے رکھ دیا ۔ملا نے ایک نظر اُسے دیکھا اور اپنے آدمی کے کان میں سرگوشی کی وہ ذرا سی دیر میں ایک پیاز لے آیا جسے ملا نے ایرانی کے رکھے ہوئے انڈے کے ساتھ رکھ دیا ایرانی نے بے ساختہ کھڑے ہو کر ملا کو گلے لگا لیا اور واخح الفاظ میں اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے ملا کی علمی قابلیت اور حاضر دماغی کی زبردست تعریف کی بادشاہ نے حسب اعلان اپنے گلے سے بیش قیمت موتیوں کی مالا اتار کر ملا کے گلے میں ڈال دی اور خلعت و زر نقد بھی عطا کیا ملا فتحیاب اور کامران دربار سے رخصت ہو گیا
بعد میں شہنشاہ نے ایرانی عالم سے سوال و جواب کی
تشریح چاہی تو اُس نے کہا :-
" جہاں پناہ آپ کا عالم بے حد ذہین ، غضب کا حاضر دماغ اور علم و فن کا استاد ہے ۔ میں نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ دیا کہ" اللہ ایک ہے " - - ملا نے جواب میں دو انگلیاں دکھا کر واضح کیا کہ" مسلمانوں کے لیے اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں پر ایمان لانا ضروری ہے" -
جواب درست تھا ۔پھر میں نے ہاتھ سے اشارہ دیا کہ " قادر مطلق کی کائنات ہتھیلی کی طرح وسیع اور پھیلی ہوئی ہے" - - - ۔جواب ملا کہ "اس کے باوجود وہ اللہ کریم کے مکمل قبضہ قدرت میں ہیں اس طرح جیسے مٹھی میں بند کوئی چیز" ۔
👇
(سبز الائچی اور میتھرے کے انوکھے فوائد)
ھوالشافی چھوٹی سبز الائچی بہترین 250گرام
میتھرے(جو اچار میں ڈالتے ہیں پیلے رنگ کے سخت بیج ہوتے ہیں)250گرام
ترکیب تیاری دونوں کو کوٹ پیس کر بالکل باریک کر لیں اور ملا لیں دوا تیار ہے انشاءاللہ
خوراک 1چمچ صبح شام یا صبح دوپہر شام حسب طبیعت حسب مزاج استعمال کریں اور دودھ گائے یا پانی سے دودھ سے فوائد زیادہ ملیں گے انشاءاللہ
اب اس آسان بے ضرر ہر کسی کے علم میں موجود ان 2چیزوں سے بنے نسخے کے بار بار کے آزمودہ فوائد سنیں
فوائد پرانی سے پرانی بواسیر بادی ہو خونی ہو موہکے والی ہو یہاں تک کہ آپ بار بار آپریشن کروا چکے ہیں ان کے لئے آزمودہ تجربہ شدہ ہمیشہ کیلئے انشاءاللہ بواسیر سے نجات پائیں۔
ہیپا ٹائٹس کے مایوس مریضوں کو مہینہ دو مہینے یا اس سے زیادہ اور بعض اس سے بھی کم عرصے میں تندرست ہو تے دیکھے ہیں۔جو ڑوں کے درد کے پرانے سے پرانے مریض جن کے جسم کا کوئی بھی حصہ حرکت نہیں کر سکتا تھا۔وہ تندرست ہو ئے۔ عام اعصابی کمزور ی جسمانی کمزوری پٹھوں کا کچھاﺅ تھکان عورتوں اور مردو ں کے کمر کا درد مہروں اور ڈسک کے مسائل حیرت انگیز طور پر بہتر ہوئے۔بلکہ عجیب بات یہ ہے کئی مریضوں کے دل کے والو کھل گئے اور گِن کر میں نے اب تک 63 مریضوں کو یہ دوا دی ہے۔جو ازدواجی زندگی سے باکل غیر مطمئن اور ما یوس تھے ان میں جوان بڑے بوڑھے تک شامل ہیں۔خوا تین میں ایام کی بے قاعدگی مو ٹا پا اور لیکوریا کے امراض کے لیے یہ نسخہ بہت مفید ہے۔مر دو ں میں اولا د کے جرا ثیمو ں کی کمی تک کو دور کر تا ہے
بے اولادی کے بے شمار مریض ایسے جو بے اولادی میں مایوس ہوچکے تھے جنہوں نے علاج کرکر اپنے آپ کو تھکا دیا تھا ان کو حیرت انگیز اس کا فائدہ ہوگیا۔
یہ دوا ایسے مردوں کیلئے جن کے اندر بانجھ پن کا مرض ہو اور ان کے سپرم اس قابل نہ ہوں جو کہ اولاد پیدا کرنے میںطاقت اور قوت سے محروم ہوں ایسے لوگ چند ماہ اعتماد سے یہ دوا استعمال کریں۔ جہاں انہیں مردانہ طاقت‘ جسمانی قوت اعصابی قوت ملے گی وہاں اولاد پیدا کرنے والے جراثیم بھی بہت زیادہ بہتر ہوں گے۔
ایسی خواتین جو پرانی کمر کے درد کی مریضہ تھیں‘ ٹانگوں اور پنڈلیوں کا درد ایسا تھا جو ہروقت انہیں رنگ برنگی گولیاں کھانے میں مصروف رکھتا تھا اور وہ رنگ برنگی گولیاں ان کے معدے جگر اور دل کو نقصان پہنچا چکی تھیں لیکن وہ مجبوری کے عالم میں رنگ برنگی گولیاں کھا رہی تھیں جب انہوں نے یہ دوائی استعمال کی تو انہیں اس کے بہت حیرت انگیز رزلٹ ملے‘ کمر کا درد‘ مہروں کا درد‘ پٹھوں کا کھچاؤ‘ اعصابی کمزوری‘ جسمانی کمزوری اور دل دماغ کی کمزوری میں انہیں ایک نئی تازگی اور نئی فرحت دی اور ان کا جسم پہلے سے زیادہ صحت مند اور تندرست ہوگیا۔ایک اچانک انوکھا فائدہ جو خواتین کے سلسلے میں سامنے آیا ایسی خواتین جن کی سرینیں اور ہپس مسلسل بڑھ رہی ہیں چلنا پھرنا اٹھنا بیٹھنا ان کیلئے محال ہوگیا ہو‘ پیٹ لٹک رہا ہو‘ ایسی خواتین اکثر حمل کے بعد اس تکلیف میں مبتلا ہوتی ہیں جو بعض ایسی ہیں جو شادی کے بعد بھی لیکن وہ کم۔۔۔
ان تمام کیلئے اس دوا کا استعمال اگر چند ماہ باقاعدگی سے کیا جائے تو اس کے بہت زبردست رزلٹ ملیں گے۔ عمومی موٹاپے کیلئے اور خاص اس موٹاپے کیلئے اس کے بہت زیادہ فوائد ملے ہیں۔خواتین کی اندرونی نسوانی بیماریاں ایام کی خرابی‘ رسولیاں سسٹ‘ اندرونی ورم‘ اندرونی انفیکشن‘ پرانے سے پرانا لیکوریا‘ پاؤں کےبل بیٹھنے سے بوجھ بنتا ہو ان سب کے لئے انشاءاللہ آزمودہ بے
مردوں اور عورتوں کی پرانی گیس اور تبخیر بدہضمی‘ سینے کی جلن‘ پیٹ کی جلن‘ کھانا کھاتے ہی غنودگی اور کھانا کھاتے ہی طبیعت میں اکتاہٹ‘ بے زاری ان تمام تکلیفوں کیلئے ہے۔
بہت لاجواب چیز ہے اور بہت صحت مند اثرات اس سے ظاہر ہوتے ہیں‘ تندرستی میں‘ صحت میں خواہ اس کا تعلق معدہ ہو‘ گیس ہو‘ تبخیر ہو‘ بھوک کا نہ لگنا ہو یا کھانا کھاتے ہی کھٹی ڈکاریں‘ جلن‘ پیٹ کا بڑھنا ان تمام بیماریوں کیلئے یہ بہت مفید ہے۔ایک اور فائدہ جو کھل کر سامنے آیا وہ مردوں کیلئے ہے ایسے مرد جن کی ازدواجی زندگی ختم ہوچکی تھی۔ میاں بیوی کے معاملات میں سرد مہری بڑھ گئی تھی حتیٰ کہ اب تک انہوں نے اپنا بستر بھی جدا کرلیا۔ کمزوری اور خاص کمزوری بڑھتے بڑھتے مرد مایوسی سے آگے نکل گیا جب یہی دوائی کچھ عرصہ استعمال کرائی گئی تو مردانہ طاقت اور مردانہ قوتیں غالب آئیں جسم میں ایک انوکھا ولولہ پیدا ہوا طبیعت میں رجحان پیدا ہوا اور جسم میں قوت اور طاقت بڑھ گئی
نوٹ آسان نسخہ ہے ہر کوئی بنا سکتا ہے انشاءاللہ آزمودہ بے ضرر اور بہت مفید لاجواب نسخہ ہے انشاءاللہ بس چھوٹی الائچی خریدتے وقت سبز رنگ کی بہترین دیکھ کر لیں پیلی اور پرانی نہ ہو میتھرے میں سے پتھر کنکر ہوں تو صاف کر لیں
***پھٹکڑی کے فوائد***
پھٹکڑی جو ہر جگہ آسانی سے بہت کم قیمت میں مل جاتی ہے لیکن اسکی افادیت بہت زیادہ ہے۔پھٹکری بظاہر کوئی خاص شے نہیں لیکن پھٹکری میں پوشیدہ ہیں صحت کے خزانے ۔اسکی ادویاتی خصوصیت کے باعث مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے اسکااستعمال کیاجاتاہے۔معاملہ زخموں کو صاف اور دور کرنے کاہو،چہرہ کی خوبصورتی کی بات ہویادانتوں کی مضبوطی کی دونوں ہی صورتوں میں پھٹکری کااستعمال بہترین ہے۔
داد اورچنبل،
پھٹکری کو پیس کر پانی یاسرکہ میں ملاکر صبح وشام لگانے سے دور ہوجاتے ہیں۔سرکہ جلد کی بہترین دواہے اگر پھٹکری کے ساتھ ملاکرلگایاجائے تو دہرا فائدہ کرتاہے۔
خارش،
خارش دوطرح کی ہوتی ہے اور دونوں ہی صورتوں میں تکلیف دہ ہوتی ہے۔پھٹکری جلاکر راکھ بناکراسمیں ایک انڈہ کی سفیدی ملاکر مساج کرنے سے ہر قسم کی خارش میں آرام آجاتاہے۔
پیٹ درد،
پیٹ کادرد انتہائی تکلیف دہ ہوتاہے ۔جب بھی ایساکوئی مسئلہ ہوتو پھٹکری کی ایک چٹکی کھاکر اوپر سے دہی کھالیں۔پیٹ درد میں فوراً آرام آجاتاہے۔
دانتوں کے لئے،
دانتوں کے لئے پھٹکری کی بڑی افادیت ہے۔پھٹکری کوجلاکرجب وہ پھول جائے تو اسے ہاتھ سے مل کر پاؤڈر بنالیں۔ریٹھے کی گھٹلی کی راکھ اور پھٹکری کی راکھ ہم وزن لے کردانتوں پر ملیں تو آرام آجاتاہے۔
دانتوں کی بیماریاں،
پھٹکری اورکیکر کاکوئلہ ہم وزن لے کر باریک پیس کر کپڑے سے چھان کررکھ لیں۔اس کو دانتوں پر ملنے سے دانتوں کی تمام بیماریوں میں آرام ملتاہے۔
کھانسی اوردمہ،
پھٹکری کو پانی میں حل کرکے دن میں تین بار ایک چھوٹاچمچم پینے سے کھانسی سے نجات مل جاتی ہے۔شہد میں ملاکر صبح وشام لینے سے بھی آرام ملتاہے۔
ناک کی بو
اگر ناک سے بو آتی ہوتوپھٹکری کو پانی میں حل کرکے اس محلول سے ناک کی صفائی کریں۔تو اس عمل سے ناک سے بوآنابند ہوجاتی ہے۔
کیل مہاسے
پھٹکری کو پیس کرکپڑے سے چھان کر پانی میں ملاکر پیسٹ بناکر صرف دانوں پر لگاکر بیس منٹ بعد دھونے سے دانے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔
خشکی،
صرف ایک چٹکی پھٹکری اور ایک چٹکی نمک شیمپو میں ملاکر سر دھونے سے خشکی دور ہوتی ہے۔
جوؤں سے نجات
بچوں کے سر میں جوئیں ماؤں کابڑا مسئلہ ہوتی ہیں۔ اگر پانی میں پھٹکری حل کرکے اس پانی سے سر دھویاجائے تو بالوں میں جوئیں نہیں پڑتی ہیں۔
پھٹی ایڑیاں،
پھٹکری جلاکر باریک پیس کر ناریل کے تیل میں ملاکر ایڑھیوں پرلگانے سے پٹھی ایڑیاں ٹھیک ہوجاتی ہیں۔
نکسیر کے لئے
پھٹکڑی کوپانی میں گھول کر اس کے قطرے ناک میں ٹپکانے سے نکسیر کوآرام آجاتا ہے۔
زہریلی مکھی یا بچھو کے زہر کو دور کرنے کیلئے
پھٹکڑی کو پانی میں گھس کر ڈنگ پر اور اس کے ارد گرد لگانے سے درد اور جلن کو فوری آرام آجاتا ہے۔
گردے👀 اور مثانہ کی پتھری کے لئے
دو ماشہ پھٹکڑی بریاں صبح و شام پانی کے ساتھ کھائیں۔ زیادہ تکلیف کے وقت دوپہر میں بھی کھائیں۔
زخموں کے لئے،
ایک ماشہ پھٹکڑی کو پاؤ بھر گرم پانی میں گھول کر دن میں دو بار زخموں کو دھونے سے زخم اچھے ہو جاتے ہیں۔ زخموں کا گنداپن دور کرنے کے لئے پھٹکری عجیب چیز ہے۔ اس سے گلا سڑا اور گندا گوشت دور ہو تا ہے۔
مرگی کا علاج،
ایک ماشہ پھٹکڑی بریاں دن میں دو بار گرم دودھ کے ساتھ کھانے سے مرگی دور ہو جاتی ہے۔
گلٹیوں کا علاج،
دو ماشہ پھٹکری بریاں گرم دودھ کے ساتھ کھائیں۔ گیہوں اور السی کے آٹے کو سرسوں کے تیل میں بطور پلٹس پکا کر ٹکیہ بنائیں پھر اس پر باریک پسی ہوئی پھٹکڑی ڈال کر گرم گرم گلٹی پر باندھ دیں۔ دن میں تین بار اس نسخہ کو آزمائیں۔
دانتوں سے خون آنے کا علاج،
ایک تولہ کوئلہ لکڑی جامن، ایک تولہ پھٹکڑی پیس کر دانتوں پر ملنے سے خون آنا بند ہو جاتا ہے
جوڑوں کے درد والے حضرات کیلئے ایک مفید مشورہ
میری والدہ کو ایک مسئلہ در پیش ہوا۔ گھٹنوں میں درد شروع ہوا وہ بہت تکلیف میں تھی تمام ڈاکٹرز سے مشورہ کے بعد ان کو صرف pain killer دیئے گئے اور جب میں نے مختلف ڈاکٹرز سے اس سلسلے میں
ایٹمی تابکاری تیس دن کے اندر پوری دنیا میں پھیل جائے گی جس سے پوری دنیا میں کم و بیش انیس کروڑ لوگ مارے جائیں گے۔
تیسرا مرحلہ نیوکلئیر ونٹر ہو گا۔
ایٹم بم گرنے کے باعث آسمان میں انتہائی بلندیوں تک گرد و غبار کی وجہ سے پوری دنیا میں شدید ترین سردی پڑے گی جس سے پودے
نیٹو ممالک کی کل آبادی کا 9 فیصد یعنی آٹھ سے نو کروڑ مارا جائے گا جبکہ روس کی تقریباً باسٹھ فیصد آبادی یعنی آٹھ سے نو کروڑ کے درمیان مارے جائیں گے۔
اسکے بعد دوسرا مرحلہ نیوکلئیر فال آوٹ یعنی ایٹمی تابکاری کے پھیلنے کا عمل سٹارٹ ہو گا۔۔