مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا
اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا
گرا دیا ہے تو ساحل پہ انتظار نہ کر
اگر وہ ڈوب گیا ہے تو دور نکلے گا
اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف
ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا
یقیں نہ آئے تو اک با�� پوچھ کر دیکھو
جو ہنس رہا ہے وہ زخموں سے چور نکلے گا
اس آستین سے اشکوں کو پوچھنے والے
اس آستین سے خنجر ضرور نکلے گا
امیر قزلباش
اُنکو ناموس بھی، عزت بھی، پذیرائی بھی
مُجھ کو مُیسّر نہیں رونے کو تنہائی بھی
اپنے ہی حال پہ ہنسنا ، کبھی ہنس کے رونا
میں بیک وقت تماشا بھی ، تماشائی بھی
Be-khaloos logoon se ijtenab karna hai,
Mujh ko apnay rishtoon ka ehtasab karna hai.
Tum ko bhool jana hai, tum ko yaad rakhna hai,
Dukh tu aik jaisa hai, intakhab karna hai.........!!