"ہم نے عدالت میں بتایا کہ محمد انور کا بیٹا انتقال کر گیا ہے، جنازہ تیار ہے جبکہ انکا بجلی کا بل بھی ادا ہو چکا ہے لہٰذا انکو ضمانت دی جائے۔۔۔" 30 ہزار کا بل ادا نہ کرنے اور بجلی چوری کے الزام میں گرفتار شہری کے بیٹے کی خودکشی پر @adeebyousufzai کی رپورٹ
https://t.co/iyeuyZwRFs
لوگوں کے گھروں کے اور دکانوں کے تھڑے ضرور گرائیں لیکن خود بھی سڑکیں ہر سال اونچی کرکے لوگوں کے گھر نہ ڈبوئیں۔ پہلے گورنمنٹ عمل کرے پھر عوام سے امید رکھے۔
@naziagoraya اور اساتذہ کی ریشنلائزیشن تو ضرور ہونی چاہیے لیکن ان کو اوپن ٹرانسفر میں موقع ملنا چاہیے اور پرائیورٹائزیشن فوری رکنی چاہیے۔
پہلے محکمہ کے وزیر کہتے تھے کہ اساتذہ کی کمی ہے پرائیورٹائزیشن کر رہے ہیں جب 12 ہزار سکول پرائیویٹ ہو گیا تو اب سر پلس ہوگئے۔ ایسے تو کوئی بھی سرپلس ہو سک
ہوش کے ناخن لو
ہوش کے ناخن لو
ہوش کے ناخن لو
جو ہیڈز کی سیٹس آپ چند ہزار روپے کی بدولت لینے کا زہن بنا رہے ہیں ان پہ 67% ان سروس پروموشن کے ذریعے آپ کا ویسے بھی حق ہے۔
بہتر یہ ہے پروموشن پہ بات کی جائے
اپنے سروس سٹرکچر کو مضبوط بنانے پہ بات کی جائے۔
ہوش کے ناخن لو
ایم ایس کی گرفتاری والا سین کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سرکاری ڈاکٹرز فرعون سے کم نہیں لیکن آپ اسے نوکری سے برخاست کر سکتے تھے سسپینڈ کرسکتے تھے۔انکوائری کرواتے
اسمبلی میں سخت قوانین بنائیں
ہڑتال کرنے والے ڈاکٹرز کو بھی نوکریوں سے برخاستگی اور لائسنس کینسل
تنخواہ دار طبقہ 545 ارب روپے ٹیکس دیتا ہے۔ برآمد کنندگان سے 3 گنا اور ریٹیلرز سے 8 گنا زیادہ, مگر حکومت کاروباریوں کو نوازتی ہے, کیونکہ وہ اُسکا ووٹ بینک ہیں۔ جبکہ سیلیریڈ کلاس کی نہ تو کوئ پارلیمنٹ میں آواز ہے اور نہ پالیسی سازی میں۔
وہ صرف اپنی خاموشی کی قیمت ادا کرتے ہیں!
محترم وزیر تعلیم پنجاب جناب رانا سکندر حیات صاحب (تعلیم کا سپاہی )تھوڑا وقت نکال کر یہ پڑھ لیں۔امید ہے اس سے آپ اساتذہ کے بنیادی مسائل سمجھ جائیں گے اور یہ بھی کے اساتذہ 500 روپے کے لیے نہیں اپنے ان غصب شدہ حقوق کے لیے احتجاج کرتے ہیں
@RanaSikandarH#RespectForTeacher
سر 17۔Aرول کے مطابق جو ملازمین دوران ملازمت فوت ہو جاتا ہے اس کے بیٹے کو ملازمت ملتی ہےنہ کے بیمار ملازمین کے بیٹے کو۔اگر کچھ ہیں تو ان کو روکنا حکومت کا کام ہے نہ کہ آپ رول ہی ختم کر دیں۔یہ تو مخلص ملازمین کے ساتھ زیادتی ہے
@RanaSikandarH@GovtofPunjabPK
سرکاری ملازمین پر ظلم کی کہانی ضرور سنیں ۔آپ کو پتا چل جائے گا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ، آپ کے لخت جگر آپ کے آباؤ اجداد کی قربانیوں سے حاصل کئے گئے ملک پاکستان کو چھوڑ کر غیروں میں جا کر آباد ہونے کو کیوں ترجیح دے رہے ہیں؟
جان کی امان پاؤں تو عرض یہ ھے کہ اپنی جیب سے کسی کو انعام دینا پھر اسکو شو اف کرنا۔
اساتذہ نے تو نہیں کہا کہ دیں انعام اپنی جیب سے۔
اگر دے رھے تو اپنی مرضی سے دے رھے۔
میں سکول میں کسی بچے کو انعام دیکر پورے سکول کا چوھدری بننے کا حق تو نہیں رکھتا۔
وزیر موصوف ایچی سن کالج کی بالکونی سےتعلیمی مسائل کا مشاہدہ کرتے ہیں، اے سی کلاس روم، گھوڑے کی سواری، اور کلب کی سہولیات سے مستفید ہو کر پنجاب میں تعلیمی انقلاب لانے کے خواہاں ہیں۔ لیکن تعلیم کا دکھ وہی سمجھ سکتا ہے جس نے خستہ عمارتوں، گرمی سے جھلستے کمروں سے تعلیم حاصل کی ہو۔