فواد چوہدری صاحب ،
فوج سے سپیس عوام نے لے کر دینی تھی اور عوام نے آٹھ فروری کو ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا
مطلب خان کی سیاسی حکمت عملی کی عوام نے تائید کر دی
ایک فریق آئین کو ہی نہیں مان رہا تو کیا اسے آئین کا تابع ہونے کا مشورہ دینے کی ضرورت ہے یا عوامی مینڈیٹ والوں کو غیر آئینی اقدام کرنے والوں کا تابع ہونے کا؟
ملک آئین کے مطابق چلانا ہے یا چند جنرلوں کی خواہشات کے مطابق ؟
کبھی ایوب کبھی یحییٰ کبھی ضیاء کبھی مشرف اور کبھی عاصم منیر ؟
کیا دائرے میں ہی گول گول گھومنا ہے ؟
اور اگر جرنیلوں کے سامنے بھاؤ تاؤ کر کے ہی ملک چلنے ہیں تو پھر عمران خان سیاست میں آئے ہی کیوں ؟ جب اس بھاؤ تاؤ کر کے سپیس لینے کے ماہر نواز زرداری سیاست میں موجود تھے -
آپ نے سارا وقت جنرل باجوہ سے انگیجمنٹ کی۔ انہوں نے آپکے پلے کیا چھوڑا ؟
آپ بار بار کہتے ہیں فوج سے رابطہ ختم نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ آپ کا جنرل باجوہ سے بھرپور رابطہ تھا۔ کیا انہوں نے آپکے رابطے کا احترام کیا۔ انکے لگائے ہوئے سارے جرنیلوں نے آپ کے حلقے سے ایک سیاسی نابالغ کو فارم 47 پر جتوا کر اسمبلی میں بھجوا دیا۔ آپ تو انگیجمنٹ والا رویہ رکھتے تھے۔ انکا احترام بھی کرتے تھے۔ سیاسی رموز سے بھی واقف تھے۔ پھر انہوں نے آپکی جگہ پر ایک نابالغ کو چنا۔
کئی بار میز پر بیٹھ کر ہارتے جانا اور بیٹھے رہنے سے ہار کر میز سے اٹھ جانا بہتر ہوتا ہے۔
باقی یقین کریں ملک سے باہر ایک ایک دن مشکل گزرتا ہے۔ دعا ہے خان صاحب جیل سے باہر آئیں اور ہم بھی آپکے برابر والی چھت پر پتنگ چڑھائیں تُنکے ماریں پیچے لڑائیں۔ کیوں پاکستان سب کا ہے۔ اس کی رجسٹری ہمیں ملک بدر کرنے والے جرنیلوں نے نہیں کروا رکھی۔
صمد جی۔
اللہ کو حاضر ناضر جان کر قسم دیتا ہوں اس دن میرے لیڈر نے ایک بھی (لِسی ) کمزور بات نہیں کی۔ ایک لمحے کو ایک ایسا لفظ نہ بولا جس مجھے لگا ہو کہ میرا لیڈر کمزور پڑا ہوا۔ چہرے پر مسکراہٹ رہی۔ بھرپور اعتماد۔ رعب -
آخری لمحے گاڑی میں بیٹھنے لگے تو میری ایک ضد اور بار بار اصرار ہر انہوں نے مجھے ڈانٹا۔بہت ساری باتیں اگر آج کہوں تو پانی میں آگ لگ جائے۔ میں خان صاحب کے جیل سے باہر آبے کا منتظر ہوں۔ پھر سب کھول کر بیان کروں گا۔ ابھی خاموش ہوں کیونکہ میرے سچ کی وجہ سے میرے دلیر لیڈر پر اور پریشانیاں آئیں گی۔
لیکن ایک بات ہے۔ میں مڈل کلاس سے نکلا ایک عام شخص۔ اس آخری دن کپتان نے صبح 11 بجے سے رات لیٹ تک مجھے کئی مشکل ٹاسک دہیے۔ ایسے ٹاسک جس میں امانت اور integrity کا ٹیسٹ تھا۔ مجھے لگتا ہے میں نے اپنے لیڈر کو مایوس نہیں کیا۔ باقی میرا اللہ جانتا ہے۔ اور خوب انصاف والا ہے۔
اپنی اوقات سے اوپر جا کر اس دن میں کھیلا۔ شائید میری زندگی کا وہ مشکل اور بہترین اننگز تھی۔ میری اوقات سے بڑھ کر وزن میرے لیڈر نے ڈالا۔ اور اللہ نے مجھے اسے اٹھانے کا حوصلہ اور ہمت دی۔
میں نے اس دن جو جو مشورہ دیا۔ پوری ایمانداری سے دیا۔ اور بعدمیں تقریباً سب کچھ درست ثابت ہوا۔ یہ نہیں کہ مجھ میں عقل زیادہ تھی۔ نہیں۔ ہم مڈل کلاسیوں کو جو عزت دیتا ہے ہم اس کے لئے پھر سب فدا کر ڈالتے ہیں۔ اس دن میری لیڈر نے جو عزت بھرم اور اعتماد مجھے بخشا وہ میری زندگی کا اثاثہ ہے۔
کوئی مجھے سے کچھ بھی چھین سکتا ہے لیکن اس دن میرے لیڈر نے مجھے اوپنر کے طور پر بھیجا۔ سوچیں دسویں یا گیارویں نمبر والے سے خان نے اوپن کروایا۔ اور میں نے جم کر بیٹنگ کی۔ کسی نے میرا بازو پکڑ دھمکی دی تو میں نے صرف اتنا کہا۔ اللہ مالک ہے۔ کوئی بات نہیں۔ میں اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتا۔
کیوں کہ خدا گواہ ہے خان اس دن شاندار کھیلا۔ متانت عزت آبرو اور پوری دھج سے شوکت خانم کے بیٹے نے حالات اور فرعون کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر فیصلے کیے- میں تو بس دوسری اینڈ پر ادنا کارکن سنگل لینے والا تھا۔ یا گیند روک رہا تھا۔ چھکے چوکے تو اس دن عمران احمد نیازی نے لگائے۔ انشاللہ وقت بدلے گا۔ سب شئیر کروں گا۔
آپ سب کی محبتوں کا شکریہ۔