نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں
تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد
آج کا دن گزر نہ جائے کہیں
نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں
آرزو ہے کہ تو یہاں آئے
اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں
جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں
رائیگاں یہ ہنر نہ جائے کہیں
آو کچھ دیر رو ہی لیں ناصر
پھر یہ دریا اتر نہ جائے کہیں
ناصر کاظمی
بیٹوں نے تو گھر بانٹ دیا اپنی خوشی کو
اماں کو مگر صحن کی دیوار کا دکھ ہے
آ جائیں شمار اور یہ سر کاٹ کے لے جائیں
وہ لوگ کہ جن کو میری دستار کا دکھ ہے
اختر شمار
ہر بات میں ملے گا ذکر اسکا
اسکے بنا میری ہر بات ادھوری ہے
پروردگار تجھے بتایا بھی ہے وہ شخص
مجھ کو تیری ہی طرح ضروری ہے
اسلامُ آباد
#KateMiddleton#水曜日のダウンタウン