"Want to learn AI free and effectively?
Here are some top resources:
1️⃣ *Coursera*: ( https://t.co/5hnh6r564j)
(Machine Learning by Andrew Ng)
2️⃣ *edX*:(https://t.co/aBh64dqjO1) (AI and Data Science courses)
3️⃣ *Udemy*: (https://t.co/iiZDNbRvcp) (AI and Machine Learning courses)
4️⃣ *Kaggle*: (https://t.co/RGZOhf1CMx) (AI competitions and learning resources)
5️⃣ *GitHub*: (https://t.co/ybryEamAym) (Open-source AI projects)
Follow @HameedQ100 for more AI insights and tips!
#AI #MachineLearning #LearningResources"
*سور چربی کی تاریخ*
*ڈاکٹر ایم امجد خان*
*ہر مسلمان کے لئے یہ پڑھنا بہت ضروری ہے*
*یورپ سمیت تقریبا تمام امریکی ممالک میں گوشت کے لئے بنیادی انتخاب سور ہے۔ اس جانور کو پالنے کے لئے ان ممالک میں بہت سے فارم ہیں۔ صرف فرانس میں ، پگ فارمز کا حصہ 42،000 سے زیادہ ہے*۔
*کسی بھی جانور کے مقابلے میں سور میں زیادہ مقدار میں FAT ہوتی ہے۔ لیکن یورپی و امریکی اس مہلک چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔*
*اس چربی کو ٹھکانے لگانا ان ممالک کے محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس چربی کو ختم کرنا محکمہ خوراک کا بہت بڑا سردرد تھا۔*
*اسے ختم کرنے کے لیئے باضابطہ طور پر اسے جلایا گیا، لگ بھگ 60 سال بعد انہوں نے پھر اس کے استعمال کے بارے میں سوچا تاکہ پیسے بھی کمائے جا سکیں۔ صابن بنانے میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔*
*شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر contents کی تفصیل میں pig fat واضح طور پر لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔*
*چونکہ ان کی مصنوعات کے بڑے خرہدار مسلمان ممالک ہیں اور ان ممالک کی طرف سے ان مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے ان کو تجارتی خسارہ ہوا۔ 1857 میں اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجود گن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہو گئیں۔*
*اس کے بعد وہ سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے اس چربی کی پرت کو نوچنا پڑتا تھا۔ جب یہ بات پھیل گئی کہ ان گولیوں میں سور کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو فوجیوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سبزی خور ہندو تھے نے لڑنے سے انکار کردیا ، جو آخر کار خانہ جنگی کا باعث بنا۔ یورپی باشندوں نے ان *حقائق کو پہچان لیا اور PIG FAT لکھنے کے بجائےانہوں نے FIM لکھنا شروع کر دیا*
*1970کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے...؟* *تو انہیں بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا ، کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی حلال طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔*
*اس طرح ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر کا نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔۔۔!*
*آخر کار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ صرف ان کے اپنےمحکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیا* *استعمال کر رہے ہیں اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اس طرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ E-INGREDIENTS کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں*،
*ان مصنوعات میں*
*دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس ، بسکٹ،کارن فلاکس،ٹافیاں*
*کینڈیڈ فوڈز ملٹی وٹامنز اور بہت سی ادویات شامل ہیں* *چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے۔*
*سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے۔*
*لہذا تمام مسلمانوں اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے ITEMS کی خریداری کرتے وقت ان کے content کی* *فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہو تو پھر اس سے یقینی طور پر بچیں،* *کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔*
*E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E904*
*ڈاکٹر ایم امجد خان*
*میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ*
*👈براہ کرم اس وقت تک شیئر کرتے رہیں جب تک کہ وہ بلائنس آف مسملز ورلڈ وائڈ پر نہ آجائیں*۔
*یاد رھے کہ شیئرنگ صدقة جاريه میں گردانی جا سکتی ھے*
Copy
🚨 Former cricketer Javed Miandad couldn’t control his emotions and broke down in tears while urging the government to release Imran Khan.
Miandad said, “I know Imran very well, and he has never been someone who cares about making money through corruption or enriching himself. He is a deeply honest man and deserves to be released immediately.”
آج جاوید میانداد اور عمران خان کے درمیان اس جھپّی کی گرمجوشی کی یاد پھر سے تازہ ہو گئی!
کپتان کی ناحق قید پر جو جاوید میانداد صاحب کی آواز میں شدید کرب سنائی دیا اور چہرے پر جو دُکھ و تکلیف دکھائی دی، اُسی کرب و تکلیف و دُکھ میں پاکستان کی اکثریت عوام مُبتلا ہے! 💔😔
One World Cup. Two universities. Three cancer hospitals. Thirty years of political struggle and family sacrifice. Four bullets. Three years in jail. No crime. Still standing. One man. One eye. One mission. Zero surrender.
Imran Ahmed Khan Niazi, what a man. No one can be like you. ❤️
Pat Cummins has thrown his weight behind the ongoing campaign by former international captains seeking medical care for former Pakistan prime minister and captain Imran Khan
Read more: https://t.co/GImzOT5ZhR
پولیس نے اب تک 4 ملزمان عدالت میں پیش کئے ہیں جن میں صرف ایک کی عمر 18 سال سے کم ہے ایسا تفتیشی افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے ۔ پولیس نے مقدمے میں اب PPC 302 یعنی قتل، 364-A یعنی 14 سال سے کم عمر بچے کا اغوا، اور 375 یعنی ریپ سمیت سنگین دفعات شامل کردی ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے علاوہ ڈی این اے کے نمونے بھی تجزیے کے لیے لیباریٹری بھجوائے گئے ہیں۔
آیت نور کے مظلوم والد کیساتھ اوپر اللہ ہے اور نیچے آپ لوگ ہیں اور کوئی نہیں ۔ اللہ کے بعد اب آپ لوگ ہی ان کا سہارا ہے ۔ آپ نے انصاف کیلئے آواز اٹھانی ہے ۔ آپ کے سامنے کوئی طاقتور شخصیت نہیں کھڑی رہ سکتی ۔ اس سوشل میڈیا نے بڑے بڑے بُت گرائے ہیں ۔
اور آپ لوگ ہی ہوں گے جو آیت نور کو انصاف دلوائیں گے ۔ آواز اٹھاتے رہیں ۔ جب تک انصاف نہیں ہوجاتا آپ لوگوں نے آیت نور کیلئے پوسٹس کرنی ہیں ۔ اس معصوم بچی کی شکل نہیں بھولنی جب تک آیت نور کو انصاف نہ مل جائے ۔
#JusticeForAyatNoor
بڑا دشمن بنا پھرتا ہے
جو بچوں سے لڑتا ہے
شہر ہے کہ ویڈیو ریکارڈ ہو گئی ورنہ میڈیا اور ٹاؤٹس ہمیں بتا رہے ہوتے کہ طلبہ وطالبات نے فوجی افسر پر پستول سے حملہ کیا، اب سرحد یونیورسٹی کے طلباء را کے ایجنٹ نکل آئیں گے ان سے بھارتی کرنسی اور راکٹ لانچر بھی برآمد ہوں گے۔
#ذہنی_مریض
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.