Vice President of European Commission @kajakallas told me that Pakistan needs to improve the human rights situation because it is benefiting from GSP plus status and this status is linked with 27 international conventions,the monitoring report about Pakistan will come next month.
آج سے 6 سال پہلے گلگت انتخابات میں تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی تھی، لیکن آج کے انتخابات میں تحریک انصاف مائنس تھی۔ یہی سبق باقی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ہے کہ جس پارٹی کو آج کامیابی ملتی ہے، وہ اگلے انتخابات میں مائنس بھی ہو سکتی ہے؛ حامد میر
#GBelection
Some sweet memories of Gudda (Atif Mateen). Difficult to believe that he is no more. Thanks to Lahore Press Club for organising a gathering of his old colleagues. @AmirMateen2@javeednusrat@arifanoor72@aamirghauri
Another victim of target killing. A prominant journalist from Musa Khel area of Balochistan Lala Israfeel was assassinated by unknown people. CM Balochistan Sarfraz Bugti issued a condolence message. Local authorities should arrest the culprits and provide justice to Israfeel.
امجد اسلام امجد نے کہا تھا
تھے خواب ایک ہمارے بھی اور تمہارے بھی
پر اپنا کھیل دکھاتے رہے ستارے بھی
یہ زندگی ہے یہاں اس طرح ہی ہوتا ہے
سبھی نے بوجھ سے لادے ہیں کچھ اتارے بھی
سوال یہ ہے کہ آپس میں ہم ملیں کیسے
ہمیشہ ساتھ تو چلتے ہیں دو کنارے بھی
بہت سے کام رہتے ہیں، تمہارے بھی ہمارے ب��ی
کروڑوں لوگ بُھوکے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
کھلونوں والی عُمروں میں اِنہیں ہم موت کیوں بانٹیں ؟
بڑے معصوم بچے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
پڑوسی یار ! جانے دو، ہنسو اور مسکرانے دو
مسلسل اشک بہتے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
بھلا اقبال و غالب کا کہاں بٹوارہ ممکن ہے ؟
کہ یہ سانجھے اثاثے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
اگر نفرت ضروری ہے تو سرحد پر اکٹھے کیوں ؟
پرندے دانہ چُگتے ہیں، تمہارے بھی ہمارے بھی
چلو مل کر لڑیں ہم تُم جہالت اور غربت سے
بہت سپنے اُدھورے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
سنبھالیں اُن کو مل جُل کر سکھائیں فن محبت کا
بہت جوشیلے لڑکے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
اِدھر لاہور اُدھر دِلّی، کہاں جائیں گے ہم فارس
یہی دو چار قصبے ہیں تمہارے بھی ہمارے بھی
رحمان فارس
تجویز تو اچھی ہے لیکن عوامی ایکشن کمیٹی الیکشن نہیں لڑتی مہاجرین کی نشستوں پر اعتراض کی اہم وجہ یہ ہے کہ مہاجرین کا کوئی مستند ڈیٹا میسر نہیں مہاجرین کی ووٹر لسٹیں غیر مصدقہ ہیں ان نشستوں پر الیکشن صوبائی حکومتیں کراتی ہیں جن پر آزادکشمیر الیکشن کمیشن کا کنٹرول برائے نام ہوتا ہے اور ٹرن آؤٹ بھی بہت کم ہوتا ہے آخر میں ان نشستوں کو پولیٹکل انجینیئرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے
27جولائ کو آزاد کشمیر کے الیکشن ھیں ۔ ایکشن کمیٹی ککا مطالبہ ھے کشمیر اسمبلی کی پاکستان سے منتخب ھونے والی 12 نشستیں ختم کی جائیں۔ الیکشن سے پہلے یہ مطالبہ انتخابی عمل کو سبو تاژ کرنے کے مترادف ھے۔ جمہوری سوچ کا تقاضا ھے کہ جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ھیں وہ اسکو 27جولائ کو عوام کے سامنے رکھیں اور خلق خدا کو یہ فیصلہ کرنے دیں اور نمائندگی کی شکل تشکیل کرنے دیں ۔ یہ جمہوری سوچ ھو گی ورنہ یہ بلیک میلنگ تصور ھو گی۔
سیالکوٹ شہر وتحصیل سے کشمیر اسمبلی کی ایک سالم سیٹ ھے ۔ اور پاکستان قومی اسمبلی کی دو نشستیں ھیں ۔ باقی پاکستان میں کشمیر اسمبلی کے حلق�� پھیلے ھوۓ ھیں۔ یہاں کشمیری مہاجروں کی زیادہ تعداد جموں سے ھے۔ اکتوبر 1947 میں مہاجر دو لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی دیکر سیالکوٹ شہر اور تحصیل میں آکر بسے ۔ لاکھوں عصمتیں لٹیں ھزاروں بیٹیاں ��غوا ھوئیں ۔ آپ کسطرح ان مہاجروں انکے حق سے محروم کر سکتے ھیں ۔
کئی دہائیاں ان مہاجروں نےنہایت کسمپرسی کی حالت میں گزاری ۔ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم رہے۔ ان لوگوں نے آزادی کی بہت مہنگی قیمت ادا کی ھوئی ھے۔
اپنی راۓ کو تسلیم کرانے کے لئے جمہوری رستہ اپنائیں ۔
Russian President Putin lectured a Pakistan obsessed Indian journalist “I don't think Pakistan is a country that is fully under the control of China. Pakistan is a large country, and it has multi-faceted ties with different countries”.
St. Petersburg | On impact of Pakistan-China relations on India, Russian President Vladimir Putin says, "We are well aware of the intricacies of the issues concerning the border between India and Pakistan. I don't think Pakistan is a country that is fully under the control of China. Pakistan is a large country, and it has multi-faceted ties with different countries. They need to take into account the cooperation with China, but everyone is developing relations with China... India ranks third, Russia ranks fourth in terms of GDP... China, US, India, and Russia are the top four countries... These are delicate, multi-faceted relations between India and China, and interfering in them is not a good idea. We interact with our friends in both India and China... President Xi and PM Modi are both trying to resolve all the issues of mutual interest, including the relations on the border... As for Russia, we have our own relations with China and India. No one is holding grudges... Relations between Russia and India do not disturb China, our relations with China do not disturb India... Take BRICS for example. At one point, I suggested that leaders of India and China meet here; which is how Russia-India-China was established. We had things to talk about, to agree upon, we started doing later on, then we were joined by Brazil..."
(Source: Host Broadcaster via Reuters)
اشرف قریشی پر پاکستان کی جیلوں میں ہونے والا تشدد ایک تاریخی حقیقت ہے لیکن یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ جب وہ پاکستان آئے تو انکی تعلیم صرف انٹر تھی پھر انہوں نے یہاں مزید تعلیم حاصل کی پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کشمیری زبان میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی اسی یونیورسٹی میں استاد بنے اور شعبہ کشمیر یات پنجاب یونیورسٹی کے سربراہ بھی بنے پروفیسر ڈاکٹر اشرف قریشی نے 2013 میں وفات پائی
پنجاب یونیورسٹی لاہور میں مقبول بٹ شہید اشرف قریشی اور ہاشم قریشی صاحب کا استقبال۔
وہ دن جب لاہور نے کشمیر کی آواز سنی 1971 کا سال پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی ہنگامہ خیز سال تھا۔ مشرقی پاکستان میں خون بہہ رہا تھا، سیاسی طوفان تھا، اور نوجوان نسل ہر طرف سوالات اٹھا رہی تھی۔ اسی ماحول میں پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طلبہ نے تین کشمیری حریت پسندوں کا والہانہ استقبال کیا۔مقبول بٹ، اشرف قریشی اور ہاشم قریشی یہ تین نام اس وقت کشمیری نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے کشمیر کی آزادی کو نہ بھارت کے ساتھ جوڑا، نہ پاکستان کے ساتھ بلکہ انہوں نے صاف اور دو ٹوک الفاظ میں کہا:
"کشمیر نہ بھارت کا ہے، نہ پاکستان کا کشمیر صرف کشمیریوں کا ہے۔"
یہ آواز اس دور میں ایک انقلاب تھی۔پنجاب یونیورسٹی کے استقبال سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ تینوں کشمیری نوجوان کس پس منظر میں لاہور آئے تھے۔30 جنوری 1971 کو ہاشم قریشی اور اشرف قریشی نے انڈین ایئرلائنز کے طیارے "گنگا" کو سری نگر سے لاہور لے جانے پر مجبور کیا۔ یہ کوئی دہشت گردی نہ تھی یہ ایک سیاسی احتجاج تھا۔ بھارتی جیلوں میں قید کشمیری نوجوانوں کی رہائی کے لیے آواز اٹھانے کا انتہائی اور جرات مندانہ قدم تھا اور تمام مسافروں کو بحفاظت رہا کیا گیا۔اس وقت پاکستانی میڈیا اور عوام نے انہیں ہیروز کہا۔ لوگ ان سے ملنے آئے۔ پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ نے انہیں بلایا۔ ان کے استقبال میں نعرے لگے، تقریریں ہوئیں۔
جب یہ تینوں حریت پسند پنجاب یونیورسٹی لاہور پہنچے تو طلبہ کا جم غفیر ان کے استقبال کے لیے موجود تھا۔ نوجوان آنکھوں میں چمک تھی، دلوں میں جوش تھا۔لیکن جب مقبول بٹ نے بات کی تو انہوں نے وہ کہا جو سننے والوں نے شاید توقع نہیں کی تھی۔ انہوں نے صاف کہا کشمیر کا مسئلہ صرف کشمیریوں کا مسئلہ ہے
پاکستان یا بھارت کا الحاق کشمیریوں کی منزل نہیں کشمیری عوام کو اپنا مستقبل خود طے کرنے کا حق ہے اور ریاست جموں کشمیر کی آزادی ہماری منزل ہے۔ہاشم قریشی اور اشرف قریشی نے بھی یہی موقف دہرایا۔ یہ الفاظ طلبہ کے دلوں میں اترے لیکن یہی الفاظ ان تینوں کے لیے وبالِ جان بن گئے۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے جب دیکھا کہ یہ تینوں پاکستان کے مفادات کے لیے نہیں بلکہ کشمیریوں کی حقیقی آزادی کے لیے کام کر رہے ہیں تو رویہ یکدم بدل گیا۔ ہیرو راتوں رات مجرم بن گئے۔
جون 1971 میں ہاشم قریشی کو شاہی قلعہ لاہور لے جایا گیا جہاں ان پر بے انتہا تشدد کیا گیا۔ شاہی قلعہ مغل بادشاہوں کی شان و شوکت کی علامت تھا جو بعد میں پاکستانی ریاست کا عقوبت خانہ بن چکا تھا۔تشدد کے بعد انہیں ملتان سنٹرل جیل میں ایک تنہا سیل میں بند کر دیا گیا۔ جہاں تک میں نے پڑھا یہ سیل صرف 12×8 فٹ کی تھی اور چھ ماہ تک وہ اس تنہا کوٹھری میں بند رہے۔
جب انہوں نے سپریٹنڈنٹ سے صرف یہ مانگا کہ چند گھنٹے باہر چلنے پھرنے دیا جائے جیسا سزائے موت کے قیدیوں کو بھی دیا جاتا ہے تو جواب ملا ہمیں ڈر ہے کہ آپ کہیں اڑ نہ جائیں۔
یکم اکتوبر 1971 کو ہاشم قریشی نے اسی تنہا سیل میں نمازیں اور تلاوت کرتے ہوئے اپنی 18ویں سالگرہ منائی۔2 دسمبر 1971 کو انہیں ملتان سے لاہور کیمپ جیل منتقل کیا گیا جہاں مارشل ل�� کے تحت اسپیشل کورٹ میں مقدمہ چلایا گیا۔
مقبول بٹ کا سفر اس سے بھی زیادہ المناک تھا۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے انہیں اپنا دشمن قرار دیا۔ بھارتی قید میں انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔9 فروری 1984 کو دہلی کی تہاڑ جیل میں مقبول بٹ کو پھانسی دے دی گئی۔ان کی لاش تک خاندان کو نہیں دی گئی۔ آج بھی وہ اپنی سرزمین سے دور تہاڑ جیل کے احاطے میں دفن ہیں
مقبول بٹ، ہاشم قریشی اور اشرف قریشی کی کہانی ہمیں وہ تلخ سچائی بتاتی ہے جسے اکثر چھپایا جاتا ہےکشمیری عوام کو صرف بھارت نے نہیں کچلا۔جب تک یہ حریت پسند پاکستانی مفادات کے لیے مفید تھے انہیں ہیرو کہا گیا، استقبال کیا گیا، پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔جیسے ہی انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے آلہ کار نہیں، ہم ریاست جموں کشمیر ازاد چاہتے ہیں اسی لمحے ان کا عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا۔شاہی قلعے کی کالی کوٹھریاں، ملتان جیل کے تنہا سیل، مارشل لا کی عدالتیں یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔
مقبول بٹ شہید ہو گئے لیکن ان کا خواب زندہ ہے۔ہاشم قریشی نے جیل کاٹی، تشدد سہا، لیکن سچ نہیں چھوڑا۔اشرف قریشی نے مشکلیں برداشت کیں لیکن موقف نہیں بدلا۔1971 میں پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طلبہ کے سامنے جو الفاظ کہے گئے وہ آج بھی اتنے ہی سچے ہیں جتنے اس دن تھے کشمیر نہ بھارت کا ہے، نہ پاکستان کا کشمیر صرف کشمیریوں کا ہے
گلگت بلتستان میں الیکشن محض ایک دکھاوا ہے فیصلہ پہلے ہو چکا اب اسکا اعلان ہونا ہے تحریک انصاف کو اس الیکشن سے مائنس کرنے کے لئے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا گیاہے ہمارے لوگوں پر جھوٹے مقدمات کی بھرمار کر دی گئی ہے انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے ، عامر ڈوگر کی وفاقی حکومت پر چارج شیٹ
رانا ثنا اللہ کا شکریہ کہ انہوں نے مقبول بٹ کو سب سے بڑا شہید اور مجاہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انکی فیملی بھی مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آئی تو پشاور میں آباد ہوئی رانا صاحب کو بتایا شہید مقبول بٹ کی کتاب شعور فردا پر نواز شریف کے دور میں پابندی لگائی گئی تھی وہ تو ختم کروا دیں
بینظیر انکم سپورٹس پروگرام میں بہت زیادہ کرپشن ہے پنجاب کی حد تک اسکا ڈیٹا درست نہ��ں ہے، رانا ثنا اللہ نے پنجاب میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے خاتمے کا اشارہ دیدیا
Let’s not distort the facts; Kashmir is an internationally recognised dispute between India and Pakistan, still on the agenda of the UN Security Council. Despite its efforts in the past, India couldn’t pull the Kashmir dispute out of the UNSC’s agenda. India is in occupation of Jammu and Kashmir, not Turkiye.
Turkey's Foreign Minister on India's obsession with Pakistan:-
"If India is going to be resentful about any country having good relations with Pakistan, then there are going to be many such countries."
Yes, that’s absolutely correct! Refugee seats have become primarily an Instrument of Rigging, politically ‘Weaponised’ to destabilise ‘undesirable’ regimes in Muzaffarabad & for political engineering! Time to delink Azad Kashmir from Pakistani politics as it’s Base Camp for Kashmir Liberation Movement & ensure a genuinely free & fair election!
بجٹ کے بعد مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو پھر نواز شریف اور بلاول بہت پیچھے رہ جائیں گے۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ایسی تحریک شروع ہو سکتی ہے جو کسی سیاسی جماعت کے کنٹرول میں نہیں ہوگی گلگت بلتستان میں فری اینڈ فیئر الیکشن میں ہی ریاست کا بھلا ہے https://t.co/wIyitMcAVa
پیپلز پارٹی ایک طرف تو مسلم لیگ ن پر گلگت بلتستان میں ڈکیتی کا الزام لگا رہی ہے دوسری طرف آزاد کشمیر اور بلوچستان میں دونوں جماعتوں نے مل کر حکومتیں بنا رکھی ہیں کیا یہ سیاسی منافقت نہیں؟ کیا ایسے رویوں سے سیاستدان اپنی ساکھ مجروح نہیں کر رہے؟
پیپلز پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے الیکشن میں ڈکیتی کی تیاری کر رہی ہے اگر یہ ڈکیتی کامیاب ہو گئی تو پھرگلگت بلتس��ان میں بھی ویسا ہی احتجاج ہو گا جیسا احتجاج 9 جون کو آزادکشمیر میں ہونے والا ہے
Indian Army Chief General Upendra Dwivedi tried very hard to become the CDS. Sadly, he did not realise that closeness to the NSA was the only qualification for the post. He may retire on June 30th.
Retirement of Upendra Dwivedi as the army chief on June 30 is both bad & good news for him.
Bad, because he tried very hard to become the CDS. Sadly, he did not realise that closeness to the NSA was the only qualification for the post.
Good, because now he can scream to his heart's content how he would have altered Pakistan's geography & history in Sindoor.2. No one will now give a damn to his nonsense.
Upendra hugely downgraded the seriousness of his office by such stupid utterance. He sounded more like a politician than a military commander who had done his war appreciation!
بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے گورنر نے پاکستان کو بنجر بنانے کے ایک منصوبے کااعلان کیا ہے اور کہا ہے دریائے چناب سے ایک سرنگ نکال کر پانی کو بیاس میں منتقل کیاجائے گا اور تین سال میں پاکستان کا پانی مکمل بند ہو جائے گاعالمی قانون کی یہ کھلی خلاف ورزی پاکستان کے خلاف اعلان جنگ ہے