پچھلی مرتبہ سنجانی جلسے کے بعد پوری کابینہ کہتی رہی ہمارا وزیراعلی غائب ہوگیا ہے لیکن وزیراعلی نے آکر کہا میری ذاتی مصروفیات تھیں۔ خیبرپختونخواہ کا وزیراعلی اب بھی خودساختہ روپوشی میں ہے کیونکہ یہ اسکی عادت ہے، احمد کنڈی
@thursday_times
ہماری تباہ و بربادی کا ماتم کرنے والوں میں یہ لوگ بھی پچھتر سال سے شامل ہوتے رہے ہیں جو خود اس تباہی کی بنیادی وجہ تھے ۔ کوئی ان کا نام اس لئیے نہیں لیتا تھا کیوں کہ ان کی طرف انگلی اٹھانے والوں کی انگلی کاٹنے کے دھمکیاں کل بھی اور آج بھی دی جاتی ہیں
*کرغیزستان کی ڈاکٹر ساز منڈی*
تحریر: ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری
حالیہ دنوں میں پاکستان میں کرغیزستان کا نام ہر اخبار اور ٹی وی کے سکرینوں پر نظر آ رہا ہے، اس کی وجہ وہاں موجود پاکستان میڈیکل کے طلبا پر مقامی باشندوں کے پرتشدد حملے ہیں۔ یہ ملک ازبکستان کو چھوڑ کر اس خطے کا سب سے غریب اور غیر ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس لیے اس کی ایک تہائی آبادی دیگر ملکوں میں کام کی تلاش میں جاتی ہے۔ اس ملک کا سب سے بڑا بزنس جسم فروشی ہے۔ اور اس کے افراد دیگر وسطی ایشیائی ممالک کی طرح دیگر ملکوں میں بھی جسم فروشی کے لیے جاتے ہیں۔
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ گزشتہ ایک دو دہائیوں میں اچانک پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، مصر اور دیگر ترقی پذیر ممالک سے ہزاروں کی تعداد میں میڈیکل کے طلبا نے اس ملک کا رُخ کرنا شروع کر دیا اور یہاں بڑی تعداد میں میڈیکل یونیورسٹیاں اور کالجز بننا شروع ہو گئے۔ ان یونیورسٹیوں کے پانچ سے لے کر پندرہ پندرہ کیمپسز ہیں۔ مجھے 2015 میں جب میں پشاور یونیورسٹی میں ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ تھا۔ اس ملک اور اس کے تمام ہمسایہ ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا ہے اور میں نے ان ممالک کا تعلیمی نظام ان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کو جا کر دیکھا ہے۔
کرغیزستان کے تعلیمی اداروں کا ��ال انتہائی ناگفتہ بہ تھا، اور وہاں کسی کو بھی انگریزی زبان نہیں آتی تھی، سارے لوگ کرغیز اور روسی زبان میں بات چیت کرتے تھے، کہیں کہیں ازبک زبان بھی لوگ بول لیتے تھے، ان کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں تھیں۔ کرغیز حکومت کی یہ بہت بڑی خواہش تھی کہ وہ پاکستانی یونیورسٹیوں کے سات ایم او یو سائن کریں۔ اور ان ایم او یوز کا ایک ہی بنیادی مقصد تھا کہ پاکستانی یونیورسٹیاں ان طلبا کو جن کو وہ داخلہ نہیں دے سکتی ہیں، قائل کریں کہ وہ کرغیز یونیورسٹیوں میں داخلہ لیں جس میں انہیں مختلف رعایتیں دی جائیں گی۔
یہاں تک تو ان کا مطالبہ کسی حد تک درست تھا۔ مگر یہ ساری باتیں بتانے والے اور پاکستان کی یونیورسٹیوں کو ایم او یو کے لیے راغب کرنے والے لوگ کرغیز نہیں تھے بلکہ یہ پاکستانی ہی تھے جن کا تعلق لاہور اور پنجاب کے کچھ شہروں سے تھا۔ یہ زیادہ پڑھے لکھے اور تعلیم کے شعبہ کے ماہرین بھی نہیں تھے۔ میں نے جب کرغیز یوں سے معلوم کیا کہ ان لوگوں کو انہوں نے بطور ترجمان رکھا ہے۔ تو ان کا جواب بہت چونکا دینے والا تھا۔
کہ یہ سب لوگ جو ہندوستانی، بنگلہ دیشی، پاکستانی، ترک اور مصری ہیں یہ یہاں تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں۔ ان لوگوں نے یہاں بہت انویسٹمنٹ کی ہے۔ جن دو پاکستانی حضرات سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ وہ ٹریول ایجنٹ تھے۔ اس دور میں جو پمفلٹ انہوں نے ہمیں دیے تھے وہ لاہور سے چھپ کر گئے تھے۔ جن کو پڑھ کر حیرت ہوتی تھی کہ وہاں میڈیکل میں داخلے کی شرائط صرف بارہ برس کی تعلیم تھی، اور کوئی دوسری شرط نہیں تھی اور ان پر لکھا ہوا تھا کہ طالب علم کو سو فیصد یقینی پانچ برس میں ایم ڈی کی ڈگری دی جائے گی، جس کو وہی ادارے پاکستان کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے پاس کرنے کی ذمہ داری بھی لے رہے تھے۔
ایسا دنیا میں شاید ہی کہیں ہوتا ہو گا۔ میں جس یونیورسٹی سے گیا تھا اس کا میڈیکل کی تعلیم سے کچھ لینا دینا نہیں تھا اس لیے میں نے اس وقت زیادہ کریدنے کی کوشش نہیں کی لیکن وہاں موجود جو ایجنٹ تھے انہوں نے بار بار آفر کی کہ جو طلبا آپ کی توسط سے آئیں گے ہم اس کا آپ کو معقول کمیشن دیں گے۔ اور آپ ہمارے وہاں نمائندہ بن جائیں۔ جس پر ہم نے ہنس کر ان کو ٹال دیا تھا۔ بشکیک میں ایک مخصوص جگہ پر بہت زیادہ تعداد میں ہاسٹل تعمیر ہوئے تھے جن میں ہزاروں کی تعداد میں طلبا رہائش پذیر تھے اور ان علاقوں کا انتظام پاکستانی اور زیادہ تر ہندوستانی لوگوں کے ہاتھوں میں تھا۔
اس علاقہ میں جاکر ایسا لگتا تھا کہ جیسے بندہ پاکستان آ گیا ہو اور لاہور یا راولپنڈی میں کہیں گھوم رہا ہو مگر ایک فرق تھا وہ یہ کہ سینکڑوں کی تعداد میں کرغیز اور ازبک جسم فروش عورتیں ہر جگہ آپ کا پیچھے کرتی تھیں اور چند سو پاکستانی روپوں کے عوض جسم فروشی کی پیشکش کرتی تھیں۔ اس ماحول اور صورتحال کو دیکھ کر ہم نے وہاں دس پندرہ منٹ سے زیادہ وقت نہیں گزرا اور وہاں سے بخیر وعافیت رخصتی کو غنیمت جان کر اپنے ہوٹل کا رُخ کیا۔
جن چند پاکستان طالب علموں سے وہاں بات چیت ہوئی ان سب کا کہنا تھا کہ پڑھائی اور پریکٹس نام کی کوئی شے وہاں پر نہیں ہے۔ مگر سب طالب علم لازمی پاس ہوتے ہیں اور بہتر گریڈز کے لیے اضافی پیسے دینے پڑتے ہیں۔ یہی حالت جلال آباد اور اوش کے شہروں میں بھی تھی۔ ان تینوں شہروں میں پاکستانیوں کی اتنی زیادہ تعداد تھی کہ حیرت ہوتی تھی کہ یہ اتنے سارے پاکستانی یہاں کیسے آ گئے۔ ان شہروں کی یونیورسٹیوں کے میڈیکل کالجز کے کیمپسوں میں جاکر ایسا لگتا تھا کہ یہ
👇
RIP Aimen Sarwar, History Dept alumna. Condolences to her family & loved ones. Her legacy in history & memories of her vibrant spirit will live on
#AimenSarwar#HistoryDepartment#Alumni
“Springtime is upon us.
The birds celebrate her return
with festive song,
and murmuring streams
are softly caressed
by the breezes.”
― Antonio Lucio Vivaldi