@AhmadFarhadReal کمال، واقعی شاعر کہانی کو ۱ شعر میں بیان کردیتے ہیں۔ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچ جائے۔ ادارہ کی آئینی حدود اور ذمداری بھی بتائی اور بائیکاٹ بھی
#گولی_کیوں_چلائی
فورسز، ایجنسیاں میری بیٹی کے گھر کے باہر موجود ہیں۔ پوری آبادی کو تم نے پریشان کیا ہوا ہے۔ لوگوں کا کیا قصور ہے؟
میرے داماد، بیرسٹر شاہزیب ہاشمی، کو انہوں نے پاکستان ٹاؤن کی مسجد میں جانے اور نماز پڑھنے سے روک دیا ہے۔ جتھوں کی صورت میں آئی ایس آئی اور فورسز موجود ہیں۔ میرے داماد شاہد بہار کے کمرے کے باہر بیٹھے ہیں۔ جو دیواریں، جو گھر یہ گرا کر گئے ہیں، ان کے اوپر یہ دندناتے پھر رہے ہیں، جیسے کوئی بڑی چیز فتح کر لی ہے۔
میرے رشتہ دار مخدوم شاہد ہاشمی جو شہر میں رہتے ہیں ان کو فیض ٹاؤن سے اٹھا لیا ہے۔
دوسروں کو انتشاری کہنا بند کرو، تم خود انتشاری ٹولہ ہو۔
اپنی بیٹی آمنہ ہاشمی کے ہمراہ گھر سے روانہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ
سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا۔
Sunan Abi Dawud 4344
"دیکھیں مسئلہ غیر قانونی یا نا قانونی کا نہیں ہے—اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، یہ بڑے بدقسمت ہیں۔ ہمارے جتنے بھی جج ہیں، چیف منسٹرز ہیں، یہ سب 60 سال سے اوپر ہو چکے ہیں اور ان کے پاس 15 سے 20 سال باقی ہیں۔ اس 15-20 سال کو قبر سے پہلے ٹھیک کرنے کے لیے یہ اپنی آخرت برباد کر رہے ہیں۔ ان سے بڑا بدقسمت کون ہوگا؟ اللہ نے ان کو اس قوم کو ٹھیک کرنے کا موقع دیا تھا لیکن یہ الٹے راستے پر چل پڑے۔"
"جہاں تک خان صاحب اور ان کی بہنوں کا تعلق ہے، یہ تو خوش قسمت ہیں۔ جیل میں بندہ کوئی گناہ نہیں کر سکتا—نہ کسی کی غیبت کر سکتا ہے اور نہ جھوٹ بول سکتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ان کی غیبت ہو رہی ہے۔ جنید بغدادی نے فرمایا تھا کہ 'اگر میں کسی کی غیبت کروں تو اپنی ماں کی کروں، تاکہ میرے گناہ انہیں مل جائیں اور ان کی نیکیاں مجھے مل جائیں'۔ تو سوچیں اس وقت خان صاحب کو کتنی نیکیاں مل رہی ہوں گی! اور ان کی بہنیں اس جدوجہد کو سعادت اور فخر سمجھ کر کر رہی ہیں، کوئی سزا سمجھ کر نہیں—اور جو لوگ اسے سعادت سمجھتے ہوں، انہیں آپ کبھی شکست نہیں دے سکتے۔"
"یہ لوگ جتنا چاہے ظلم کر لیں، ہمارے درجات ہی بلند ہو رہے ہیں۔ آج سے 500 سال پہلے بھی فرعون جیسے لوگ تھے، اب وہ کہاں ہیں؟ اور 500 سال پہلے خان صاحب جیسے لوگ بھی تھے جو فرعونوں کے خلاف لڑتے تھے—آج 500 سال سے قبر میں ایک شخص مصیبت میں ہے اور دوسرا چین و سکون میں ہے۔ اب فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہمیں مصیبت والی آخرت چاہیے یا سکون والی۔ کیا یہ لوگ اللہ کو ناراض کر کے اپنی دنیا یا آخرت بنا سکتے ہیں؟ ایک آدمی نے 100 قتل کیے تھے، لیکن جب اس نے سچی توبہ کی تو اللہ نے اسے معاف کر دیا۔ اس لیے میری ان کے لیے کوئی بددعا نہیں ہے، بلکہ میں یہی دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کو مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق دے دے۔"
عمران خان کے بہنوئی اور ڈاکٹر عظمی خان کے شوہر احد خان کی گفتگو
ان شاء اللہ 8 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔ جو قیادت خان صاحب کے بیانیے کے ساتھ نہیں چل سکتی، وہ مہربانی کرکے ایک طرف ہو جائے اور دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع دے۔
پارٹی کے کارکنان ان تمام قیادت پر نظر رکھیں جو صرف خانہ پُری کر رہی ہے، ان کی نشاندہی کریں اور آئندہ کے لیے ان کے ٹکٹوں اور عہدوں کی مخالفت کریں۔
پارٹی میں مزید یہ نہیں چلے گا کہ کچھ لوگ جیلوں میں ہوں، کچھ ہر روز ایف آئی آرز اور نااہلیوں کا سامنا صرف خان صاحب سے وفاداری کی وجہ سے کر رہے ہوں، جبکہ کچھ لوگ نہ کارکنان کا بوجھ اٹھائیں اور نہ ہی خان صاحب کے نظریے کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔
سہیل آفریدی صاحب کی نااہلی کی واحد وجہ عمران خان صاحب سے وفاداری ہوگی۔ اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ خان کے وفاداروں کے خلاف فیصلے آنے کے بعد سب کو اس سسٹم سے نکلنا ہوگا۔
مزاحمت کا نشان،ضمیر کا قیدی،عوام کے حق حکمرانی کا علمبردار،ہار نہ ماننے والے کپتان کو سالگرہ مبارک ہو۔۔۔
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے۔
"اگر چھبیس نومبر کی طرح گولیاں چلاتے ہیں تو چلائیں ہم قربان ہونے نکلیں ہیں خود کو بچانے نہیں، عمران خان نے اس ملک و قوم کے لیے کیا کچھ نہیں کیا جتنا کچھ خان صاحب نے اس ملک کے غریب شہریوں کے لیے کیا اور کسی نے نہیں کیا۔ ہم امن کے لیے نکلے ہیں دہشتگردی کا الزام لگانے والے خود دہشتگرد لاتے ہیں ہم نہیں"۔ لانگ مارچ میں شریک کرک کے ایک بزرگ شہری کی گفتگو
جنرل صاحب : خیبر پختون خواہ حکومت بہت ضدی ہے تعاون نہیں کرتی آپ ایسا کریں بلوچستان حکومت کے تعاون سے پہلے بلوچستان میں دہشت گردی ختم کر لیں تاکہ ہم مثال بنا کر پیش کر سکیں کہ صوبائی حکومت تعاون کرے تو ہم دہشتگردی ختم کر سکتے ہیں۔
”اسٹیبلشمنٹ کا کارندہ پریس کانفرنس میں مجھے کہتا ہے کہ میں ناسمجھ ہوں اور امیچور ہوں۔
1. تو فرض کریں میں یہ بیان دوں کہ مجھے انڈیا سے نہیں، باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے، تو میں آپ کے لیے سمجھدار ہو جاؤں گا؟
2. جو مجھے کہتا ہے میں ناسمجھ ہوں، جن کے جلسوں میں وردی کے خلاف نعرے لگے، کیا میں وہ نعرے لگاؤں کہ آپ مجھے سمجھدار سمجھیں؟
3. اگر میں اسمبلی کے فلور پر کہوں (جیسے خواجہ آصف نے کہا) کہ فوج نے ہماری ہڈیاں نوچ کھائی ہیں، پھر میں آپ کے لیے سمجھدار ہوں؟
4. اگر میں انٹرنیشنل میڈیا میں کہوں کہ فوج ڈرٹی گیمز کا حصہ ہے، کیا میں آپ کے لیے سمجھدار ہوں گا؟“ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا اسٹیبلشمنٹ کے کارندے سے سوال۔
عمران خان، تمہیں قدرت نے 25 کروڑ لوگوں کو آزاد کرانے کی ذمہ داری سونپی ہے، اور تم اسے جوانمردی اور دلیری سے نبھا رہے ہو۔
تم جانتے ہو، اکیلے تم نے آزاد نہیں ہونا۔ تمہارے ساتھ 25 کروڑ پاکستانیوں نے آزاد ہونا ہے۔ اللہ تمہیں کامیاب کرے۔
Happiest Birthday Imran Khan
رجیم چینج کے بعد پی ڈی ایم حکومت کے سامنے افغانستان سے طالبان کو واپس لانے کے منصوبے کو ڈی جی آئی اور آرمی چیف نے رکھا اور انہوں نے بغیر کسے چوں چرا کے لبیک کہا۔ وہی پلان جس پر عمران خان اور ہم نے ابسولوٹلی ناٹ کہا تھا۔ اگلے ہفتے افغانستان ایک وفد بھیجا گیا جس کو عوامی نمائندہ وفد کہا گیا۔ میں نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھائے کہ منتخب اراکین میں سے کوئی نہیں گیا کس کو ہمارے فیصلے کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے؟
جولائی ۲۰۲۲ کے آخری دن افغانستان سے طالبان کی پہلے تشکیل ہوئی۔اگست کے پہلے ہفتے میں جب سوات اور دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تو ہم نے مجبوراً عوامی طاقت سے ان کو واپس دھکیلا۔ پہلے آئ ایس آئی اور فوج نے دھمکیاں دیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ، پھر جب عوامی طاقت کے سامنے بے بس ہوئے تو مجھے الیونتھ کور،آئی ایس پی آر اور آیی ایس آیی سے فون کروایا کہ ”دیکھیں مراد صاحب وعدے کے مطابق آپ کا سوات کلییر ہوگیا ہے آپ نے باقیوں کو ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا”۔ٹھیکا تو ہم نے لے رکھا تھا، کہا جب تک یہ واپس نہیں جائیں گے مظاہرے جاری رہیں گے۔ اور ۱۶ اگست ۲۰۲۲ کو آخری بندہ بھی سرحد پار چلا گیا۔ آئ ایس پی آر نے اس کا کریڈٹ لیا۔ پریس ریلیز جاری کی۔
اس کے بعد تو امن ہونا چاہئے تھا ناں؟
سرحد پر باڑ لگی ہوئی تھی، سیکورٹی یقینی بنانی چاہئے تھی ناں؟
لیکن ستمبر ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پھر سے ان کو لانے کا انتظام کیا گیا۔ اس دفعہ دونوں جانب سے کالز موصول ہوئیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ۔ ہم کیسے رُک سکتے تھے؟ ہماری تو زندگیوں کا سوال تھا۔ عوام کو موبلائز کیا پھر بھی سنوائی نہیں ہوئی۔ پنڈی میں مظاہرہ کیا اور اگلے دن پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ فوج کی گاڑیاں آئیں، پولیس کو ہٹایا اور ان کو واپس افغانستان کی سرحد پر چھوڑ آئے۔ مجھے وارن کیا کہ یو ہیو کراسڈ دی لائن۔۔ کون سی لائن؟ امن قائم کرنا بھی فوج کی ریڈ لائن ہوگئی؟
پھر فیصلہ ہوا کہ مالاکنڈ والے تو آنے نہیں دے رہے لہذا جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے۔ یہ اطلاع ملتے ہی میں نے اسلام آباد میریٹ میں دہشت گردی کی واپسی اور نئی لہر کے عنوان سے میڈیا، تجزیہ نگاروں، سفارت کاروں، سابق پولیس افسران اور سیکورٹی ایکسپرٹس کے لیے سیمینار رکھا کہ پالیسی بدلیں ورنہ پھر جنازے اٹھیں گے۔ جنوبی اضلاع سے تحریک اٹھانے کا اعلان بھی کیا۔ پھر یوں ہوا کہ بغاوت، غداری، دہشت گردی کے مقدموں کے بعد سر کی قیمت بھی لگا دی اور یہ سب نو مئی سے پہلے ہوا۔ پھر اپنے مضموم مقاصد کی تکمیل کے لیے نو مئی کا سہارا لیا گیا۔
اب بجائے اس کے کہ اپنی غلط پالیسی پر معافی مانگ کر پختونخواہ اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں، علماء، طلباء، وکلاء، سول سوسائٹی، میڈیا ودیگر کے جرگے میں بنی پالیسی اپنا کر دنوں میں امن حاصل کیا جائے اپنی اسی ڈالری جنگ کا ایندھن اپنے جوانوں اور شہریوں کو بنایا جا رہا ہے۔
عمران خان کی رہائی کے لیے شروع ہونے والا مارچ اب صرف عمران خان کی رہائی تک محدود نہیں رہا۔ واضح ہوا کہ جو میڈ اپ دہشت گردی لائی گئی اب ایک مرتبہ پھر آپ کو اس کا ایندھن بنانے کے لیے عمران خان کی حکومت صوبے میں ختم کرکے وہی کھیل شروع کرنا ہے۔
پورے پختونخواہ کو پیغام دو اگر بے گھری سے بچنا ہے۔ آئی ڈی پی کیمپس کی زندگی نہیں چاہئے، مارٹر گولوں، لڑاکا طیاروں اور توپ کی گولیوں کا نشانہ نہیں بننا چاہتے۔ اپنے ہی گھر میں گلے میں شناختی پٹے ڈال کر چیک پوسٹوں پر ذلیل ہونے کے بعد، ان گھس بیٹھیوں کے اس سوال کا سامنا نہیں چاہتے کہ ”تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں کو جارہے ہو؟“ تو پوچھو کہ تم ہو کون ہمارے فیصلے کرنے والے؟ للکارو کہ ہم اپنے گھروں سے بے گھر نہیں ہوں گے۔ نکلو۔ کہ یہ لڑائ آج سے پہلے بھی صرف عمران خان کی نہیں تھی۔ اور آج تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ داؤ پر لگی یہ زندگیاں تمہاری ہیں۔ جیل میں بیٹھا عمران خان، تمہارے ووٹوں سے بنی اس کی یہ حکومت تو محض ان خون آشام درندوں کے مقابلے میں تمہاری آخری ڈھال ہیں۔