“The youth of Balochistan are no longer ready to listen to me or other politicians.”
@sakhtarmengal
“They study their own history, see the facts, witness the oppression and victimisation, and then make their own decisions.”
You can silence leaders. You cannot silence a generation that has already made up its mind.
#Balochistan #AkhtarMengal #TheUnmutedVoice
ہمارے عظیم شہداء کے مقدس لہو کا قرض نہ خاموشی سے ادا ہو سکتا ہے، نہ غلامی سے اور نہ ہی سمجھوتوں سے۔ ان کے لہو کی حرمت کا تقاضا ہے کہ ہم آزادی کے لیے مزاحمتی جدوجہد کا حصہ بنیں، کیونکہ شہداء کی قربانیوں کا حقیقی صلہ صرف آزادی ہے۔
دو سال پہلے 28 جولائی کے دن، گوادر کی سرزمین نے ایک ایسا باب دیکھا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
بلوچ راجی مچی محض ایک اجتماع نہیں تھا، بلکہ ایک قوم کے وجود اور اجتماعی شعور کا اعلان تھا۔ مگر اس پُرامن اجتماع کا جواب ریاست نے گولیوں، تشدد، گھروں پر چھاپوں اور خوف کی سیاست سے دیا۔
ریاست نے سمجھا تھا کہ بندوقوں، لاٹھیوں، گھروں پر چھاپوں اور خونریزی سے بلوچ راجی مچی کی آواز کو خاموش کیا جا سکتا ہے۔ مگر وہ یہ بھول گئے کہ جب ایک قوم اپنے اجتماعی شعور کے ساتھ اٹھ کھڑی ہو، تو جبر اس کے قدم کو روک نہیں سکتا۔
دو سال بعد بھی ہم اس دن کو صرف یاد نہیں کرتے، بلکہ اسے بلوچ قومی جدوجہد کی تاریخ کے ایک ناقابلِ فراموش باب کے طور پر محفوظ رکھتے ہیں۔
ہم تمہارے جبر، تشدد اور ہر ظلم کو بھی تاریخ کے صفحات پر محفوظ رکھیں گے، اور اُس عظیم تاریخی لمحے کو بھی جب پوری بلوچ قوم نے ایک آواز ہو کر اپنے قومی شعور، اجتماعی ارادے اور اپنے وجود کا اعلان کیا۔
ہم تاریخ کے گواہ بھی ہیں، تاریخ کے وارث بھی، اور اسی جدوجہد کے امین بھی۔
#2YearsOfRaajiMuchi #BalochNationalGathering
This mother waited 1 year and 2 months to see her 14-year-old son again. This is how she was finally reunited with him. 💔 May #Balochistan be soon free from Pakistan Army's tyranny.
وہی جج عبدالحکیم جو دو روز قبل مستونگ میں قتل کیے گئے نے تربت میں CTD کے خلاف FIR درج کرنے کا حکم دیا تھا۔CTD نے بالاچ مولابخش کو مبینہ طور پر حراست میں لے کر قتل کر دیا تھا جس کے بعد بلوچستان میں شدید احتجاج ہوا جو اسلام آباد میں ایک ماہ تک جاری رہنے والے دھرنے پر ختم ہوا۔ ⬇️
پنجابی بھائی المعروف بلوچی، قبیلہ مستونگی۔۔۔
ہماری قومیت بلوچ ہے اور بلوچی ہماری زبان ہے۔ آپ کی پیش کردہ تاویل درست نہیں کیونکہ بلوچی کوئی قوم نہیں بلکہ ایک زبان
ہے۔
تم پنجابی ہو اس لئے بلوچ اور بلوچی کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہو۔
آج مستونگ میں ہونے والے مسلح حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ صاحب اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت کی خبر سن کر شدید دکھ ہوئی۔
مجھے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات، خصوصاً ان کی ضمانت کی درخواستوں میں، متعدد بار مستونگ میں حکیم صاحب کی عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملا۔ ان کی زندگی میں بہت سی باتیں ایسی تھیں جو میں نہیں لکھ پائی لیکن آج مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ دراصل کیسے انسان اور کیسے جج تھے۔
میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ عبدالحکیم کاکڑ ایک نہایت دیانت دار، اصول پسند اور باوقار جج تھے۔ وہ اکثر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات کی قانونی نوعیت پر مجھ سے کھل کر بات کیا کرتے تھے۔ کئی بار انہوں نے مجھ سے کہا کہ حالات چاہے جس نہج پر بھی ہوں، میرے فیصلوں میں آپ کو ہمیشہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے اعلیٰ تقاضوں کی پاسداری نظر آئے گی۔
ان کی یہ باتیں ان سیاسی گھٹن زدہ حالات میں میرے لیے ہمیشہ امید کی ایک کرن ہوا کرتی تھیں، اور بعد میں ان کے فیصلوں نے بھی ان کے ان الفاظ کو سچ ثابت کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور گلزادی بلوچ کو تین مقدمات میں ضمانت دی، جبکہ بیبرگ بلوچ کو ایک ایف آئی آر میں ضمانت کے مرحلے پر ہی مقدمے سے بری کر دیا۔ ان کے فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
تربت میں اپنی تعیناتی کے دوران بھی انہوں نے اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں سبغت اللہ شاہ جی کی ضمانت منظور کی اور ایک بار پھر دباؤ کے بجائے قانون کی بالادستی کو ترجیح دی۔
مجھے آج بھی مستونگ کی ایک پیشی یاد ہے جب محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) ایک کم عمر لڑکے کو مختلف الزامات کے تحت عدالت میں پیش کر رہا تھا۔ حکیم صاحب نے اس بچے سے پوچھا، “تمہیں کب گرفتار کیا گیا تھا؟” بچے نے جواب دیا، “کل۔” اس پر حکیم صاحب نے سی ٹی ڈی کے انچارج کی طرف دیکھ کر کہا، “اس بچے کے چہرے کو دیکھو، ایسا لگتا ہے جیسے اس نے برسوں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی۔ اور تم لوگوں نے اسے اس قدر ڈرایا اور دھمکایا ہے کہ اب وہ تمہاری ہر بات میں ہاں ملا رہا ہے۔” پھر انہوں نے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں سے کہا، “اللہ سے ڈرو۔”
آج جب ان کی شہادت کی خبر دیکھی تو دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ صرف ایک انسان کو نہیں مارا گیا، بلکہ انصاف پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ حکیم صاحب قانون کی حکمرانی، انصاف، آئینی حقوق اور عوام کے وقار پر یقین رکھتے تھے
میں جج عبدالحکیم کاکڑ کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں اس غم کی گھڑی میں ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔
معزز شہید عبدالحکیم کاکڑ صاحب، بلوچستان کے عوام آپ کو ہمیشہ آپ کی دیانت، اصول پسندی اور انصاف کے ساتھ مضبوط وابستگی کے لیے یاد رکھیں گے۔
آپ کے اصول اور آپ کی جرأت اُن لوگوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے جو انصاف اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔