9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں اہم پیش رفت
9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے 47 اشتہاری ملزمان کے ٹرائل کی تکمیل کے بعد فیصلہ سنا دیا۔
راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے جج امجد علی شاہ نے تمام ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سناتے ہوئے ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔
پراسیکیوشن کی جانب سے دورانِ ٹرائل 19 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے، جبکہ کیس میں تمام اشتہاری ملزمان کا الگ ٹرائل کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق سزا پانے والے ملزمان 9 مئی کے واقعات کی مبینہ سازش میں ملوث پائے گئے، جبکہ جے آئی ٹی نے انہیں واقعات کی منصوبہ بندی میں اہم ملزمان قرار دیا تھا۔
سزا پانے والوں میں عمر ایوب، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، کنول شوزب، شیخ رشید شفیق، شہباز گل، زلفی بخاری، احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، رائے مرتضیٰ، شوکت علی بھٹی، عثمان سعید بسرا اور اعجاز خان جازی سمیت دیگر شامل ہیں۔
کیس میں مجموعی طور پر 118 ملزمان نامزد تھے۔ ان میں سے 18 ملزمان ٹرائل کے دوران مسلسل عدالت سے غیر حاضر رہے، جبکہ 29 ملزمان کیس کے اندراج کے بعد کبھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ اب تک پراسیکیوشن کے 44 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
ملزمان پر جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ اور آرمی میوزیم، میں توڑ پھوڑ، پولیس پر حملہ اور املاک کو نقصان پہنچانے کا کیس تھا
آنلائن جریدے Stratia میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق پاکستان بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی ماحول میں استحکام پیدا کرنے والی قوت ہے۔
اس کی دفاعی صنعت اور عسکری تعاون کو علاقائی شراکت داری کے لیے مثبت عنصر قرار دیا گیا ہے، جبکہ اس کے کردار کو خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے اہم تسلیم کیا گیا ہے۔
پاکستان ایک ذمہ دار جوہری طاقت اور اسٹریٹجک پل کے طور پر اپنی اہمیت منوا رہا ہے۔
#Pakistan #ResponsibleNuclearPower #RegionalStability #StrategicImporta
https://t.co/1vyfr2wuJo
ڈاکٹر آئینہ نے اپنی بہن کو کہا کہ تم اسفند کو مت بتانا، کیونکہ وہ ظاہر ہے اپنے شوہر کے طبیعت کو پہچانتی ہیں، کہ جب وہ جانیں گے کہ ایک بار پھر ایسی حرکت ہوئی ہے تو طیش میں آئیں گے۔ ڈاکٹر آئینہ نے اپنی بہن کو آگاہ کیا تاکہ فیملی میں کسی کو معلوم ہو۔ ڈاکٹر آئینہ اس دوبارہ وقوعے کو ہونے سے گھبرائی بھی ہوئی تھیں۔ ان کی پشاور والی بہن نے فون بند ہوتے ہی کرنل اسفند کو کال کر دی حالانکہ ڈاکٹر آئینہ نے منع بھی کیا تھا، بہن نے بہنوئی کو بتایا کہ آئینہ بہت گھبرائی ہوئی ہے خدانخواستہ اس کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ کرنل اسفند اس وقت آفس کی طرف جا رہے تھے۔ انہوں نے وہیں سے گاڑی یونیورسٹی کیطرف موڑ لی۔ ڈاکٹر آئینہ نے فون کر کے اپنے شوہر کو نہیں بلایا تھا۔۔!!! کرنل اسفند کے مطابق ان کا ارادہ قطعا کسی کو hurt کرنے کا نہیں تھا وہ صرف یہ سمجھ رہے تھے کہ غالبا صرف ایک شخص جدون خان ہے جو ڈاکٹر آئینہ کے پاس موجود ہے اور انہیں نقصان نہ پہنچا دے۔ یہ ردعمل ایک شوہر کا اپنی بیوی کے لئیے مکمل فطری ہے۔ لیکن کرنل اسفند جب اہلیہ کے پاس پہنچے تب دیکھا کہ وہاں تو اچھا خاصا مجمع جمع تھا۔ مجمع نے بھی جب کرنل اسفند کو دیکھا، اور یہ ذہن میں رکھئیے کہ یہ وہ جُھنڈ تھا جو جدون خان نے پلاننگ کے تحت ڈاکٹر آئینہ کیخلاف اکٹھا کر رکھا تھا، سو مجمع نے کرنل اسفند کیخلاف بھی گالیاں نکالنا اور مغلظات بکنا شروع کر دیے۔ Mob mentality پاکستان میں کیسی ہوتی ہے یہ ھم سب اچھے سے جانتے ہیں۔ جُھنڈ میں سے ایک لڑکا خاص طور پر کرنل اسفند کیخلاف زیادہ گالیاں نکال رہا تھا اور کرنل اسفند کو مارنے کیلئے بھی لپکا تھا۔ کرنل اسفند نے اس لڑکے کو غالبا تھپڑ یا سٹک سے مارا جو ان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس سے جُھنڈ کو موقع مل گیا اور وہ ڈاکٹر آئینہ پر بھی چھپٹے اور کرنل اسفند پر بھی۔ ایسے موقع پر کرنل اسفند نے self defence میں گولی چلا کر جُھنڈ کو منتشر کرنا چاہا کیونکہ جب آپ اپنی بیوی سمیت مجمع میں پھنس جائیں تو mob mentality کیا کر گزرے کسی کو پتہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔
اس وقوعے کے بعد سے جدون خان مفرور ہے عین ممکن ہے اپنے علاقے بنوں فرار ہو گیا ہو۔ جو لڑکے ڈاکٹر آئینہ پر حملہ آور ہوئے ان کیخلاف FIRs ہو چکی ہیں۔
یہ ہیں اب تک کے تمام اصل حقائق !!! تمام ثبوتوں کے ساتھ!!! مزید حقائق بھی جیسے جیسے سامنے آئیں گے آپ کو بتاؤں گی۔
لیکن ایسے تمام باغیرت جوانوں افسران کی قدر تعریق اور سپورٹ کرنی چاہئیے جو اپنی یا کسی بھی خاتون کی عزت کو سب سے مقدم سمجھتے ہیں اور خواتین کی عزت کیلئے شہید بھی ہو جاتے ہیں، اسلام آباد میں ہونے والا حالیہ واقعہ جس میں کیپٹن عاصم طارق اپنی جان پر کھیل گئے مگر عورت کی عزت بچا گئے ۔۔۔۔ عزت سب کی سانجھی ۔۔۔ اور جب بات عورت کی عزت کی ہو تو کوئی بھی باغیرت فرد اسی طرح ردعمل دے گا۔
سرحد یونیورسٹی واقعہ؛ EXCLUSIVE اھم ترین حقائق ‼️
لیفٹننٹ کرنل اسفند یار ولی اور طلبہ کے درمیان کیا ہوا کیوں ہوا معاملہ کہاں سے شروع ہوا، سب اصل حقائق میں آپ کو بتانے جا رہی ہوں، تمام ثبوتوں کے ساتھ ‼️
اس ٹویٹ کے ساتھ لگی تمام تصاویر دیکھئیے !
پہلی تصویر ڈاکٹر جدون خان کی، سابقہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ HoD ۔۔۔ جو کرنل اسفند پر حملہ آور ہے ۔۔۔
اب کہانی سنئیے ۔۔۔
ڈاکٹر جدون کیخلاف ایک طویل عرصے سے خواتین طلبا اور ٹیچرز کیطرف سے شکایات تھیں ہراسانی کی۔ کہ جدون خان ان کو غیرضروری طور پر دفتر بلاتے ہیں غیرمناسب باتیں کرتے ہیں اور دیگر طریقوں سے ہراساں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر آئینہ جو کہ کرنل اسفند کی اہلیہ ہیں وہ اسی ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹ افئیرز کی انچارج تھیں۔ جب سٹوڈنٹ لڑکیوں نے ہراسانی کی شکایات کیں تو ڈاکٹر آئینہ نے ڈاکٹر جدون کیخلاف یونیورسٹی انتظامیہ/وائس پرنسپل کو شکایت کی۔ تحقیقات ہوئیں ڈاکٹر جدون خان مجرم پائے گئے اور ان کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ ڈاکٹر آئینہ کو جدون خان کی جگہ HoD بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر جدون خان نے اس معاملے کا کینہ دل میں رکھ لیا۔ اور اس کے بعد ڈاکٹر آئینہ کو ان کے فون پر دھمکی آمیز میسیجز بھیجنے شروع کر دیے۔ معاملہ صرف یہیں تک نہیں رکا، گزشتہ جمعے 21 اگست کو ڈاکٹر جدون خان، ڈاکٹر آئینہ کے آفس میں زبردستی آ دھمکے، انہیں گالیاں دیں دھمکایا حتی کہ انہیں مارنے کیلئے آگے بڑھے۔ اس صورتحال پر ڈاکٹر آئینہ نے فورا پولیس کو 15 پر رابطہ کیا اور اس کے فورا بعد تھانہ ھمک چلی گئیں ڈاکٹر جدون کیخلاف کاروائی کیلئے۔ اب میری ٹویٹ کیساتھ لگی وہ درخواست دیکھئیے جو ڈاکٹر آئینہ نے جدون خان کیخلاف گزشتہ جمعے کو تھانے میں دی FIR کیلئے۔ اسی دوران اس معاملے کی خبر وائس پرنسپل کو ہوئی وہ فورا تھانے پہنچ گئے اور ڈاکٹر آئینہ سے درخواست کی کہ وہ پولیس کاروائی نہ کروائیں معاملے کو یہیں رفع دفع کریں کیونکہ یونیورسٹی کی عزت کا سوال ہے۔ وائس پرنسپل نے ڈاکٹر آئینہ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ خود اس معاملے کو ہینڈل کرینگے اور جدون خان آئندہ انہیں تنگ نہیں کرے گا۔ پہلے تو ڈاکٹر آئینہ نہیں مانیں انہوں نے بتایا کہ جدون خان انہیں دھمکی آمیز میسیجز بھی بھیجتا رہا ہے اور آج یہاں تک اتر آیا ہے لہذا وہ پولیس کاروائی لازما کروائیں گی۔ وائس پرنسپل کی کافی منت سماجت پر ڈاکٹر آئینہ صرف اتنا مانیں کہ ٹھیک ہے پولیس کاروائی نہ ہو گی مگر پولیس کے پاس میری درخواست موجود رہے گی ریکارڈ میں تاکہ اگر دوبارہ جدون خان کوئی ایسی حرکت کرے تو پولیس کے پاس ریکارڈ موجود ہو۔ جدون خان نے پولیس کے سامنے ڈاکٹر آئینہ سے معافی مانگی اور تحریری معافی نامہ لکھ کر دیا جو پولیس ریکارڈ کا حصہ ہے۔ میری ٹویٹ میں تصویر دیکھئیے جدون خان کے معافی نامے کی۔ اس تمام واقعے کے بعد ڈاکٹر آئینہ جب گھر گئیں تب انہوں نے اپنے شوہر کرنل اسفندیارولی کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے شوہر سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے کرنل اسفند کو کہا کہ معاملہ وائس پرنسپل کے کہنے پر ختم ہو گیا ہے۔ کرنل اسفند اہلیہ کے یہ سب بتانے پر مطمئن ہو گئے کہ ٹھیک ہے رفع دفع ہو گیا۔ اس قسم کے افسوسناک واقعات تعلیمی اداروں میں ہوتے رہتے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔ خیر اب آئیے کہ 24اگست سوموار کے روز کیا ہوا۔ یونیورسٹی میں طالبات اپنے پیپرز کے حوالے سے ایک الگ احتجاج کر رہیں تھیں۔ ڈاکٹر آئینہ چونکہ ہیڈ آف سٹوڈنٹ افئیرز ہیں وہ ان طالبات کے پاس معاملے کے حل کےلئے گئیں۔ اسی دوران جدون خان لڑکوں کا جُھنڈ لے کر احتجاج کروانے چلے آئے، جس کی مکمل پلاننگ کی گئی تھی، اور احتجاج کا مقصد یہ تھا کہ جدون خان کو بحال کیا جائے۔ اھم سوال کہ جدون خان خود اس احتجاج میں کیوں موجود تھا!!!؟؟؟ جدون خان کرنل اسفند پر حملہ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے!!! جدون خان نے جان بوجھ کر ڈاکٹر آئینہ کو دیکھ کر ان کیخلاف مغلظات بکنا شروع کر دیں۔ یہ سب دیکھ کر فطری طور پر ڈاکٹر آئینہ نے سوچا کئ یہ شخص تو پھر شروع ہو گیا یہ باز ہی نہیں آ رہا، انہوں نے ایک بار پھر 15 پولیس کا کال کر دی۔ جو پولیس آپ کو ویڈیو میں نظر آ رہی ہے وہ ڈاکٹر آئینہ کے بلانے پر آئی ہوئی تھی!!! پولیس 15 کو کال کرنے کے بعد ڈاکٹر آئینہ نے پشاور میں اپنی بہن کو کال کر کے اس واقعے سے آگاہ کیا کہ جدون خان پھر اپنی حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ ڈاکٹر آئینہ نے سب سے پہلے اپنے شوہر کرنل اسفند کو کال نہیں کی!!!! یہ جاننا بہت اھم ہے!!! یہ سب آن ریکارڈ ہے۔
FAH (BLA) has released an AI-generated video
claiming an IED attack on a Frontier Corps (FC) vehicle in the Makai area of Kalat, falsely claiming the martyrdom of six personnel. Security forces have completely neutralized terrorist networks on the ground, leaving militants to celebrate fake victories on social media to mask their operational failures.
#BannedBLA #Terrorism #TerroristPropaganda
FAH keeps claiming major battlefield victories against security forces. The reality on the ground tells a different story: significant losses and a clear shift toward softer targets.
Today that meant the murder of four Punjabi labourers in Baluchistan, unarmed civilians simply trying to earn a living.
There is no military justification for killing workers. These attacks only highlight the human cost of militant violence and the emptiness of the group’s propaganda.
Targeting ordinary citizens is not strength. It is terrorism.
ڈیل کی بات کرنا ایک بے معنی بات ہے۔ عمران خان کے ساتھ کس چیز پر ڈیل کرنی ہے؟
کیا ڈیل اس بات پر کرنی ہے کہ کسی کو یہ حق دے دیا جائے کہ پہلے وہ پورے ملک اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرے اور بعد میں اس کے ساتھ مفاہمت کر لی جائے؟ یہ ڈیل ہے؟
اگر یہ جرم ہے تو اسے جرم کے طور پر ہی عدالتوں میں سنا جائے، اور اگر یہ جرم نہیں ہے تو پھر اسے پکڑا کیوں گیا ہے؟ مجھے نہیں لگتا کہ سب کچھ ڈیل کے تحت ہو رہا ہے۔ عدالت کا حکم تھا، اسی پر عمل ہوا۔ملک احمد خان
@arifawan779@MalikMAhmadKhan
موڈیز کی تاریخی اپ گریڈ:
پاکستان کا سفر بحران سے اعتماد تک
پاکستان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وہ ملک جو چند برس پہلے معاشی ڈیفالٹ کے خطرناک کنارے پر کھڑا تھا، آج بین الاقوامی سطح پر اعتماد کی ایک نئی کہانی لکھ رہا ہے۔ اس کہانی کا تازہ ترین اور سب سے اہم باب انٹرنیشنل کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے لکھا ہے، جس نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کر دی ہے اور آؤٹ لُک کو مستحکم قرار دے دیا ہے۔
یہ محض ایک عددی تبدیلی نہیں۔ یہ اس سفر کی تصدیق ہے جو بحران کے گہرے اندھیروں سے شروع ہوا تھا اور اب اعتماد کی روشنی تک پہنچ چکا ہے۔ موڈیز نے واضح کیا ہے کہ یہ اپ گریڈ گورننس میں بہتری، بیرونی پوزیشن کی مضبوطی، مالیاتی میٹرکس میں بہتری اور میکرو اکنامک استحکام کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، قرض کی برداشت کی صلاحیت میں بہتری اور آئی ایم ایف کے اصلاحاتی پروگرام پر عملدرآمد نے پاکستان کو ایک نئی منزل پر پہنچایا ہے۔
اس کامیابی کے پیچھے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ٹیم ورک کی ایک واضح کہانی ہے۔ جب ملک معاشی دیوالیہ پن کے خطرے سے دوچار تھا، اس وقت سیاسی قیادت اور ادارہ جاتی قیادت نے مل کر ایک متحد، مستحکم اور اصلاحاتی راستہ اختیار کیا۔ مشکلات کے باوجود پالیسی تسلسل برقرار رکھا گیا، بیرونی شراکت داروں کا اعتماد بحال کیا گیا، اور اندرونی طور پر مالیاتی نظم و ضبط کو ترجیح دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان نہ صرف ڈیفالٹ سے بچا بلکہ اب معاشی ترقی کے سفر کی طرف بڑھنے لگا ہے۔
یہ ریٹنگ اپ گریڈ عالمی سرمایہ کاروں، قرض دہندگان اور بین الاقوامی اداروں کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ پاکستان اب صرف بحران سے نکلنے والا ملک نہیں بلکہ ایک ایسا ملک ہے جو مستحکم پالیسیوں اور مؤثر قیادت کے ذریعے اعتماد پیدا کر رہا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ سیاسی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کس طرح ایک قوم کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
پاکستان کا یہ سفر ابھی جاری ہے۔ B3 کی ریٹنگ ایک اہم سنگ میل ہے، لیکن آگے کا راستہ مزید اصلاحات، سرمایہ کاری میں اضافہ اور پائیدار ترقی کا متقاضی ہے۔ تاہم آج کا دن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جب قیادت متحد ہو، عزم مضبوط ہو اور راستہ واضح ہو تو بحران کے اندھیرے بھی اعتماد کی روشنی میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی ترقی ممکن ہے۔ دنیا اب صرف دیکھ نہیں رہی۔ وہ اس سفر کو تسلیم بھی کر رہی ہے۔
فتنہ الہندوستان کا نیا ڈھونگ: “وسائل کا تحفظ” کے نام پر مسلح لوٹ مار
قلعہ عبداللہ میں تجارتی گاڑیوں سے انگور چھین کر عوام میں تقسیم کرنے کا یہ تماشا دراصل وسائل کے تحفظ کا نہیں، بلکہ دہشت گردی اور بھتہ خوری کا نیا روپ ہے۔
جب مسلح گروہ تاجروں اور ڈرائیوروں کو دھمکی دے کر ان کا مال چھین لیتے ہیں، تو یہ “مقامی عوام کا حق” نہیں ہوتا۔ یہ براہِ راست ان محنت کشوں کے روزگار پر حملہ ہوتا ہے جن کے خاندان اس آمدنی پر انحصار کرتے ہیں۔
پل اڑا دینا، شاہراہیں بند کر دینا اور تجارتی راستے روک دینا بلوچستان کی معیشت کو کمزور کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔ اس سے سب سے زیادہ نقصان خود بلوچ عوام کو ہوتا ہے — مہنگائی بڑھتی ہے، کاروبار بند ہوتے ہیں اور بے روزگاری پھیلتی ہے۔
چوری شدہ مال بانٹنے کا یہ ڈرامہ حقیقت نہیں بدلتا۔ لوٹ مار کو کبھی بھی “عوامی خدمت” نہیں بنایا جا سکتا۔
فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد بلوچستان کے وسائل کے محافظ نہیں، بلکہ اس صوبے کے عوام، ان کے روزگار اور ترقی کے کھلے دشمن ہیں۔
#FitnaalHindustan #Balochistan #EconomicSabotage #TerroristsExtortion #AntiPeople
FAK’s Exaggerated Attack Propaganda: A Strategy to Hide Weakness
FAK terrorists are facing relentless pressure from Pakistan’s security forces. Their operational space is shrinking fast, their networks are being dismantled, and many fighters are being pushed toward safe havens across the border in Afghanistan.
Unable to match the security response on the ground, FAK has shifted heavily toward psychological warfare. They now rely on disinformation, fabricated attack claims, and inflated casualty figures to create a false picture of strength and momentum.
Data shows that nearly 50% of the attacks claimed by FAK are completely fake , they never occurred. These false claims serve multiple purposes:
• Maintain relevance and project dominance among competing terrorist groups
• Inflate perceived strength so the same incident is often claimed by multiple outfits
• Spread fear among the public and undermine confidence in the security forces
• Motivate demoralized cadres and online supporters who are frustrated by continuous losses
Social-media accounts linked to hostile networks in Afghanistan and India systematically amplify these narratives, trying to portray FAK as far more capable than it actually is.
The truth is straightforward:
growing dependence on propaganda and lies is a clear symptom of operational decline. Pakistan’s security forces remain fully prepared to sustain the fight and deny terrorists any space , real or imagined.
#FAKTerroristsLosingGround
#FAKDisinformationWarfare
#FAKPropagandaExposed
#FAKExaggeratedClaims
📌 “دو نہیں، ایک پاکستان” کا اصل امتحان آج ہے!
پی ٹی آئی برسوں سے سیاست میں یہ نعرہ لگاتی رہی ہے کہ پاکستان دو نہیں، ایک ہے۔ اب یہ نعرہ صرف الفاظ نہیں، عملی امتحان بن چکا ہے۔ #ایک_پاکستان_ایک_قانون#قیدیوں_کے_حقوق
جو طبی سہولت ایک بااثر قیدی کو عدالت کے ذریعے مل گئی ہے، کیا وہی حق ایک عام اور لاوارث قیدی کو بھی ملے گا؟
اگر ہاں، تو ریاست کو واضح کرنا ہوگا کہ اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کے لیے نجی اسپتال، آزاد میڈیکل بورڈ، سیکیورٹی اور اخراجات کیسے سنبھالے جائیں گے۔
اگر نہیں، تو پھر قانون شخصیت دیکھ کر چل رہا ہے، اصول دیکھ کر نہیں۔
قانون ایک ہونا چاہیے، معیار ایک ہونا چاہیے، اور علاج کا حق بھی ایک جیسا ہونا چاہیے۔
ایک قیدی کے لیے الگ سہولت اور باقیوں کے لیے الگ سہولت کا مطلب دو طرح کے پاکستان ہیں۔
یہ سوال صرف صحت کا نہیں، پورے نظامِ انصاف کی ساکھ کا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ “ایک پاکستان، ایک قانون” صرف نعرہ رہے گا یا حقیقت بنے گا۔
سرحد یونیورسٹی کیمپس اسلام آباد میں آج صبح ایک افسوسناک فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کے فوری بعد فوج نے متعلقہ آفیسر کو تحویل میں لے لیا اور اس کے خلاف باضابطہ انکوائری اور تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
فوج کا ڈسپلین اور تادیبی نظام ہمیشہ انصاف اور غیر جانبداری کے اصولوں پر مبنی رہا ہے۔ اس نظام کے تحت کسی بھی قصوروار کو اس کے اقدامات کا پورا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کوئی بھی فرد قانون سے بالاتر نہیں۔
فوج نے واضح کر دیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور جو بھی ذمہ دار پایا گیا، اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ادارہ اپنے اندرونی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
دہشت گردوں کا نام نہ لینا خوف کے مترادف ہے، سچائی چھپانا دوغلا پن ہے: وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو
وزیرداخلہ بلوچستان میرضیاء اللہ لانگوکا اپوزیشن لیڈرقومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کے بیان پرردعمل
وزیر داخلہ بلوچستان نے محمود خان اچکزئی کے بیان پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ؛
دہشت گردوں کا نام نہ لینا خوف کے مترادف ہے،سرانان حملے کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم قبول کر چکی ہے
محمود خان اچکزئی اپنی جان کے خوف کی وجہ سے دہشتگردوں کا نام نہ لےکر غلط بیانی کر رہے ہیں، وزیر داخلہ بلوچستان
یہ وہ خوف اور ڈر ہے جو ہمارے لیڈروں کے دلوں سے نہیں نکل سکتا، ایسا رویہ دوغلے پن کے مترادف ہے، وزیرداخلہ بلوچستان
کچھ لیڈرز شارٹ کٹ اپناتے ہوئےساری ذمہ داری حکومت کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں، وزیرداخلہ بلوچستان
لیڈران کو اپنی جانوں کاخوف لگا ہوا ہے،جس کی وجہ سے وہ دہشتگرد تنظیموں کا نام لینے سے گریزاں ہیں، وزیر داخلہ بلوچستان
بلوچستان کےعوام سےاصل حقائق چھپاکرسارا ملبہ حکومت پر ڈالا جارہا ہے، وزیرداخلہ میرضیاء اللہ لانگو
ایک حقیقی لیڈر کو میدان میں عوام کی قیادت کرنی چاہیے اور سچائی لوگوں تک پہنچانی چاہیے، وزیرداخلہ بلوچستان
پشتونوں کواصل حقائق اورسچائی بتانے کے بجائے غلط راستہ دکھاناپشتون دوستی نہیں بلکہ پشتونوں سے کھلی دشمنی ہے، میرضیاء اللہ لانگو
@MeerLangau@BabarYousafzai_@PakSarfrazbugti
خیبر پختونخواہ: ایمانداری کی سزا معطلی
خیبر پختونخواہ کے محکمہ معدنیات نے آٹھ ایماندار اہلکاروں کو معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ اس صوبے میں جاری اس بدعنوان نظام کی ایک اور واضح مثال ہے جہاں ایمانداری کو جرم سمجھا جاتا ہے۔
صوبے میں وہ آفیسرز اور عملہ جو پی ٹی آئی کے کرپشن کے جال میں نہیں پھنستے، انہیں مسلسل محکمانہ انکوائریوں، دباؤ اور معطلگیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جو لوگ قوانین کی پاسداری کرتے ہیں، شفافیت کو ترجیح دیتے ہیں اور ناجائز دباؤ کے سامنے نہیں جھکتے، انہیں ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ سلسلہ محکمہ معدنیات تک محدود نہیں۔ خیبر پختونخواہ میں ایماندار افسران کے خلاف منظم مہم چل رہی ہے تاکہ نظام کو مکمل طور پر اپنے مفادات کے تابع کیا جا سکے۔ جب ایمانداری کو سزا دی جانے لگے تو اداروں کی ساکھ اور عوام کا اعتماد دونوں ختم ہو جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا خیبر پختونخواہ میں اب صرف وہی افسران محفوظ ہیں جو کرپشن میں شریک ہونے کو تیار ہوں؟
@ShafiJanPTI
فضل الرحمان کو مولانا کہنا گناہ ہے:
@ziaurrehman76 مفتی محمود کا تخم اور غیرت ؟؟؟ جیسا باپ بے غیرت انگریزوں کا کتے مالش کرتا تھا ویسے بیٹے بھی بے غیرت ۔۔۔
ڈیزل تم ہو ہی اسی لائق 🔥
فضل الرحمان کی حرکتیں دیکھ کر اب کسی کو شک نہیں کہ یہ آدمی ایک نمبر کا بے ایمان منافق اور بے غیرت ہے۔
اپنے منہ سے خود جن باتوں کا اعتراف اور جن لوگوں کی نشاندہی کررہا ہے یہی منافق آج ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوکر شہدا کی توہین اور ریاستی اداروں پر حملہ آور ہے۔
مولانا فضل الرحمن کے گاؤں کے رہائشی نے مولانا کی اصلیت واضح کردی!
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ فوج تنخواہ ہی شہید ہونے کے لئے لیتی ہے۔ جبکہ آپ خود مدرسوں کے نام پر چندہ جمع کرتے ہو۔
فضل الرحمٰن نے معروف القرآن مدرسے میں بچے کے ساتھ زیادتی کی ہے، پھر مفتی صاحب کے ساتھ مل کر معاملے کو رفع دفع کروا دیا۔
فضل الرحمٰن کو مولانا کہنا بھی مناسب نہیں کیا تم اب ہمیں دین سکھاؤ گے؟