Imran Khan has always placed state responsibility above personal or party interests. In these sensitive circumstances, with the region engulfed in escalating conflict, his position has remained clear, balanced, and grounded in the national interest. He has consistently prioritised diplomatic engagement and conveyed an unequivocal message: Pakistan is ready to play its role for peace, but it cannot become part of another war.
Today, Pakistan needs that same foresight, courage, and balanced judgment. The world expects a responsible, peace-loving Pakistan, and Pakistan needs leadership that carries the trust of its people. Imran Khan must be released immediately, because only a leader with a public mandate can make the right and courageous decisions in difficult times. That is the national interest, and that is the need of the hour.
#ReleaseImranKhan
آج پنجاب سے دھمکیوں کے باوجود اڈیالہ جیل،اسلام آباد ہائیکورٹ عوام کی بھرپور شرکت تھی بلاشبہ چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ صاحبہ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی صدرو جنرل سیکرٹری سنٹرل پنجاب احمد چٹھہ،بلال اعجاز ،راولپنڈی ضلع،نارتھ،ساؤتھ اور ویسٹ ریجنز مبارکباد کے مستحق ہیں
عظمیٰ آپا کی خان صاحب سے ملاقات ہو گئی صحت ماشاءاللہ ٹھیک مگر سیل میں بند رکھنے زہنی ٹارچر کرنے اور ہر قسم کی ملاقات بند کرنے پر شدید ناراض اور غصہ کا اظہار کیا
حسنین بھائی ایسے نہ کیا کریں آپ منگل کا ریکارڈ دیکھیں فیملی کیساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پنجاب اسمبلی کے ایم پی ایز موجود رہتے ہیں اور کبھی بھی تعداد 30-35سے کم نہیں ہوئی 70-80 تک بھی آتے رہے وہاں عوامی اسمبلی بھی لگتی رہی جو پنجاب کے اپوزیشن لیڈر معین قریشی پارلیمانی لیڈر علی امتیاز وڑائچ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر حافظ فرحت کی ہدایت پر لگتی رہی اس منگل کو آپ موجود تھے اور پنجاب کے ممبران کی تعداد 40سے زائد تھی مسئلہ یہ ہے لوگ پہچانتے نہیں اور اکثر کا ٹویٹر اکاؤنٹ نہیں ہے ہاں ہم میں ضرور کمیاں ہیں مجھے بھی اختلاف ہے مگر یہ تجزیہ درست نہیں
ہم اس قدر بے بس ہیں ایک بندہ آواز نہیں اٹھا پا رہا ساری طاقت سوشل میڈیا پر پوسٹ لگانے تک رہ گئی
تحریک انصاف ہی واحد عوامی حمایت رکھتی ہے ڈسپلن اور اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے بڑے فیصلے لینے کا وقت آ چکا ہے
کوئی انسان کیسے سوچ سکتا ہے وہ قانون سے بالاتر ہے اور زندگی بھر اس پر کوئی قانون آئین لاگو نہیں ہو گا
سرخ اشارہ توڑنے سے لے کر قتل کرنے تک سب کا لائسنس رکھتا ہے ایسے کیسے ممکن ہے نہ تو ہمارا دین اس بات کی اجازت دیتا ہے نہ معاشرے کا کوئی زی شعور شہری اس کی حمایت کر سکتا ہے
اس کے بعد اب کیا رہ گیا ہے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے اور مجھ سمیت یہ قوم اس قدر لاچار ہو چکی ہے کوئی آواز بھی نہیں اٹھا پا رہا
احمد چٹھہ صاحب کو بطور صدر بلال اعجاز صاحب کو بطور سیکرٹری جنرل عہدے پر چیف آرگنائزر پنجاب عالیہ حمزہ صاحبہ نے بحال کر دیا ہے دونوں بھائیوں کو مبارکباد پیش کرتاہوں اور یقین دلاتا ہوں ان کی قیادت میں سنٹرل پنجاب میں پارٹی کے لیے پہلے سے بڑھ کر کام کروں گا ڈسپلن اور منظم انداز سے آگے بڑھیں گے دونوں بھائیوں کی پارٹی کے لئے گراں قدر خدمات ہیں عمران خان صاحب کا اعتماد پارٹی کے ہر ورکر رہنما کے لیے قابل فخر بات ہے
میں نے احمد چٹھہ اور بلال اعجاز صاحب کو واپس بحال کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا-
اس بارے میں پچھلے دو ہفتےکافی حرف تنقید رہی !
آپکی کی ہر تنقید سر آنکھوں پر !
مجھے آپ سب کی اس معاملے میں فکر
بے چینی اور پی ٹی آئی سے وابستگی کا بھرپور احساس ہے !
تاخیر کی وجہ ایک ہی تھی
میں یہ ساری ہدایات written form میں چاہ رہی تھی-
اگر پہلے دن مل جاتیں
میں یہ کام پہلے دن کر دیتی!
یہی مدعا میں نے political committee میں رکھا تھا!
میرے غیور انصافین میں نے اپنے لیے کچھ اصول بنائے تھےاور مجھے خوشی ہے کہ میں تنقید کا پریشر ہونے کے باوجود ان پہ پورا اتر سکی۔
"لیڈر شپ پریشر میں کام کرنے کا نام ہے"
آگے پنجاب میں اور بھی "تقرریاں اور تبدیلیاں" ہونی ہیں
کیونکہ وزیراعظم خان صاحب نے مجھ پے بھروسہ کیا ہے اور میری ذمہ داری لگائی ہے اور مجھے با اختیار کیا ہے۔
اگر ہم اصول بنا کے کام نہیں کریں گے
تو نہ کام ہوگا نہ پرفارمنس پہ جوابدہی ہوسکے گی۔
جو اہل زر ہیں معتبر بنے بیٹھے ہیں
فتویٰ باٹنے کو سر عام مفتی بیٹھے ہیں
اہل وفا کو نہیں طلب کسی حوالے کی
وہ تو بس خان پہ فدا ہونے کو بیٹھے ہیں
بےشک میرے اللہ رب العزت الحق ہیں!