نہ سنی ہو نہ شیعہ بس مسلمان ہوں۔
ہمارے نبی ﷺہمیں مسلمان چھوڑ کر گئے تھے سنی یا شیعہ چھوڑ کر نہیں۔
اگرچہ مسلکی لحاظ سے میں سُنّی ضرور ہونگا لیکن میری پہچان بطور مسلمان ہے میں محمدی ہوں اور اسی پہ فخر ہے شُکر ہے اور اس بات کو بھی بہ خوُبی سمجھتا ہوں کہ :
یہ حملہ شیعہ اسلام پہ نہیں عالمِ اسلام پہ ہوا ہے اگر کوئی سمجھے !
دشمن نے ہمارے گھر میں گھس کر کُل عالم اسلام کی آنکھوں کے سامنے ہماری ہی اک بہت بڑی مذہبی شخصیت کو نہایت بے رحمی و سنگدلی سے شہید کیا اور پھر بڑی بے شرمی سے متکبرانہ انداز میں اس کا اعلان بھی کیا ہے۔
اگر ہم آج بھی نہ جاگے تو پھر کب جاگیں گے ؟
تمام عالم اسلام کو مسلکی اختلاف سے بالاتر ہو کر اس پہ پرزور احتجاج کرنا چاہئے اور ایران کا بطور مسلمان بھرپور ساتھ دینا چاہئے۔
دشمن کو واضح پیغام دیں کہ جب ہم پہ حملہ کرو گے تو پھر نہ ہم شیعہ ہیں نہ سنی نہ عربی ہیں اور نہ عجمی ہم پھر بس صرف مسلمان ہیں اور مسلمان بن کر وہی جواب دیں گے جو خیبر میں شیر خُدا نے دیا تھا۔
اللّٰہ اکبر !
کہہ دو کہ: ’’اللہ نے ہمارے مقدر میں جو تکلیف لکھ دی ہے، ہمیں اُس کے سوا کوئی اور تکلیف ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ وہ ہمارا رکھوالا ہے، اور اللہ ہی پر مؤمنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔
سورۃ التوبۃ