وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُزِلُّ مَن تَشَاءُ
جسے تو چاہتا ہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلطنت چھین لیتا ہے، جسے تو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے تو چاہے ذلیل کرتا ہے، سب خوبی تیرے ہاتھ میں ہے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے.
جسٹس منصور انتہائی باصلاحیت جج تھے۔ انکو مس گائیڈ کرنے میں اطہر من اللہ اور منیب اختر کا سارا کردار ہے۔ ان دونوں نے جسٹس منصور کو بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے۔ منصور نے جس فیصلے کے لئے یہ ساری ذلت کمائی وہ بھی ردی کی ٹوکری میں چلا گیا اور وہ اب چیف جسٹس بننے کے بھی اہل نہیں رہے!
ایک پینتالیس سالہ بیوہ خاتون اس وقت بڑی پریشانی میں ہیں۔بچے ہیں نہیں۔ شوہر کی زندگی میں ہی شوہر کے باپ کی جائیداد تقسیم ہوئی۔تمام اولادوں نے وراثت کی رقم سے ایک ہی بلڈنگ میں اوپر نیچےاپنے اپنے فلیٹس خرید لئیے۔خاتون اپنے شوہر کے ساتھ پرسکون زندگی بسر کررہی تھیں کہ شوہر کی اچانک حالیہ وفات کے بعد دربدری کے خوف اور مالی مشکلات کا شکار ہوگئیں بڑی مشکل سے خاتون کی پینشن شروع ہوئی ہے جو شوہر کے دیگر بھائی خود وصول کرنا چاہ رہے تھے۔بیوہ خاتون بیمار ہیں کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں۔ وہ سکھر اپنے شوہر کا گھر کرائے پر لگا کر کراچی میں ہسپتال اور اپنے رشتےداروں کے قریب رہنا چاہتی ہیں۔
لیکن شوہر کے بھائی اور بہن جو خاتون کی سگی بھابھی بھی ہیں وہ اجازت نہیں دے رہیں۔شوہر کے خاندان کے مطابق یہ انکے بھائی کا گھر ہے اور اصل حقدار صرف بہن بھائی ہیں ناکہ بے اولاد بیوی۔
سسرال والوں نے احسان یہ ضرور کیا ہے کہ جب تک بچی کچی زندگی بچی ہے یہیں ایک کمرے میں رہ کر گزار لیں یا دار الامان چلی جائیں۔ نہ کرائے پر انکا حق ہے نہ وہ گھر بیچ سکتی ہیں۔
شریعت کے اعتبار سے تو شاید بیوی کا آٹھواں حصہ ہوتا ہے۔کوئی قانونی رہنمائی کرسکتا ہے کہ ایسی خاتون کے لئیے کس طرح آسانی پیدا کی جاسکتی ہے۔قانون کا راستہ لیا جاسکتا ہے ؟
اور کیا واقعی زندگی میں جو بہن بھائی نہ پوچھتے ہوں وہ مرنے کے بعد جائیداد اور دیگر معاملات کے حق دار ہوجاتے ہیں ؟
مفتیان کرام بھی رہنمائی کریں۔
ویلڈن مصطفی کمال۔بہترین
یہ صحافی خود کو ھر چیز سے اوپر سمجھتے ھیں،انہوں نے پاکستانی معاشرے جھوٹی خبریں دیکر تباہ و برباد کردیا اور محترمہ کو ایونٹ کور کرنا ھے جو اس بی بی کی نوکری ھے ،اور احسان جتارہی ھے وزیر پر۔
مریم نواز نے شیخوپورہ میں نیسلے فیکٹری کے بائیو ماس اسٹیم پلانٹ کا افتتاح کردیا،پلاںٹ 45 لاکھ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے لگایا گیا،میرے دفتر کے دروازے ہر ملٹی نیشنل کمپنی کے لیے کھلے ہیں،مریم نواز
اور ناظرین رانا ثناءاللہ آپکو کبھی مایوس نہیں کریں اور آج حاجی ثناءاللہ نے رانے پر رانا فقرہ تبدیل کرتے ہوئے پپل پالٹی پر رانا جیسی نئی ٹرم متعارف کروادی
رانا جی جیوندے ہسدے وسدے رہو
آپکی راتی فینصلہ باد میں کوئی نہیں جمیا
اس وقت دو کروڑ سندھی، دو کروڑ کے پی کے اور ایک کروڑ بلوچ روزگار اور تعلیم کے سلسلے میں پنجاب میں مقیم ہیں اور یوں مریم نوازشریف ساڑھے سولہ کروڑ کو صوبی مینیج کر رہی ہے: اعلی شخصیت کا دعوی
پہلے کہتے تھے محسن نقوی کو جواب نہیں دے رہے
پھر جب رانا ثناءاللہ نے بوتھا تروڑ جواب دیا تو کہنے لگے یہ جواب تو ہلکا ہے
پھر جب خواجہ آصف نے سسٹم نکال کر سامنے رکھا تو کہنے لگے اب شامت ائے گی اور صحفہ پھٹ جائے گا
پھر جب خواجہ آصف نے شہزاد اقبال پروگرام میں دال والی آندر پاڑ دی تو اب وہی ویڈیو نقوی کو ٹیگ کررہے ہیں
ناظرین یوتھیے چوتٹیوبر ساس داماد اور مچھلی کے سوال طرح اک تھاں کھلو نہیں رہے