ساری زندگی عمران خان کی ذاتی زندگی پر حملے کرنے والے پٹواریوں کا اپنا کردار اتنا غلیظ نکلا کہ اب پاکستان کے علاوہ انٹرنیشنل دنیا میں بھی انکا تعارف Rapist فیم��ی کے نام ہوگا!!!
@ikhtiarwali اس سے اپ کا شعور ،تربیت اور اخلاق ک پتہ چلتا ہے۔ کہ اپکا تربیت کس طرح ہوا ہے۔ سیاسی منشی اور وزارات کیلئے اتنے پالش کرنے پر مجبور ہوں کہ جو غلط کام اسحاق ڈار کے پوتے نے کیا ہے اس کو غلط کہوں بلکہ سیدھا ذاتیات پر اتر آئے ہوں۔ بے شرم کہی کے
جو لیڈر ملک و قوم کے لیے سوچتا ہے، اللہ اس کی محبت عوام کے دلوں میں ڈال دیتا ہے۔
بزرگ ہوں، جوان ہوں یا معصوم بچے، ہر عمر کے لوگ عمران خان کی سچائی کی گواہی بےخوف دیتے ہیں۔
#ReleaseImranKhan
گلگت بلتستان میں جنید اکبر کی گرفتاری، سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کا پیغام
پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی ٹیم، جس کی قیادت جنید اکبر صاحب کر رہے تھے، کو کل ورکرز اور عوام نے شاندار استقبال کیا، جس سے پورے علاقے میں تحریک انصاف کا ایک نیا سیاسی مومنٹم پیدا ہوا۔افسوس کے ساتھ آج انہیں غذر میں داخلے سے روکا گیا ا��ر بعد ازاں واپسی کے دوران مبینہ طور پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
یہ چیف الیکشن کمشنر کا انتظامیہ نام بتا رہی ہے اور ہمیں تو پتہ ہی ہے چیف الیکشن کمشنر نے ہمیشہ سے ہی بتایا کہ پچھلے جتنے بھی واقعات ہیں جن وقت بند کمرے میں ہوتے تو وہ کہتے ہیں ایجنسیز سے ہم مجبور ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف، عمران خان کی قیادت میں، ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے ��ہ عوامی مینڈیٹ کا احترام ہر صورت میں یقینی بنایا جائے۔ ہم نہ کسی ادارے کے خلاف ہیں اور نہ ہی تصادم چاہتے ہیں، بلکہ صرف شفافیت، انصاف اور جمہوری اصولوں کی بالادستی کے حامی ہیں۔
تمام ورکرز سے گزارش ہے کہ وہ پُرامن رہیں، نظم و ضبط قائم رکھیں اور اپنے سیاسی و جمہوری حقوق کے لیے آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں۔
ہمیں پتہ ہے کہ اپ کتنے بہادر ہیں اور کتنے بھاگنے والے ہیں ہمیں مجبور نہ کریں خدا کی قسم ہم روزانہ گالیاں اس لیے کھا رہے ہیں کہ ملک مضبوط ہو ہم چاہتے ہیں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے مزید نہ بڑھے اپ نے ہمیں دیوار سے لگایا ہے ہمیں مجبور نہ کرے خدا کی قسم اپ کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔یہ اپ کی غلط فہمی ہے اگر ان ہتھکنڈوں سے ہم ڈرتے تو ہم اٹھ فروری سے پہلے پارٹی چھوڑ دیتے بھائی جان ہم نہ ڈرنے والے ہیں نہ جھکنے والے ہیں۔اپ اس پوزیشن پہ ساری عمر نہیں رہیں گے اپ سے پہلے بھی ہم نے فرعون دیکھے ہیں جو اج منہ چھپا کے پھر رہے ہیں۔
جنید اکبر خان
صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخواہ۔
عمران خان انکے لیئے ڈراؤنا خواب اب بن چکا ہے۔ اگے اگے دیکھ کہ یہ لوگ بغض،نفرت اور کم ظرفی میں اور کتنے گرتے ہیں۔
الیکشن جیتے یا نہیں اس سے ہمیں ثابت ہوا کہ عمران خان کا نظریہ جیت گیا۔
@DurraniViews ٹکلہ درانی صاحب کیا اسد قیصر بھی سیاسی اسٹنٹ کا ڈرامہ کررہا ہے۔ ایک تو دشمن انتہائی کم ظرف اور بزدل ہے اوپر سے اسکے پالے ہوئے کتے بھی ہڈیوں کیلئے انتہائی گر جاتے ہیں۔
لعنت قبول کر
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ ا��ر بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مین��ل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل م��ں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
��ید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہ��ت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ ��ٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2