بانی pti کے بچوں نے ان NICOP پہ آخری دفعہ 2022 میں پاکستان سفر کیا تھا۔ اور آج اگر چاہئیں تو پاکستان تشریف لا سکت�� ھیں۔ دونوں NICOP valid ھیں ۔ فیملی یا pti کا یہ تاثر دینا کہ حکومت انکو ویزا نہیں دے رہی غلط ھے۔ NICOP کی موجودگی جب چاہیں پاکستان سفر کر سکتے ھیں۔ ویزا کی کوئی ضرورت نہیں ۔
سلیمان خان: NICOP (35202-273-22XX-1) موجود ہے جو 6 جنوری 2030 تک قابلِ ��مل ہے
قاسم خان: NICOP (35202-782-76XX-1) موجود ہے جو 8 نومبر 2032 تک قابلِ عمل ہے۔
سلام ہے ان لون لیگی والنٹیرز پر جو اپنی جماعت کے فیصلہ پر اپنی جماعت کی منجی چونک میں وچھا کر ٹھوک رہے ہیں اور اس فیصلہ پر کھل کر تنقید کررہے ہیں اور جماعتی وابستگی کو مراد سعید پس پشت میں ڈالتے ہوئے آواز چَک رہے ہیں اور یہی جمہور کا حقیقی مطلب ہے کہ آپ نواز شریف کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں وگرنہ یہاں وہ کلٹ بھی پایا جاتا ہے جو اپنی امی کا قلیل مدتی ویاہ عمران سے کروانا چاہتے ہیں اور اس پارٹ ٹائم یدویہد پر مانیکا جیسے دلوں کو کوئی اعتراض نہیں
منجی کا ترٹ گیا ہے لاوا خبر
اور ناظرین یحییٰ خان کو چیف جسٹس یحیی آفریدی صاحب تک کا سفر
اور محسن نقوی کو 26 نومبر کے قتل عام سے جناب محسن نقوی صاحب کا سفر مکمل ہونے کے بعد آج بونیر میں چیف سمگلر سہیل آفریدی نے ابوٹیریان کا شفا کے بجائے پمز بھجوانے ��ور جیل میں ہونے والے سختیوں کا ذمہ شہباز شریف اور مریم نواز کو قرار دیا ہے حافظ سیدعاصم منیر پر لگائے تمام الزامات واپس لینے کا اعلان کردیا ہے
یوتھیو آزادی کی جنگ گوڈے سے لمکنے کے سنگ
عمران خان کی بہن کا بیان سن لیجئے کہ عمران کو جب پتہ چلا کہ شفا جا رہے وہ بہت خوشی خوشی جانے کو تیار ہوئے
جبکہ بیانیہ ساز یوتھیے تو ان کو ڈٹ جانے والا اور سسٹم اس کے آگے جھک جانے والا لکھ رہے تھے
اصل حقیقت جان کر جیو وہ بھاگ کر ہسپتال خوشی سے گے
کچھ مزید تفصیلات:
طبی معائنہ پمز ہسپتال میں کرایا گیا جس میں الشفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
پی ٹی ائی کے کارکنوں کی طرف سے جو سیکیورٹی کی صورتحال الشفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے مطابق وہ صحت مند پائے گئے
ان کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب ان کو ��رورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی
عمران اگر اتنا ڈٹا ہوا اور اس نے کہا ہے کہ میں نے علاج کے لئے ہسپتال نہی جانا تو یہ اعلان عمران کے اکاؤنٹ سے کروا دیجئے وہاں عاصم منیر صاحب بارے وہی زبان بھی لکھ دیجیے جو عمران پہلے استعمال کرتا رہا ہم سب تسلیم کر لیں گے عمران ڈٹ گیا ہے
گھوڑا اور میدان دونوں حاضر ہے
سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، قیدی کو 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا۔ ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔ ان کی ہمشیرہ محترمہ عظمیٰ خان، طبی معائنے / علاج کے تمام مراحل کے دوران موجود رہیں۔ یہ تمام عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں 21 اگست 2026 کی صبح تقریباً 0500 بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔
عادل راجہ شہباز گِل معید پیرزادہ وجاہت خان کی وجہ سے عمران ہسپتال منتقل ہو�� بارلے یوتھیے
صدیق جان حسنین رفیق ثمینہ سٹرابری اطہر کازبی کی وجہ سے عمران ہسپتال منتقل ہوا اندرون یوتھیے
عمران ہماری یوٹیومری یدویہد سے ہسپتال پہنچا ذیشان موری ٹائپ یوتھیے
عمران خان ہماری وجہ سے ہسپتال پہنچا ٹوئٹری یوتھیے
وکلاء کی ٹیم وجہ سے خان ہسپتال منتقل ہوا وکلاتی یوتھیے
زلفی بخاری کے وچولا پن کی وجہ سے عمران ہسپتال منتقل ہوا فیض حمیدی یوتھیے
سہیل اپھریدی کی وجہ سے عمران ہسپتال منتقل ہوا پشوری یوتھیے
بہنوں کی وجہ سے عمران ہسپتال منتقل ہوا اندرون خانہ یوتھیے
پنکی پیرنی کے پرویز مسیح کے ٹونے سے عمران ہسپتال پہنچا پاکپتنی لطیفی یوتھیے
اور ناظرین یہ ��یانات سنتے ہی جسٹس شاہد وحید ہنستے ہنستے اپنی کرسی سے پشاں ڈگ پئے
جو کہتے تھے کہ ڈٹ کر کھڑا ہے عمران خان آج وہ دیکھیں پاؤں میں گرا پڑا ہے عمران خان...!
کیا یہ محض حسن اتفاق ہے کہ 27 ستمبر کو تحریک کا اعلان کرنا اور اپوزیشن لیڈر کا وزیر اعظم سے ملاقات کیلئے خط لکھنا اور عدالت سے ریلیف ملنا۔ کیا یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ باجوہ صاحب کا کسی سے ناراض ہونا اور پھر کسی دوسرے سے راضی ہوجانا، کیا یہ بھی حسن اتفاق ہی ہے کہ فارن فنڈنگ کیس سے فارن فنڈ ریزنگ کرنا اور پھر اس سے دھندلی چیزوں کا نظر آنا شروع ہونا۔کیا یہ بھی اتفاق ہی سمجھا جائےکہ بلاول بھٹو کا تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں سے اتحاد کی بات کرنا۔آج جو عدلیہ کی تعریفیں کر رہے ہیں انکو یہ بھی بتانا چاہیے کہ کیا آج کی عدلیہ آزاد ہو گئی ہے؟
یہ بھی بتا دیں کہ عمران خان تو سسٹم کیلئے کھڑا تھا، وہ تو جمہوریت کی مضبوطی کیلئے کھڑا تھا، وہ تو اداروں کو اپنے آئینی قانونی حدود میں رہ کر کام کرنے کیلئے کھڑا تھا، وہ لوگوں کو مہنگائی میں پسنے سے بچانے کیلئے کھڑا تھا، وہ تو پاکستان کو استحکام دینے کیلئے کھڑا تھا، وہ لوگوں کے روزگار لوگوں کے مستقبل اور پاکستان کے مستقبل کیلئے کھڑا تھا، کیا یہ ساری چیزیں ایک عدالتی ریلیف سے ٹھیک ہو گئی ہیں یا وہ ایک ڈھکوسلا تھا یا پھر ریلیف لینے کیلئے ہمیشہ کی طرح لوگوں کی محرومیوں کو اجاگر کیا گیا۔
جس طرح 2018 کا اقتدار لینے کیلئے اور آج 2026 میں جیل سے باہر نکلنے کیلئے کیا جا رہا ہے، 2018 میں بھی صور��حال سے فائدہ اٹھایا گیا آج بھی اسی طرح فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، یہ اصل حقیقت ہے جس کا لوگوں کو پتہ چلنا چاہیے لوگوں کو بتانا چاہیے کہ عمران خان ڈٹ کر کیوں کھڑا تھا اور آج ڈھٹائی سے ڈٹ کر کیوں لیٹا ہوا ہے!
میں نے ص��ف اپنے لاپتا پالتو جانور کی واپسی کی اپیل کی تھی اور کمیونٹی نے مدد کی۔ اس پر بھی سیاست چمکانا تمہاری گرتی ہوئی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ ویسے Max تم سے ہزار گنا بہتر ہے، کیونکہ وہ نہ تو جعلی انگوٹھے لگا کر جیل جاتا ہے اور نہ ہی عوام کا پیسہ لوٹ کر ملک سے فرار ہوتا ہے۔ #میکس_گھر_آگیا_اب_تم_بھی_آجاو
@TirahWalMama You never see a punjabi bomb suicider or involve in terrorism. Punjbau always want development ' education and peace. Pashtoon and pakhtoons are generational involved terrorism. Stop hating punjabis.
@KlasraRauf The level of pakistan journalism. If you ask question on their news they call you paid and ask you are you a journalist. Ridiculous
I respect klasra sb but from last few weeks it looks like he is not in his sense. Should visit a phsychyterist