سندھ ہائی کورٹ — افغان میڈیکل طلبا کیس
سندھ ہائی کورٹ نے پی ایم ڈی سی کی جانب سے میڈیکل کالجز میں زیرِ تعلیم افغان طلبا کو واپس بھیجنے کے احکامات کے معاملے پر تین افغان طلبا کی درخواست پر حکمِ امتناع جاری کردیا۔
عدالت نے درخواست گزار افغان طلبا کو اپنی میڈیکل تعلیم جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے وفاقی حکومت، پی ایم ڈی سی، ایچ ای سی، ڈاو یونیورسٹی سمیت دیگر فریقین سے 22 ستمبر ��ک جواب طلب کرلیا۔
درخواست گزار طلبا نے علامہ اقبال اسکالرشپ برائے افغان شہری کے تحت ڈاو یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا تھا ��ور وہ فائنل ایئر کے طالب علم ہیں، وکیل جبران ناصر نے عدالت کو آگاہ کیا۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ کے مطابق طلبا کے پاس پاکستانی اسٹڈی ویزے موجود ہیں، تاہم پی ایم ڈی سی نے افغان طلبا کی روانگی کے اقدامات اور این او سی جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وکیل کے مطابق ڈاو یونیورسٹی کے نوٹس میں طلبا کو 14 ستمبر تک این او سی حاصل کرنے اور ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ یونیورسٹی نے افغان طلبا کی فہرست متعلقہ پولیس کو بھی فراہم کردی ہے، جس کے باعث طلبا کو پولیس کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا خدشہ ہے۔
جبران ناصر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ایم ڈی سی نے طلبا کو کوئی شوکاز نو��س جاری نہیں کیا، جبکہ پی ایم ڈی سی، ایچ ای سی اور ڈاو یونیورسٹی تعلیمی و انتظامی ادارے ہیں اور انہیں غیر ملکی شہریوں کے ویزے ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
وکیل کے مطابق محض قومیت کی بنیاد پر زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبا کو تعلیم سے محروم نہیں کیا جاسکتا، جبکہ طلبا کو افغانستان واپس بھیجنے سے ان کی میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کا موقع ختم ہوجائے گا۔
#SindhHighCourt #AfghanStudents #PMDC #DowUniversity #MedicalStudents
On our petition filed along with @SalAhmedPK Hon' SHC while issuing notices has been pleased to stay operation of PMDC directions seeking cancellation of enrollment of Afghan students who were invited to Pakistan on scholarship and are currently in their final year MBBS at DUHS.
افغان طلباء کو اس طرح واپس بھجوانے کی پالیسی جس کسی نے بنائی ہے وہ فرد ہے یا گروہ انتہائی سفاک ذہنیت کا مالک ہیں۔ تصور کریں کل کسی دوسرے ملک میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء کو آخری سیمیسٹر میں حکم ملے کہ واپس اپنے ملک جاؤ تمہارے چار یا پانچ سال سب ضائع ہو گئے۔ تمہارے سب پیسے جو تم نے اپنی تعلیم پر خرچ کیے وہ ضائع ہو گئے بس بوریا بستر باندھو اور واپس اپنے ملک جاؤ۔ یہ سفاکیت کی انتہا ہے اور ہمیں اس پر آواز بلند کرنی چاہییے۔ ہمارا جھگڑا طالبان کے ساتھ ہے پوری افغان قوم کے ساتھ نہیں مگر ہم پوری افغان قوم کو دشمن بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف‘ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر‘ ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل عاصم ملک سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں۔ ان طلباء کو یوں نکالنا نہ صرف ظلم ہے بلکہ ہماری ریاست کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ ہم نے ان طلباء کو جب داخلے دیئے تو انہوں نے ایک بہتر مستقبل کے خواب دیکھے تھے۔ خاص طور پر لڑکیاں جن کے لیے تعلیم کے دروازے افغانستان میں ویسے ہی بند ہیں انہیں واپس بھیجنا اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ ایسی پالیسیاں طالبان کو مضبوط کرنے کا موجب بنیں گی کیونکہ وہ نہیں چاہتے افغان خواتین تعلیم اور روزگار سے وابستہ ہوں۔ ہم افغان طالبات کو واپس بھجوا رہے ہیں جہاں ان کا کوئی مستقبل نہیں۔
یہ فیصلہ عالمی سطح پر ہمارے لیے مسائل پیدا کرے گا۔ قبل اس کے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پر واویلا مچائیں ارباب اختیار کو فوری طور پر اس پالیسی کو ریورس کرنا ہو گا اور ان طلباء کو اپنی تعلیم مکمل کر کے باوقار انداز میں انہیں ڈگریاں دے کر واپس بھیجیں جو ہماری ان کے ساتھ داخلہ دیتے ہوئے کمٹمنٹ تھی۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو اس کا وبال خدانخواستہ ہمارے اپنے شہریوں پر پڑے گا کیونکہ مکافات عمل ہو کر رہتا ہے۔ کل کوئی دوسرا ملک ہمارے شہریوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک نہ شروع کر دے۔ بہتر ہے اس سفاکانہ پالیسی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
@CMShehbaz@MIshaqDar50@OfficialDGISPR@MohsinnaqviC42
The Pakistan Medical and Dental Council's decision requiring Afghan medical students in Pakistan to return to Afghanistan is patently discriminatory and arbitrary in nature. The consequences of this decision are especially severe for female students, many of whom have already been denied access to higher education in Afghanistan amid Taliban’s ongoing gender persecution and now face the prospect of losing one of the few remaining pathways to pursue their education and profession. Many of these students will have devoted years studying medicine, only to see their education brought to an abrupt and unjustifiable end, with little prospect of being able to resume their studies elsewhere.
Pakistan has obligations under international human rights law to uphold the right to education without discrimination on the basis of national origin. Amnesty International urges the authorities to adopt a humane and practical solution that allows Afghan students, including women and girls, to complete their education.
خسته نشوید؛ هشتگ بزنید!
و اگر بندهزادی از ناکجا آباد بیاید و بپرسد (څه شي غواړئ؟) بگویید:
۱. به رسمیت شناختن نسلکشی هزارهها توسط سازمان ملل
۲. بررسی همهجانبه و بیطرفانه از سوی یک نهاد معتبر بینالمللی
۳. ارایهی راهکار از سوی سازمان ملل برای جلوگیری از این جنایات ضد بشری
1. Recognize Hazara people are being murdered! 2. The UN must intervene to stop the horror. 3. Investigate the Genocide. 4. Hold those accountable who murder the Hazara people. Just because I am no longer in Afghanistan and the Army does not mean I forget! #StopHazaraGenocide
افغان های مقیم انگلستان امروز مورخ 06/10/2022 در شهر ساوتهمپتون انگلستان تظاهرات راه اندازی کردهاند برای استبداد، برای همدلی و همکاری، برای انسانیت. برای توقف نسل کشی ، این کارزار را ادامه میدهیم. چنان که گوشهای ناشنوای مدعیان حقوق بشر صدای مان را بشنود!
#StopHazaraGenocide
وقتی دختران ننگرهاری به کشتن هزارهها اعتراض میکنند و میگویند «من پشتون هزارهام»، این شعارشان فقط وجه عاطفی ندارد؛ حاوی یک بصیرت آیندهنگرانه هم هست: میدانند هزارهکشی معادل آیندهکشی است. کشتن هزارهها یعنی بستن دریچههای امید
در آینده افغانستان.
#StopHazaraGenocide
هیچ مکان و فاجعهای در دنیای ما دور افتاده نیست؛ هزارهی شما دچار نسلکشی است، با اعتراضتان:#StopHazaraGenocide راه را بر روی فاجعه ببندید.
#StopHazaraGenocide
با وجود تمام دردهای که کشیده ام،توهین و تمسخر های که تابحال بخاطر هزاره بودنم شده ام،من اما سخت خوشحالم که هزاره ام!
و چقدر دوست دارم این هویت را
صدقه شنوم بینی پوچوق و چیم تنگ آزره❤
#StopHazaraGenocide
A 16-year-old girl was attacked at school because she is #Hazara, and if you've ever read #KhaleedHussain's books, you'd have an idea of how Afghan Hazara people have been treated. I've never stopped crying whenever I've read the book. Sadly, it's happening #StopHazaraGenocide
پدرش زنگ زده که بچیم ده جلسه آغلی فیصله شده که هرکس تلفن دره درخو توییتر جورکنه، از خاطر شهدا، چیکار کنیم او چیرقم جور موشه؟ تا ده میلیون میریم بخیر پیوسته و پیوسته و پیوسته.
دقت در هشتگ.
راستی شیفت را هم تحویل بگیرید. ما رفتیم تا فردا.
#stopHazaraGenocide