ایران کے ساتھ امریکہ کا ابتدائی معاہدہ(MOU) در اصل امریکی سامراج اور اس کے گماشتے اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ میں سے ایران کے ناقابل تسخیر قوت بن کر ابھرنے کا مظہر ہے۔ امریکی سامراج کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کا بنیادی مقصد انقلاب ایران کو سبوتاژ کر کے روس اور چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا تھا تاکہ روس، چین اور ایران گلوبل ساؤتھ کی اقوام کی قیادت کرتے ہوئے دنیا پر مسلط تن تنہا امریکی سامراجی بالادستی کو توڑ کر جو ملٹی پولر ورلڈ تشکیل دے رہے ہیں اس عمل کو روکا جائے۔ لیکن، اے بسائے آرزو کہ خاک شد۔ انقلاب ایران، پاسداران انقلاب، ایرانی انقلابی حکومت اور ایران کے انقلابی عوام نے امام آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر صف اوّل کی انقلابی لیڈرشپ کی ناقابل فراموش قربانیاں دے کر امریکی سامراج اور اس کے گماشتے اسرائیل کے خلاف ناقابل شکست مزاحمت سے تاریخ کا دھارا ہی بدل ڈالا اور وہ امریکی سامراج جو وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنے کے بعد دندناتا ہوا ایران کے انقلاب کے خاتمے کے لئے آیا تھا آج ایران کی شرائط پر معاہدہ کر کے ذلت کی اس دلدل سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ لیکن اس جنگ میں انقلاب ایران نے جو ضرب تاریخ انسانی کی سب سے بڑی سامراجی قوت اور مہیب عسکری طاقت امریکہ پر لگائی ہے اس کے گھاؤ سے کبھی پہلے والا امریکی سامراج دنیا میں ابھر نہیں سکے گا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تن تنہا دنیا پر امریکی سامراجی بالادستی کا دور ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا ہے، اب دنیا ملٹی پولر ورلڈ ہے اور اس ملٹی پولر ورلڈ کی تشکیل میں روس اور چین کے ساتھ ایران ایک کلیدی ملک ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ کہاں وہ امریکی سامراجی دہشت کہ پرل ہاربر واقعے کو جواز بناتے ہوئے جاپان پر ایٹم بم برسا کر لاکھوں انسانوں کو چشم زدن میں جلا کر خاکستر بنا دیا اور کہاں آج کی صورتحال کہ ایران کے ڈرونز اور میزائلوں سے امریکی سامراجی فوجی اڈوں سے اٹھنے والے دھویں میں اس کی تمام تر فرعونیت تحلیل ہو کر رہ گئی۔ کہاں وہ امریکی سامراج کہ جس کے بحری بیڑے جب کسی بوجوہ ناپسندیدہ ملک کے خلاف حرکت میں آتے تو حکومتیں گر جاتی اور کہاں آج اسی امریکی سامراجی قوت کے بحری بیڑے ایران کے ڈرونز اور میزائلوں سے سمندر میں بھاگتے نظر آتے ہیں۔ کہاں وہ امریکی سامراج کہ جس نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یکطرفہ طور پر دنیا پر اپنی تن تنہا بالادستی مسلط کرتے ہوئے عراق، لیبیا اور افغانستان کو تاراج کیا، لاکھوں انسانوں کا قتل عام کیا اور ناپسندیدہ ممالک میں کہیں نام نہاد انسانی حقوق و جمہوریت کی آڑ میں اور کہیں اپنے پالتو دہشت گرد وحشی درندوں کے ذریعے عدم استحکام پیدا کیا اور کہاں آج ایران جیسے اپنے مقابل چھوٹے لیکن انقلابی ملک کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست سے دو چار نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انقلاب ایران، آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت، ایرانی انقلابی گارڈز اور عوام کی مزاحمت و استقامت، ایران کے جغرافیہ، روس اور چین کی فیصلہ کن مدد اور تاریخی عمل نے مل کر امریکی سامراج کو ایسی بند گلی میں لا کھڑا کر دیا کہ جہاں شکست ہی اس کا مقدر تھی۔ اب سردست امریکی سامراج کے پاس دو ہی راستے ہیں، ایک یہ کہ وہ ملٹی پولر ورلڈ کے خلاف تاریخ کا پہیہ الٹا گھمانے کے بجائے نئی حقیقتوں کو سمجھے اور اس کے مطابق اپنے کردار کا تعین کرے اور دوسرا یہ کہ اپنی مہیب جنگی مشین سے کرہ ارضی سے نوع انسانی کو ہی مٹا ڈالنے کا مرتکب ہو۔ البتہ تاریخ کا شعور ہمیں یہ سبق سکھلاتا ہے کہ فطرت انسانیہ بصورت وژڈم(Wisdom) ضرور بروئے کار آئے گی اور اس کی حتمی شکل جلد یا بدیر خود امریکہ کے اندر سے ہی سرمایہ داری و سامراجی نظام کے اوپر سوشلسٹ انقلاب کے بلڈوزر کے چلنے کی صورت ہمیں نظر آئے گی۔ بصورت دیگر وطن عزیز پاکستان میں امام شاہ ولی اللّٰه کے فلسفہ و فکر کی بنیاد پر برپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب جب ملٹی پولر ورلڈ کو سوشلسٹ ورلڈ آرڈر میں تبدیل کرنے کا موجب بنے گا تو اسی لہر میں امریکی و یورپی سامراجی طاقتوں کی بچھی کچھی حیثیت بھی تا ابد غرق ہو جائے گی۔
بہر حال اس موقع پر انقلاب ایران کے عظیم وارث ایرانی انقلابی عوام اور انقلابی قیادت بالخصوص امام آیت اللہ مجتبی خامنہ ای اور پاسدارانِ انقلاب کو امریکی سامراج پر یہ فیصلہ کن فتح مبارک ہو۔ تاہم امریکی سامراج ابھی بھی سازشوں سے ہرگز باز نہیں آئے گا اور موقع ملتے ہی انقلاب ایران کو ہر ممکن نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ لہٰذا امریکی سامراجی سازشوں پر کڑی نظر رکھنا اور اس کے مطابق ہمہ گیر تیاری کرنا ناگزیر ہے جو یقیناً ایران کی بیدار مغز انقلابی قیادت کے پیش نظر ہو گا۔
گزشتہ کئی دنوں سے آزاد کشمیر میں عوام اپنے (جزوی)حقوق کے لئے پُرامن احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکمران طبقے کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی، بلکہ الٹا پُرامن مظاہرین پر بہیمانہ تشدد کیا گیا جس میں متعدد افراد زخمی و جان بحق ہوئے۔ یہ سارا عمل جہاں انتہائی قابل مذمت ہے وہیں حکمران طبقے کی بے حسی، سفاکی، کٹھور پن اور طاقت کے زعم کا مظہر ہے۔ ہم حکمران طبقے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لے، سفاکی اور بے حسی کو ترک کرے، مظلوم عوام کے جذبات و احساسات کو سمجھے اور فی الفور سیاسی عمل کے ذریعہ آزاد کشمیر میں پیدا شدہ بحران کا پرامن حل نکالے۔ اور یاد رکھے! جبر و تشدد کا مزید کوئی بھی عمل وقتی کامیاب تو ہو سکتا ہے لیکن عوام کی وسیع پرتوں میں پیدا ہونے والے جذبات و احساسات کو تا دیر دبانا ناممکن ہو جائے گا۔
#Iran Received New Suggestions from #USA and #Iran working on this Proposal
But
#US must Respect the #Iranian Sovereignty and will have to stop making threats
* Trump New Claim About Iran
That is aggressive
> Donald Trump Said:
The Question is whether Iran will sign the Agreement or whether we go and complete the mission.
A few Minutes ago He Claimed tha we are in final stage of negotiation.