یہ پاکستان کی نہیں، امریکہ کی کامیابی ہے۔ پاکستان صرف وہی کردار ادا کر رہا ہے جو اسے سونپا گیا ہے۔
پاکستان امریکا کا ایک اڈہ ہے، غلامو کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، اور ہا امریکا اپنی بدنامی پاکستان کے اوپر صاف کررہا ہے۔
یہ ویڈیو افغان طالبان ریجیم کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتی ��ے اور ثابت کرتی ہے کہ افغان طالبان ریجیم دہشتگردوں کو پناہ دے رہے ہیں اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت دے رہے ہیں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں بلکل درست جائز اور صرف دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لئے کی گئیں
#Indian_Action_Committee
بهرنۍ لارې چې بندې وي، اغېزې یې پر کورني بازار هم پرېوځي.د ترانسپورتي ستونزو او د منظم اقتصادي پلان د نشتوالي له امله د لومړنیو توکو بیې ورځ تر بلې لوړېږي. اړینه ده چې حکومت اساسي اقتصادي او ترانس��ورتي پروګرامونه په اغېزمن ډول عملي کړي، ترڅو د خلکو ستونزې کمې او بازار باثباته شي.
🚨ذرائع
پاکستانی افواج لبنان بھیجی جا رہی ہیں
پاکستانی وزارتِ دفاع کے باخبر ذرائع کے مطابق، پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کے وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ لبنان میں اسرائیل کی حمایت میں خفیہ طور پر 5000 پاکستانی فوجی بھیجے جائیں گے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل پاکستانی فوج نے غزہ میں بھی اپنے فوجیوں کو بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے دفاع کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کی مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
بھارتی فوج کے اعلیٰ افسر کرنل راج��ش پوار کا کھلم کھلا اعتراف: افغان طالبان بلوچ دھشتگرد تنظیم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو زمین اور محفوظ پناہ گاہیں مہیا کر رہا ہے، جبکہ بھارت ان دھشتگرد نیٹ ورکس کی مالی ضروریات پوری کر رہا ہے اور اسرائیل انھیں اسلحہ، بارود اور انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔۔۔
کرنل راجیس کہتا ھے کہ اسرائیل کیلئے پاکستان جیسے مسلمان ملک کے پاس نیوکلیئر ہتھیار برداشت کرنا ناممکن ھے
یہ بات قابل ذکر ھے کہ بھارت کے فوجی افسر کا یہ دعویٰ اس بات کا ثبوت ھے اس خطے خاص کر پاکستان کے بلوچستان اور پختونخوا صوبوں میں جاری پراکسی جنگوں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے پیچھے منظم تین ریاستوں کی مشین��ی اور وسائل کار فرما ھے
حقیقت تو یہ ھے کہ پاکستان کافی عرصے سے دنیا کو یہ باور کراتا آرہا ھے کہ پاکستان میں رواں بدامنی و دھشتگردی کے پیچھے بھارت اور اسرائیل کا گڑھ جوڑ ھے اور افغان طالبان نے انھیں محفوظ پناہ گاہیں گھر دف��ر گاڑیاں مہیا کی اور بارڈر کراس کرنے میں انکی مدد بھی کرتا ھے۔ جن کے سارے اخراجات بھارت اور اسرائیل اٹھارہا ھے۔ @ICCT_TheHague @counterterrorism #India #israel باقی کرنل راجیس کو سنئیے
کسی قوم کی توہین کرنا آسان ہے، لیکن حقیقت نہیں بدلتا۔ اگر کرائے کی بات ہو تو دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ کس کے فوجی مختلف جنگوں میں دوسروں کے لیے لڑتے رہے ہیں۔
آپ افغانیوں کو خرید نہیں سکتے لیکن یہ کرائے پر ہمیشہ دستیاب رہتے ہیں.
پانچ ہزار سالہ تاریخ والے افغانڈو، بھاڑے کے ٹٹو روس کی جانب سے یوکرائن کے خلاف جنگ میں حصہ لیں گے.
ايا دا حقیقت دې. که دروغ...!
چې د خواؤ شا ۱۹۴۰ نه تر ۱۹۱۹ پورې څومره افغان بادشاهان، اميران تير شوي دوي ټول د انګريزانو تنخوادار يعني وظيفه خوار وو...؟؟
دیا د امير دوست محمد خان او شاه شجاع (۱۹۴۰) نه تر امير حبيب الله خان (۱۹۱۹) پورې کم افغان بادشاه/امير د انګريزانو تنخوادار (وظيفه خوار) ندې پاتې.....؟؟
The question is..
Is it true that all the Amir, kings rulers of Afghanistan from 1940 till 1919 were getting salary or stipends from the British??
Or from Amir Dost Muhammad Khan and Shah Shuja (1940) to Amir Yaqub Ali Khan (till 1919)...which Afghan rulernwas not living on British stipend/salaru?
Simple question.
میرے خیال میں بہتر ھوگا کہ جو چاہتے ہیں کہ افغانستان میں شامل ھو جائے اچھا موقع ہے کہ انھیں انکی زمین سمیت امارت اسلامیہ افغانستان کے حوالے کرے۔۔ کوئی فرق نہی پڑے گا۔۔۔۔ یا پہلے انھیں افغانستان بھیج دیں زمیں کا معاملہ بعد میں بھی حل ھوسکتا ھے۔۔۔
محمود خان اچکزئی صاحب نے ویسے بھی اعلان کیا ھے کہ تمام پختون افغانستان کا تذکرہ لیں۔۔ تو ٹھیک ھے وہ جو افغانستان کا تذکرہ لینا چاہتے ہیں وہ اپنا نام لیکھ دیں۔۔
حکومت پاکستان انکے کو خرچہ دانہ پانی سمیت وہاں شفٹ کریں۔۔ اور پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ کرے۔۔۔۔۔
اگھر ھمارے بھائی اس گھر میں خوش سے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں انکی جانے میں پوری مدد کرنی چاہئے۔۔
ہاں جو افغانستان جانا چاہتے ہیں۔اپنی زمیں سمیت۔۔۔وہ یہاں کمنٹس میں اپنا نام اور پتہ لکھیں دیں۔۔ ساتھ اگر شناختی کارڈ کا نمبر بھی لکھ دیں تو اور آسانی ھو جاے گی۔۔ ایمان کا امتحان ھے۔۔بھائیو۔۔بسم اللہ کرے۔۔۔
اول جواب.
پښتانه په خپله پلرنۍ خاوره کې ژوند کوي؛ هېڅ حکومت حق نه لري چې خلک له خپلې ځمکې وباسي. د اختلافاتو حل د خبرو او عدالت له لارې کېږي، نه د خلکو د حقونو په محدودولو.
میرے خیال میں بہتر ھوگا کہ جو چاہتے ہیں کہ افغانستان میں شامل ھو جائے اچھا موقع ہے کہ انھیں انکی زمین سمیت امارت اسلامیہ افغانستان کے حوالے کرے۔۔ کوئی فرق نہی پڑے گا۔۔۔۔ یا پہلے انھیں افغانستان بھیج دیں زمیں کا معاملہ بعد میں بھی حل ھوسکتا ھے۔۔۔
محمود خان اچکزئی صاحب نے ویسے بھی اعلان کیا ھے کہ تمام پختون افغانستان کا تذکرہ لیں۔۔ تو ٹھیک ھے وہ جو افغانستان کا تذکرہ لینا چاہتے ہیں وہ اپنا نام لیکھ دیں۔۔
حکومت پاکستان انکے کو خرچہ دانہ پانی سمیت وہاں شفٹ کریں۔۔ اور پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ کرے۔۔۔۔۔
اگھر ھمارے بھائی اس گھر میں خوش سے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں انکی جانے میں پوری مدد کرنی چاہئے۔۔
ہاں جو افغانستان جانا چاہتے ہیں۔اپنی زمیں سمیت۔۔۔وہ یہاں کمنٹس میں اپنا نام اور پتہ لکھیں دیں۔۔ ساتھ اگر شناختی کارڈ کا نمبر بھی لکھ دیں تو اور آسانی ھو جاے گی۔۔ ایمان کا امتحان ھے۔۔بھائیو۔۔بسم اللہ کرے۔۔۔
بلوچستان میں خواتین کو دہشتگردی اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا گیا ۔ اب تک 8 خواتین خودکش بمبار کے طور پر لانچ ہوئیں، جبکہ 5 کو بروقت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ب��ا لیا۔ یہ رجحان نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ بلوچ ثقافت اور مذہبی اقدار کے بھی خلاف ہے۔
Why do countries in the region not have strong economic and transport ties? Why are routes closed and trust so weak? Until policies of suspicion end and real cooperation is built, the region cannot progress.
#Pakistan#Afghanistan#Russia
ولې د سیمې هېوادونه د اقتصاد او ترانسپورت قوي اړیکې نه لري؟ ولې لارې بندې او باور کمزوری دی؟ تر څو چې د شک سیاستونه ختم نه شي او همکاري رامنځته نه شي، سیمه پرمختګ نه شي کولی.
#Pakistán#Afghanistan#China#Russia#India
پاکستان ته پکارده چې د سیمې شخړې د زور او جګړې پر ځای دخبرو اترو له لارې حل کړي.افغان ولس د فشار او پوځي لارې نه شي کنټرولېدای،حل یوازې په ډیپلوماسۍ کې دی.
دخیبر پښتونخوا د خلکو حقونو او عزت ته دې بشپړ پام وشي.پښتانه د سیمې مهم تاریخي ولس دی او د هغوی درناوی د سولې لپاره ضروري دی
Pakistan should not mistake Afghanistan’s current challenges for permanent weakness. History proves that nations rise stronger after hardship. A capable and technologically advanced Afghanistan could reshape regional dynamics and change many assumptions in the region.
پاکستان کو افغانستان کی موجودہ صورتحال کو مستقل کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں مشکلات سے نکل کر مزید مضبوط بنتی ہیں۔ ایک مستحکم اور ترقی یافتہ افغانستان خطے کے کئی پرانے اندازے بدل سکتا ہے۔
#پاکستان