بدترین انتقامی کارروائیوں اور ظلم و ستم کا نشانہ بننے کے باوجود سویڈن میں قرآنِ پاک کو نذرِ آتش کئے جانے کےخلاف تحریک انصاف کے کارکنان جس بڑی تعداد میں ملک بھر میں نکلے، اسے میں نہایت تحسین کی نگاہ سے دیکھتا اور سراہتا ہوں!
شہریار آفریدی، جنہیں محض اس لئے خوفناک حالات میں رکھا گیا ہے کہ انہیں تحریک انصاف سے راہیں جدا کرنے پر آمادہ و مجبور کیا جاسکے، آج انسدادِ دہشتگردی عدالت میں (ابتر جسمانی و ذہنی حالات کے باعث) گِر گئے۔
کچھ روز قبل تحریک انصاف کے وہ کارکنان جنہیں پولیس کی گاڑی میں بھر کر لایا گیا تھا، اس شدید گرمی میں (دم گھٹنے سے) بےہوش ہوگئے۔
ان لوگوں، جو تحریک انصاف پر ستّم ڈھانے اور اسے کچلنے کیلئے (قانون و انسانیت کی) ہر حد پامال کررہے ہیں، کو میرا پیغام ہے کہ؛
آپ کچھ بھی کرلیں، ہم (آپ کی) اس یزیدیت اور اپنی حقیقی آزادی کیلئے آخری دَم تک جدوجہد جاری رکھیں گے!
موجودہ فسطائی بندوبست کی جانب سے ہماری جمہوریت، ہماری عدلیہ، ہمارے آئین اور قانون کی حکمرانی کو مکمل طور پر ایک مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ ہمارے دیگر قائدین کیطرح، شیریں مزاری کو ضمانت ملنے کے باوجود پھر سے گرفتار کرکے ایک دوسری جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔ ہمارے کم و بیش ساڑھے سات ہزار (7500) کارکنان گرفتار کئے جا چکے ہیں جن میں بیشتر کو قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔ ایسے میں جب میں آپ سے مخاطب ہوں، گھروں میں (غیرقانونی طور پر) دھاوا بولا جارہا ��ے، ان میں توڑ پھوڑ کی جارہی ہے اور (بغیر کسی لحاظ کے) مرد و خواتین کو اٹھایا جارہا ہے۔ ایس میں جب ہمارا ملک معاشی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے لحاظ سے زوال کی تہہ میں اتر چکا ہے، ہم مزید گہرائیوں کو چھو رہے ہیں۔ اور یہ سب پاکستان تحریک انصاف کو آئندہ حکومت بنانے سے روکنے کیلئے کیا جارہا ہے۔
ہمارے پاس کسی بھی آزادانہ تحقیق/انکوائری میں پیش کرنے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جلاؤ گھیراؤ اور بعض مقامات پر فائرنگ وغیرہ میں ایجنسیوں کے اہلکار ملوث تھے تاکہ افراتفری پھیلائی جائے جس کا الزام تحریک انصاف پر دھرا جائے اور اس کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا جواز تراشا جا سکے۔
ہمارےکارکنان اور قائدین کو اغواء،گرفتار اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہاہےجبکہ انکےگھروں پر بغیر وارنٹس چھاپے مارےجارہےہیں۔اسلام آباد میں آج مراد سعید کی رہائشگاہ پر اس وقت چھاپہ مارا گیا جب وہ گھر پر موجود نہیں تھا۔ مجھےبتایاجائےکہ یہ سب کس قانون کےتحت کیاجارہاہے؟ اقتدار پر
یہ من��ظر زندگی بھر میرے ساتھ رہیں گے۔ آنسو گیس کے (تکلیف دہ) اثرات زائل کرنے کیلئے سر پر پانی انڈیلتے اور دیوانہ وار جھومتے ہوئے بلند کی جانےوالی آزادی کی یہ والہانہ اور پرجوش صدائیں! ماشاءاللہ ایک قوم بالآخر بیدار ہو رہی اور ��زادی مانگ رہی ہے۔