پنجاب حکومت کی ناکامی سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں۔آج کی اس خبر کے مطابق"پنجاب کے ہاسپٹلز سے پلاسٹک فضلہ(ڈرپس،انجیکشن، یورین بیگز وغیرہ) کا30-40 فیصد تلف کئے جانے کی بجائےچوری/اسمگل ہوتا ہے جس سے پلاسٹک گلاس،پلیٹیں،دیگر سامان تیار کرکے عوام کے گھریلو استعمال کیلئے بیچا جارہا ہے"
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 2015 میں 21ویں آئینی ترمیم کو اڑاتے ہوئے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا:"۔۔آئین میں ترمیم کیلئے پارلیمنٹ کو بے لگام اختیارات حاصل نہیں۔اگر پارلیمنٹ آئین میں کوئی ترمیم کردے تو سپریم کورٹ نا صرف اسکا جائزہ لے سکتی ہے بلکہ ضروری ہو تو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔"
1962 سے قبل بھارت میں ایک ہی انٹیلی جنس ایجنسی ہوتی تھی جسے انٹیلی جنس بیورو کہا جاتا تھا۔ 1962 کی چین انڈیا جنگ کے بعد بھارت کو احساس ہوا کہ آئی بی خارجہ امور کے حوالے سے انٹیلی جنس فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور اسے خبر نہ ہوسکی کہ چین بارڈر پر فوجیں جمع کررہا تھا۔ چنانچہ ایک نئی خفیہ ایجنسی را کی بنیاد رکھی گئی جس کا ہیڈ رامیشور ناتھ نامی ایک سویلین تھا جس کے پاس ڈبل ماسٹرر ڈگریاں تھی۔ را کا بنیادی مقصد ایکسٹرنل انٹیلی جنس تھا اور فوکس پاکستان اور چین۔
رامیشور نے اگلے چار سال کے اندر اندر انتہائی پروفیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کھڑی کردی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، را نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
بنگلہ دیش کا قیام، ریاست سکک کا انضمام، سری لنکا میں مداخلت، سردجنگ کے دوران افریقی لبریشن موومنٹ کی کامیابی، افغانستان میں بڑھتا ہوا انفلوئنس، نیوکلئیر پروگرام کی حفاظت اور گروتھ، خلیجی ممالک کے ساتھ خفیہ معاہدے، بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک، وغیرہ وغیرہ۔
145 ملین ڈالرز کے بجٹ کے ساتھ را نے اپنے قیام کے بیس سال کے اندر اندر بھارت کیلئے اتنی کامیابیاں سمیٹی کہ بھارت کو یہ ایجنسی بوجھ کی بجائے اثاثہ لگنے لگی۔
را میں نوکری کیلئے بنیادی کوالیفیکشن کے ساتھ ساتھ سپیشل کورسز اور سویلین امتحان پاس کرنا ضروری ہے۔ را کے افسر فوجی نہیں بلکہ خالص پروفیشنل سویلین ہوتے ہیں۔
اسی طرح امریکی سی آئی اے، برطانوی ایم آئی سکس بھی فوجی نہیں بلکہ خالص سویلین پروفیشنلز چلاتے ہیں۔
را کا چیف وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے جبکہ سی آئی اے اور ایم آئی سکس کے چیفس وزارت دفاع کے انڈر آتے ہیں۔
پاکستان میں آئی ایس آئی فوج کے انڈر آتی ہے۔ وسائل دیکھیں تو سارا ملک ان کی تحویل میں ہے، کارنامے دیکھیں تو سوائے اپنے شہریوں کو اغوا کرنا، ججوں کو بلیک میل کرنا، سیاستدانوں کی وفاداریاں تبدیل کروانے کے علاوہ اور کسی محاذ پر کوئی کارنامہ نہیں ملے گا۔
دنیا اسی لئے فوج کو بارڈرز تک محدود رکھتی ہے۔ ہم نے فوج کو بارڈر سے واپس بلا کر اقتدار کا نشہ ان کے منہ کو لگا دیا۔ اب فوج ایک سفید ہاتھی بن چکی ہے جس کا فائدہ کوئی نہیں، نقصان بے شمار ہیں!!!
پاکستان کیلئے اصل سیکورٹی رسک انرجی سیکٹر ہے ، باوجود یکہ اندھا دھند قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں گیس ، بجلی کا گردشی قرضہ پانچ ہزار ارب ہو گیا ہے، بجلی کی فی یونٹ قیمت جولائی میں 85 روپے تک ہو گی ، ان قیمتوں پر رہائشی، کاروباری اور صنعتی زندگی نہیں چل سکتی 1/n
ڈھاکہ میں پاکستانی فوج کی شکست کے وقت پر یحییٰ خان کیا کر رہے تھے؟
ایک تھریڈ 🧵
حسن عباس اپنی کتاب 'پاکستانز ڈرفٹ انٹو ایکسٹریمزم' میں لکھتےہیں،
اردو ترجمہ: "یحییٰ کی عیاشی کی ایک مثال ڈھاکہ میں پاکستان کی شکست کے موقع پر ملتی ہے۔پاکستان کے ہتھیار ڈالنے سے عین پہلے،" [جاری ہے]
@Pakistaniyat4@PTIofficial میرے خیال میں صرف ایک دلائل سے کیس اڑ جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے آرڈر اور آئین پاکستان کے مطابق کے پی اور پنجاب میں اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد ۹۰ روز میں الیکشن نہیں کرائے تو یہ کس قانون کی بنا پر بلے کا فیصلہ دیتا ہے جبکہ اس نے الیکشن نہ کروا کر عوام کا خون کیا
ایوب ، یحییٰ ،ضیا ، مشرف اور قاضی فائز تاریخ میں بطور قاتلانِ جمہوریت اکٹھے ہو گئے ، قاضی تو ان سب سے آگے یوں بڑھ گیا ہے کہ سیاسی جماعت کو نشان سے محروم کرنے کا جرم یہ چاروں بھی نہ کر سکے ، حیرت ہوتی ہے کہ ننگی آمریت نافذ کرنے والے ڈکٹیٹر میں بھی کچھ حیا باقی تھی ، قاضی بے حیا
قاضی جلاد نے کروڑوں پاکستانیوں کی امنگوں کا خون کیا ہے اس بد بخت شخص نے کرایے کا قاتل بن کر جمہوریت کے گلے میں پھندا ڈالا ہے ، عمران خان کے بد ترین دشمن اور قاضی کے حمایتی بھی کہ رہے تھے دن دہاڑے اتنا بڑا ڈاکہ نہیں ڈالا جاسکتا مگر اس شخص نے بتا دیا کہ اسفل السافلین کیا ہوتا ہے
سافٹ ویئر اپڈیٹ ہو گیا؟
اس سوال سے آخر کیا مراد ہے؟ کیا سوال کرنے والا یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ کیا تمہیں اب پتہ چل گیا کہ اس ملک میں آئین اور قانون کی کوئی حیثیت نہیں اور تمہاری جان، مال، خاندان اور حقوق محفوظ نہیں اور تمہارا مقدر اس ڈر میں جینا ہے کہ اگر انصاف کی بات کرو گے تو یا غائب ہو جاؤ گے یا مارے جاؤ گے کیونکہ تم ایک شہری نہیں بلکہ ایک غلام ہو۔