انہیں انساں تو سمجھا ہوتا.
پولیس کے شہداء کی لاشیں ایک ڈاٹسن میں اس طرح لادی گئیں جیسے لکڑیاں یا سامانِ تجارت ڈھویا جاتا ہے۔ ویسے حکام بالا یہ سامان تجارت کی ہیں۔ ایک ہی گاڑی میں آٹھ آٹھ اجساد خاکی، اوپر سے رسیوں سے باندھ کر۔ جیسے یہ وطن پر جانیں نچھاور کرنے والے انسان نہیں، بلکہ کوئی بے قیمت بوجھ ہوں۔
چلیں، یہ بھی غنیمت ہے کہ ایمبولینس نہ سہی، انہیں کسی گاڑی میں تو لایا گیا۔ ورنہ یہ بھی نہ کرتے تو کون پوچھتا؟
یہ وہی جوان تھے جو چند لمحے پہلے تک ریاست کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھے کھڑے تھے۔ جن کی وردی قومی سلامتی کی علامت تھی، جنہیں وطن کے محافظ کہا جاتا تھا۔ مگر جب وہ شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہوئے تو ان کے بے جان جسموں کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جس نے زخمی دلوں کو بالکل ہی چھلنی کر دیا۔
شہداء کی تکریم کسی فرد یا ادارے پر احسان نہیں، بلکہ ایک مہذب، باوقار اور ذمہ دار ریاست کی شناخت ہوتی ہے۔ افسوس کہ یہ منظر ہمارے اجتماعی رویوں، انتظامی بے حسی اور انسانی احساس کے زوال کی تلخ تصویر بن کر سامنے آیا۔
مرنے والے کا بھی کچھ حق ہے زمانے والو
دفن سے پہلے اسے انسان تو سمجھا ہوتا
پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے کا 12 گھنٹے آپریشن کرنے کے بعد ملبہ برآمد ہوگیا
اللہ تعالیٰ آئندہ ایسے ناخوشگوار واقعات سے پاکستان کو محفوظ فرمائے
مگر شہید اسلام شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے قاتل ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے
مدارس دینیہ میں ویڈیوز بنانے کا رجحان بھی اب بڑی تیزی سے پروان چڑھ رھا ہے چھوٹے چھوٹے بچوں کی ویڈیوز بناکر فیس بک ٹک ٹاک وغیرہ پر محض ویوز کے حصول کی غرض سے چسپاں کردی جاتی ہیں ...
اس سے جہاں غیر شعوری طور پر معصوم بچوں کے اذہان ٹک ٹاک کی دنیا کی طرف جارھے ہوتے ہیں وہیں وہ تعلیمی رجحان بھی کھو رھے ہوتے ہیں اسی طرح نام و نمود کمانے کا رجحان بھی ان میں بڑھ رھا ہوتا ہے ...
بچے آپ سے تعلیم دین حاصل کرنے آئے ہیں ٹک ٹاک کی کلاس لینے نہیں آئے بھلا کس طرح آپ انکی ویڈیوز بنا کر شائع کرسکتے ہیں ؟؟؟
تعلیمی سرگرمیاں اجاگر کرنے کیلیے عوام کو اپنی سرگرمیوں سے آگاہی دینے کیلیے کچھ تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق ویڈیوز تو چلو پھر بھی سمجھ آتی ہیں مگر اس میں بھی حد سے تجاوز کرنا بالکل مناسب نہیں ہے ...
ایک پیچ پر اس معصوم بچے کی کئ ویڈیوز نظر سے گزریں محض اس عنوان سے کہ چھوٹا مفتی طارق مسعود صاحب اور بچہ بڑے بالوں کو لہراتے ہوئے چلتا جارھا ہے یہ روش بالکل غیر مناسب اور بچے کی تعلیم کیلیے زہر قاتل ہےمدارس دینیہ میں ویڈیوز بنانے کا رجحان بھی اب بڑی تیزی سے پروان چڑھ رھا ہے چھوٹے چھوٹے بچوں کی ویڈیوز بناکر فیس بک ٹک ٹاک وغیرہ پر محض ویوز کے حصول کی غرض سے چسپاں کردی جاتی ہیں ...
اس سے جہاں غیر شعوری طور پر معصوم بچوں کے اذہان ٹک ٹاک کی دنیا کی طرف جارھے ہوتے ہیں وہیں وہ تعلیمی رجحان بھی کھو رھے ہوتے ہیں اسی طرح نام و نمود کمانے کا رجحان بھی ان میں بڑھ رھا ہوتا ہے ...
بچے آپ سے تعلیم دین حاصل کرنے آئے ہیں ٹک ٹاک کی کلاس لینے نہیں آئے بھلا کس طرح آپ انکی ویڈیوز بنا کر شائع کرسکتے ہیں ؟؟؟
تعلیمی سرگرمیاں اجاگر کرنے کیلیے عوام کو اپنی سرگرمیوں سے آگاہی دینے کیلیے کچھ تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق ویڈیوز تو چلو پھر بھی سمجھ آتی ہیں مگر اس میں بھی حد سے تجاوز کرنا بالکل مناسب نہیں ہے ...
ایک پیچ پر اس معصوم بچے کی کئ ویڈیوز نظر سے گزریں محض اس عنوان سے کہ چھوٹا مفتی طارق مسعود صاحب اور بچہ بڑے بالوں کو لہراتے ہوئے چلتا جارھا ہے یہ روش بالکل غیر مناسب اور بچے کی تعلیم کیلیے زہر قاتل ہے
ہمیں تو اسلام میں مُردوں کو بھی "السلام و علیکم یا اہل القبور" کہنے کا حکم ہوا ہے، پتہ نہیں لوگوں میں اتنی انا، ضد اور اکڑ کیوں آگئی ہے کہ زندہ لوگوں کو بھی مطلب کے بغیر سلام نہیں کرتے۔
یہ کوئی پہاڑی راستہ نہیں بلکہ لاچی بائی پاس کا وہ اہم حصہ ہے جسے دو مرتبہ تعمیر کیا گیا، مگر آج بھی اس کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ جگہ جگہ گڑھے، دراڑیں اور ٹوٹ پھوٹ عوام کے لیے مشکلات اور حادثات کا سبب بن رہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ دو مرتبہ تعمیر کے باوجود یہ سڑک کیوں معیاری نہ بن سکی؟ کیا اس کا کوئی احتساب ہوگا؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ National Highway Authority، ڈپٹی کمشنر کوہاٹ اور کمشنر کوہاٹ ڈویژن اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، تعمیراتی معیار کی تحقیقات کرائیں اور عوام کو محفوظ اور پائیدار سڑک فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ عوامی وسائل کا تحفظ اور معیاری تعمیرات متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
آج کل سوشل میڈیا پر اس ٹک ٹاکر بچے کی کچھ ویڈیوز گرزش کر رھی ھے جس میں وہ ام المدارس جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے دارالحدیث میں طلبہ کے سامنے بیٹھا ھوا نظر آتاھے اسی طرح کچھ برآمدو میں ٹکٹاک بناتے ھوئے نظر آرھے ھے اسلیے بعض سنجیدہ لوگوں کی طرف سے ایک در خواست ھے کہ موبائل کے فتنے نے یقینا مدارس کی حقیقی روح کو ختم کر کے رکھاھے ۔۔۔لھذا حافظ سلمان الحق حقانی اور دیگر اکابرین
حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ دورہ حدیث میں خصوصا ٹک ٹاک بنانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے 🙏
السلام علیکم،
میں نے تقریباً دو سال پہلے GFC کے 3 بلیڈز خریدے تھے، جن کی قیمت تقریباً 2700 روپے تھی۔ بدقسمتی سے آج فجر کی نماز کے وقت میری آنٹی پنکھا استعمال کر رہی تھیں کہ اچانک چلتے چلتے ایک بلیڈ ٹوٹ کر الگ ہو گیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ محفوظ رہیں، ورنہ کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آ سکتا تھا۔
اس واقعے کے بعد جب کسٹمر سروس سے رابطہ کیا تو جواب ملا کہ ریپلیسمنٹ ممکن نہیں ہے۔ اتنی کم مدت میں اس معیار کی خرابی اور پھر بعد از فروخت تعاون نہ ملنا واقعی مایوس کن ہے۔
میری گزارش ہے کہ کمپنی کو صرف پروڈکٹ بیچنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ صارفین کی حفاظت اور اطمینان کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ امید ہے GFC اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے گی اور مناسب حل فراہم کرے گی۔
آج بنوں کی ایک بہن نے ایک خاموش سبق دے دیا.
43°C کی جھلسا دینے والی گرمی، سر پر سفید چادر، چہرے پر تھکن... مگر ہاتھ پھیلانے کے بجائے مسواک بیچ کر حلال رزق کمانے کی کوشش۔
بنوں کی اس بہن نے ثابت کر دیا کہ غربت کبھی شرمندگی نہیں، مگر محنت چھوڑ دینا ضرور ہے۔
اگلی بار جب سڑک کنارے کوئی بہن، بھائی یا بزرگ محنت سے روزی کما رہا ہو، تو صرف افسوس نہ کریں... ان سے کچھ ضرور خریدیں۔
شاید آپ کی ایک چھوٹی سی خریداری، ان کے گھر کے چولہے کی وجہ بن جائے۔
سلام ہے بنوں کی اس بہن کی ہمت، خودداری اور تربیت کو۔
مولوی کی سکیورٹی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا آیت الکرسی پر یقین نہیں۔
جواب:
یہ اعتراض قرآن، سنت، عقل اور سلف امت کے طریقے کے خلاف ہے، کیونکہ اسلام توکل کے ساتھ اسباب اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، نہ کہ اسباب چھوڑ دینے کی۔
1۔ قرآن مجید کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ}
اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک ہو سکے طاقت تیار رکھو۔
(سورۃ الأنفال: 60)
اگر حفاظت کے اسباب اختیار کرنا ایمان کے خلاف ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا حکم نہ دیتے۔
2۔ سنت نبوی ﷺ کی روشنی میں
ایک شخص نے عرض کیا:
کیا میں اپنی اونٹنی کو کھلا چھوڑ کر اللہ پر توکل کروں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
{اعْقِلْهَا وَتَوَكَّلْ}
پہلے اسے باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو۔
الترمذي(٢٥١٧))
یعنی توکل کا مطلب اسباب کو چھوڑنا نہیں، بلکہ اسباب اختیار کرکے اللہ پر بھروسہ کرنا ہے۔
3۔ غار ثور سب سے بڑی دلیل
ہجرت کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے:
رات کے وقت سفر فرمایا۔
مختلف راستہ اختیار کیا۔
غار ثور میں قیام فرمایا۔
قابل اعتماد رہنما رکھا۔
جب کفار غار کے دہانے تک پہنچ گئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پریشان ہوئے، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
{لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا}
غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
(سورۃ التوبہ: 40)
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ کامل توکل اور مکمل حفاظتی تدابیر ایک ساتھ جمع ہو سکتی ہیں۔ غار میں چھپنا سبب تھا، جبکہ اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر تھا۔
4۔ آیت الکرسی پر ایمان کا صحیح مفہو
صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واقعے میں آیا ہے کہ رات کو آیت الکرسی پڑھنے والے کے بارے میں کہا گیا:
اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہو جاتا ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں آتا۔
اس حدیث میں شیطان سے حفاظت کا ذکر ہے۔
اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ آیت الکرسی پڑھنے والا کبھی کسی ظاہری یا مادی خطرے کا شکار نہیں ہو سکتا، حدیث سے ثابت نہیں۔
لہٰذا آیت الکرسی پڑھنے کے باوجود سکیورٹی رکھنا ایمان کے خلاف نہیں، بلکہ شریعت کے مطابق اسباب اختیار کرنا ہے۔
5۔ عقلی جواب
اگر سکیورٹی رکھنا آیت الکرسی پر عدم یقین کی دلیل ہے، تو پھر:
- دوا کھانے والا اللہ پر یقین نہیں رکھتا؟
- گھر کا دروازہ بند کرنے والا اللہ کی حفاظت پر یقین نہیں رکھتا؟
- گاڑی میں سیٹ بیلٹ باندھنے والا تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا؟
- بیماری سے بچنے کے لیے علاج کروانے والا اللہ پر بھروسہ نہیں کرتا؟
کوئی مسلمان ایسا نہیں کہتا، کیونکہ یہ سب جائز اسباب ہیں۔
اسی طرح کسی عالم، مفتی یا دینی شخصیت کا سکیورٹی رکھنا بھی ایک جائز سبب ہے، نہ کہ ایمان کی کمزوری۔
6۔ انبیائے کرام علیہم السلام کا طریقہ
تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اسباب اختیار کیے:
حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی بنائی۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے قحط کے لیے غلہ ذخیرہ کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے جنگوں میں زرہ پہنی، پہرہ مقرر فرمایا اور دفاعی منصوبہ بندی کی۔
اگر اسباب اختیار کرنا توکل کے خلاف ہوتا تو سب سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام اسے ترک کرتے۔
مقصد:
سکیورٹی رکھنا اس بات کی دلیل نہیں کہ آیت الکرسی پر یقین نہیں، بلکہ یہ شریعت کے مطابق جائز حفاظتی تدبیر ہے۔
لہٰذا جو شخص اسباب بھی اختیار کرے اور دل کا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر رکھے، وہی حقیقت میں متوکل ہے۔ یہی قرآن، سنت اور انبیائے کرام علیہم السلام کا طریقہ ہے۔
لہذا یہ نہ اعتراض ہے نہ اس کی کوئی اہمیت ہے یہ صرف اپنے اندر عناد کااظہار ہوسکتاہے ۔
یہی تو اسلام کی اصل خوبصورتی ہے...
جہاں منصب، شہرت، علم اور قیادت سب ایک طرف رہ جاتے ہیں، اور بندہ اپنے رب کے حضور صرف ایک عاجز انسان بن کر کھڑا ہوتا ہے۔
نماز کی صفیں نہ کسی بڑے کو بڑا رہنے دیتی ہیں، نہ کسی چھوٹے کو چھوٹا۔ یہاں عزت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔
جب علماء، قائدین اور عوام ایک ہی صف میں سجدۂ رب کے لیے جھک جائیں تو یہی منظر امت کے اتحاد، اخوت اور اللہ کے سامنے کامل بندگی کی سب سے خوبصورت تصویر بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اخلاص کے ساتھ نماز کی پابندی، اتحادِ امت اور دین پر ثابت قدمی نصیب فرمائے۔ آمین۔