بریکنگ نیوز 🚨
زلفی بخآری انٹرنشینل میڈیا کو بتا رہےہیں, عمران خان اور بشریٰ بی بی پر خاص کر کتنا ظلم کیا جارہا ہے۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔
نماز کے لیے پانی بھی کیچڑ سے بھرا ہؤا ہوتا ہے💔
یہ عمران خان اکیلے کی تحریک نہیں ہے، حقیقی آزادی کی جدوجہد میں آپ سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا! آزادی پلیٹ میں رکھ کر کوئی نہیں دیتا،
#عالمی_لیڈر_خان_کو_رہا_کرو
The National Icon, the Legend, the Leader Imran Khan! Don’t know who can come close to his stature at this time globally. May Allah listen to the prayers of millions and IK gets released soon. Let’s Never Give Up until he and Pakistan wins!
#حبسِ_بےجا_میں_قید_شہزادہ
Pakistan's ex-Prime Minister's stance on Israel.
Our position was made clear by [Pakistan’s founder] Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah … in 1948: that we cannot ever accept Israel as long as Palestinians are not given their rights and there is no just settlement,” Khan said. August 2020
شہباز گِل کے ہوش اڑا دینے والے انکشافات 💔
اسوقت عمران خان جس گرمی کو برداشت کررہا ہے, انسان نہیں برداشت کرسکتا۔اور ہم جب تنقید کرتے ہے, تو بے شرم غصہ کرتے ہیں۔۔۔
🛑اسکو پھیلائیں, تاکہ پورے پاکستان کو پتہ ہو
عزت وہ ہوتی ہے جو دل سے کی جاتی ہے ۔۔۔۔عزت زور زبردستی سے نہیں کروائی جا سکتی ۔۔۔عزت کمانی پڑتی ہے ۔۔۔اور پاکستان کی عوام عمران خان کی دل سے عزت کرتی ہے
#releaseimrankhannow
“پہلگام واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ میں متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔
پلوامہ کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھی ہم نے بھارت کو مکمل تعاون کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکا۔ میری 2019 میں کی گئی پیشن گوئی کے مطابق ایک بار پھر ویسا ہی پہلگام واقعے کے بعد بھی ہو رہا ہے۔ خود احتسابی یا شفاف تحقیقات کی بجائے مودی سرکار نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔
ایک ڈیڑھ ارب کی آبادی والے ملک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، نہ کہ ایسے خطے میں اشتعال انگیزی جسے پہلے ہی “جوہری فلیش پوائنٹ” کہا جاتا ہے۔ پاکستان امن کو ترجیح دیتا ہے، لیکن ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان کے پاس ہر وہ صلاحیت موجود ہے جس سے وہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے سکتا ہے، جیسا کہ ایک متحد قوم کی مکمل حمایت یافتہ تحریک انصاف کی حکومت نے 2019 میں دیا تھا۔
میں نے اقوام ��تحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے۔
میں مسلسل یہ بات اجاگر کرتا رہا ہوں کہ آر ایس ایس کے نظریے کے تحت چلنے والا بھارت نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ کشمیر میں بھارتی مظالم، جو آرٹیکل 370 کے غیر قانونی خاتمے کے بعد مزید بڑھ گئے ہیں، کشمیری عوام کی آزادی کی خواہش کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔
نواز شریف یا آصف زرداری جیسے مفاد پرست سیاستدانوں سے بھارت کے خلاف کسی مضبوط مؤقف کی توقع رکھنا محض بیوقوفی ہے۔ وہ کبھی بھارت کے خلاف بولنے کی جرأت نہیں کریں گے کیونکہ ان کا ناجائز پیسہ اور کاروباری مفادا�� بیرون ملک ہیں۔ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور انہی مفادات کے تحفظ کے لیے بھارت کی جارحیت اور پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات پر خاموش رہتے ہیں۔ ان کا ڈر صرف یہ ہے کہ اگر انہوں نے سچ بولا تو بھارتی لابیاں ان کے آف شور اثاثے منجمد کروا سکتی ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج پاکستانی قوم ایک جعلی اور دھاندلی ذدہ فارم 47 رجیم کے باعث تقسیم ہو چکی ہے، لیکن مودی کی جارحیت نے پاکستانی عوام کو بھارت کے خلاف ایک آواز میں متحد کر دیا ہے۔ ہم اس جعلی حکومت کو مسترد کرتے ہیں، لیکن من حیث القوم بھارت کی جنگی جنون اور خطے کے امن کو داؤ پر لگانے والے عزائم کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔
کسی بھی بیرونی دشمن کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے قوم کا اندرونی طور پر متحد ہونا ضروری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان تمام اقدامات کو روکا جائے جو قوم میں مزید تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔ ریاست کی تمام توانائیاں سیاسی انتقام پر صرف ہونا اس نازک وقت میں قوم کی داخلی یکجہتی کو کمزور کر رہا ہے اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہو رہا ہے-
— اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی وکلاء سے گفتگو (29-04-2025)
“دوسری جنگ عظیم کے دوران جب جرمن طیارے لندن پر بمباری کر رہے تھے تو وزیرِاعظم ونسٹن چرچل نے کہا تھا: "اگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں، تو ہمیں شکست ��ہیں ہو سکتی۔"
بدقسمتی سے، آج ہمارا عدالتی نظام اس معیار کے بالکل برعکس کھڑا ہے۔ انصاف نہ صرف تاخیر کا شکار ہے، بلکہ دانستہ طور پر دبایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر قید میں رکھا گیا ہے۔ میرے وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات نہ ہونے دینا ان جعلی مقدمات کی قلعی کھول دیتا ہے۔
خواتین کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ پوری دنیا کے سامنے پاکستان کا امیج تباہ کر رہا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کو مسلسل جیل میں رکھنا، عالیہ حمزہ کی بلاجواز گرفتاری، اور بشریٰ بی بی کو ایسے مقدمے میں سزا دینا جس سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں، اس انتقامی طرز سیاست کا واضح ثبوت ہے۔
عدالتوں کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ مجھے اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ کورٹ پیکنگ کے ذریعے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ:
1. میرے کیسز کی سنوائی ہی نہ ہو تاکہ جھوٹے مقدمات میں مجھے قید رکھا جا سکے۔
2. الیکشن کے بعد بننے والے جعلی حکومتی سیٹ اپ کو قانونی تحفظ دیا جا سکے۔
افغان مہاجرین سے متعلق موجودہ پالیسی ہرگز درست نہیں۔ ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک اور زبردستی ملک بدری کے اقدامات ملک میں مزید بدامنی اور نفرت کو ہو�� دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ بلوچستان طرز کے اغوا کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جو کہ انتہائی قابل تفشیش ہیں- “فیصلہ سازوں” کی غلط پالیسیوں کے نتائج کا ملبہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت پر آئے گا اس لیے علی امین کو ان معاملات پر ایکشن لینا چاہیے- دھاندلی کے کیسز ایک سال سے لٹکے ہوئے ہیں ، اس حوالے سے جنید اکبر سیاسی اور احتجاجی حکمت عملی بنائیں-
بار کونسلز الیکشن میں انتظار پنجوتھہ انصاف لائیرز فورم کے اپنے امیدوار سامنے لائیں اور ساری پارٹی صرف اپنے امیدواران کو سپورٹ کرے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی وکلاء سے گفتگو (29-04-2025)
“پاکستانی قوم کو بیرونی اور اندرونی دونوں طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم نے ہمارے انصاف کے نظام کا جنازہ نکال دیا ہے اور ملک اس وقت مکمل ڈکٹیٹر شپ میں جا چکا ہے- سویلینز کا ملٹری ٹرائل قانونی قرار دینا اسی ترمیم کا نتیجہ ہے۔ ایوانوں میں اس ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے تو صرف کٹھ پتلی تھے اور احکامات کی پاسداری کر رہے تھے۔
دنیا کی کسی جمہوریت میں اپنے شہریوں کے ساتھ ایسا مذاق نہیں ہوتا کہ انہیں احتجاج کرنے پر ملٹری کورٹس کے حوالے کر دیا جائے۔ اس طرح کے فیصلوں سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔
نو مئی کے واقعات میں اپنے بچوں کو سزائیں دینے کے بجائے توجہ ہندوستان سمیت دیگر اندرونی و بیرونی مسائل پر مرکوز ہونی چاہیے۔ یہ وقت نوجوانوں کو متحد کرنے کا ہے۔
جن نوجوانوں کو ملٹری کورٹس سے دس ، دس سال کی سزائیں دلوائی گئی ہیں ان کا جرم صرف احتجاج کرنا ہے۔ بارہا کہتا ہوں کہ نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی جائے تا کہ معلوم ہو سکے کہ اصل مجرمان کون ہیں اور سزائیں کن کو ملنی چاہئیں ۔ یوں کسی آرمی افسر کے کہنے پر قوم کے نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کرنا ظلم ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کا دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ ججز اب صرف ایک سرکاری ملازم کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی آزادانہ فیصلہ نہیں لے سکتے۔ ججز کو ایک فرد واحد سب فیصلے لکھ کر دیتا ہے جو کہ نظام انصاف کی موت ہے۔ میرے خلاف جھوٹے اور بوگس مقدمات اسی لیے چل رہے ہیں کیونکہ عدلیہ آزاد نہیں ہے۔
القادر ٹرسٹ کیس سمیت میرے خلاف بنائے گئے تمام کیسز بوگس ہیں اس لیے مرضی کے ججز لانے کے باوجود میری اپیلیں مسلسل التوا میں رکھی جا رہی ہیں- جس دن میرے مقدمات میرٹ پر سنے گئے سب کا خاتمہ ہو جائے گا۔
میرا تمام پارٹی عہدیداران کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ تحریک چلانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ میری پہلی ترجیح تحریک اور پارٹی کی تنظیمِ نو ہے۔
جنید اکبر پر مجھے پورا اعتماد ہے۔ اگر وہ تنظیمی ذمہ داریوں پر فوکس رکھنے کے ساتھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی چلا سکتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے��
سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ اور وکلأ سے ملک میں جاری لاقانونیت اور فسطائیت پر گفتگو
(13-05-2025)
2/2
"They are trying every kind of mental torture technique to break him, but he is a resilient person. We’re extremely worried right now because there have been threats to prosecute him with charges that carry the death penalty.
Our message to Pakistan: Don’t lose faith because Imran Khan hasn’t lost faith. He hasn’t given up. He’s not sitting idly in a cell, twiddling his thumbs. He is actively planning for the future and believes that change will come."
Illegaly incarcerated Former Prime Minister Imran Khan's sons in an exclusive interview with Mario Nawfal
“He is a very very resilient person, he is one of the hardest people possible to break … He has strong faith in God” Imran Khan’s son Kasim Khan in an interview with Mario Nawfal
"He is being held in a death cell reserved for terrorists, under bleak and oppressive conditions"
Illegally Incarcerated Former Prime Minister Imran Khan’s Sons
“تمام پاکستانیوں کو بحیثیت قوم چوکس اور متحد رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ نریندر مودی پاکستان پر حملے سے اپنی اندرونی ساکھ کو بڑھاوا دینا چاہتا تھا، اس کے مذموم عزائم ناکام ہو چکے ہیں اور وہ زخمی ہے- وہ اپنی رسوائی کے بعد مزید حماقت کرے گا، جس کے لیے ہمیں بطور قوم تیار رہنا چاہیے۔
ان حالات میں ملک و قوم کو اتحاد اور یگانگت کی بہت ضرورت ہے۔ اس اتحاد کے لیے بہت ضروری ہے کہ عوام کی آواز کو سنا جائے۔
میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکستان کی خاطر آئین و قانون کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور ظلم کے خاتمے کے لیے جس کے پاس اختیار ہے اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے اپنے لیے کسی ڈیل یا آسائش کی ضرورت نہیں۔
نون لیگ کی کٹھ پتلی حکومت سے کسی بھی قسم کی گفتگو یا مذاکرات بے فائدہ ہیں۔ اس حکومت کا جھوٹے اقتدار سے چمٹے رہنے کے سوا کوئی مقصد نہیں۔ ان ��ے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ وہ حکومت ہے جس نے پاکستان کی اخلاقی اقدار اور آئینی ڈھانچے کو بالکل تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کا جو تہذیبی و اخلاقی ڈھانچہ تھوڑا بہت قائم تھا، وہ ان لوگوں نے پچھلے دو سال میں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ چور ہونا یا ڈاکو ہونا اس وقت اقتدار کی علامت بن چکا ہے۔
آج کے حالات ایسے ہیں کہ اگر آپ “امر بالمعروف” پر یقین رکھتے ہیں، اگر آپ نیکی اور سچائی کا راستہ دکھاتے ہیں، تو آپ جرم کے مرتکب سمجھے جاتے ہیں۔ آج کے پاکستان میں جن کو این آر او ملتا ہے، وہی سب سے بڑے عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں۔ جو چوروں کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں معافی ملتی ہے- لیکن جو سچ کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ جیل میں ڈالے جا رہے ہیں۔
جب عوام 9 مئی کو ظلم کے خلاف سڑکوں پر پرامن احتجاج کے لیے نکلی، تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ڈاکٹر یاسمین راشد اور عندلیب عباس دونوں ایک ہی گاڑی میں سوار تھیں لیکن ایک نے پریس کانفرنس کر کے سچ کے خلاف مؤقف اختیار کیا، وہ آج باہر ہے، اور جو سچ کے ساتھ کھڑی رہیں، وہ آج بھی جیل میں ہیں۔
شاہ محمود قریشی پر بھی شدید دباؤ تھا کہ وہ سائفر کیس میں میرے خلاف بیان دیں، لیکن جب انہوں نے سچ کا ساتھ دیا، تو وہ آج اس کیس سے بری ہونے کے باوجود بھی جیل میں ہیں۔ اگر وہ جھوٹ کے ساتھ ہوتے، تو آزاد گھوم رہے ہوتے۔
الیکشن کی لوٹ پر کھڑی فارم 47 حکومت کے بلند و بانگ کھوکھلے دعووں کے باوجود پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، نوجوانوں کے لیے نوکریوں کا حصول ناممکن ہے۔ معیشت کی بدحالی دراصل ملک میں آئین و قانون کے نظام کی تباہی کا نتیجہ ہے۔
جھوٹ اور فریب پر مبنی یہ نظام آزاد عدلیہ کا سامنا نہیں کر سکتا۔ 8 فروری 2024 کے الیکشن میں عوام کے ووٹ کو لوٹنے کے بعد مسلسل عدالتی نظام پر ایک حملہ جاری ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم اسی حملے کی ایک کڑی ہے جسے اعظم تاررڑ اوراحسن بھون نے نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی “فیکٹری” میں مینوفیکچر کیا- اس کا مقصد تھا کہ ایک قاضی فائز عیسٰی کی جگہ کئی قاضی فائز پی��ا کرو، ہر کورٹ میں ایک قاضی فائز بٹھاؤ اور پورا انصاف کا نظام دفن کر دو-
اقتدار پر قابض ناسمجھ لوگ جھوٹے نظام کو بچانے کے لیے ملک کے ہر علاقے میں پاکستانیوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ چادر اور چار دیواری کو پامال کر دیا گیا ہے۔ سیاسی مخالفین، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی اغواء کاری ��ور ان پر تشدد روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔
حضرت علی کا مشہور قول ہے: کفر کا نظام چل سکتا ہے، مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔
پاکستان میں رائج ظلم، جبر اور نانصافی کا نظام بھی انشأللہ ذیادہ دیر نہیں چلے گا!
میری بہنوں نے مجھے قاسم اور سلیمان کے پہلے انٹرویو کے مندرجات اور انٹرویو کی پاکستانی عوام کی جانب سے بےحد پذیرائی اور پسندیدگی کے بارے میں بتایا جسے سن کر بہت خوشی ہوئی-
ملک میں اس وقت انسانی حقوق مکمل طور پر معطل ہیں۔ میرے ساتھ جیل میں غیر انسانی سلوک مسلسل جاری ہے۔ میرے بچوں سے کئی کئی ماہ میری بات نہیں کروائی جاتی- میری کتابیں تک نہیں پہنچنے دی جاتیں اور نہ ہی میرے ذاتی معالج تک رسائی دی جاتی ہے- یہ سب عدالتی احکامات اور قوانین کی مسلسل توہین ہے-
میں اپنے پارٹی لیڈرز، خواتین اور ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اس وقت بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ وہ تمام افراد جو ناجائز فوجی عدالتوں کی وجہ سے جیل میں ہیں، وہ بہادری کا استعارہ ہیں۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقات میں گفتگو (20-05-2025)
“مجھے آج خیبرپختونخوا ��ے علاقوں میں کیے گئے ڈرون اٹیکس کے حوالے سے تفصیلات پتہ چلیں۔ میں ڈرون حملوں میں معصوم پاکستانی شہریوں کی شہادت پر نہایت رنجیدہ ہوں اور اسکی شدید مذمت کرتا ہوں ۔ میں خیبر پختونخوا حکومت کو ہدایت کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت کو احتجاج ریکارڈ کروائیں اور ان ڈرون حملوں کو فوری طور پر رکوائیں۔ ڈرون حملوں میں معصوم شہریوں کی ہلاکت سے دہشتگردی کم نہیں ہوتی بلکہ مزید بڑھتی ہے- ہماری کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد پاکستان میں امریکی ڈرون حملے رکے تھے- اگر آپ دہشتگردی کے خلاف ہیں تو اپنے ہی لوگوں کے گھروں پر بم مت گرائیں۔
ماشاءالله، جنرل عاصم منیر فیلڈ مارشل بن گئے، ویسے بہتر تھ�� کہ وہ فیلڈ مارشل کی جگہ خو�� کو بادشاہ کا ٹائٹل دیتے، کیونکہ اس وقت ملک میں جنگل کا قانون رائج ہے اور جنگل کے قانون میں تو بادشاہ ہوتا ہے۔
میرے ساتھ جو ڈیل کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، کوئی ڈیل ہوئی ہے نہ ہی ڈیل کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، یہ سب جھوٹ ہے۔
ہماری فورسز خصوصاً ائیر فورس نے جس طرح مودی کے عزائم کو ناکام بنایا ہے اس کے بعد مجھے خدشہ ہے کہ وہ اب مزید حماقت کرے گا، جس کے لیے ہمیں بطور قوم تیار رہنا چاہیے۔
میں خود اسٹیبلشمنٹ کو دعوت دے رہا ہوں کہ اگر پاکستان کے مفاد میں بات کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کی فکر ہے تو آ کر بات کریں-اس وقت ملک کو بیرونی خطرات، بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور معیشت کی بحالی کے لیے اکٹھا ہونا پڑے گا- میں نہ پہلے اپنے لیے کچھ مانگ رہا تھا، نہ اب مانگوں گا۔
پاکستان میں اس وقت ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے، طاقتور کے لیے نہیں۔ یہی نظام کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ جمہوریت دو بنیادی چیزوں پر قائم ہوتی ہے:
قانون کی بالادستی (Rule of Law)
اخلاقی اقدار (Morality)
آج جمہوریت کے ان دونوں ستونوں کو زمین بوس کر دیا گیا ہے۔ جو حالات چل رہے ہیں، وہ اس بات کے غماز ہیں کہ جمہوریت کی روح کو کچلا جا رہا ہے۔
جب آپ لوگوں کو یہ پیغام دیں گے کہ جتنا بڑا چور ہوگا، اتنا بڑا عہدہ ملے گا، تو انصاف کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ آصف زرداری کی بہن کے خلاف پانچ اپارٹمنٹس کا کیس نیب کے پاس ہے، جو ملازمین کے نام پر ہیں۔وہ خود ملک سے باہر ہے، اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔شہباز شریف پر 22 ارب روپے منی لانڈرنگ کا کیس تھا، اس کے باوجود اسے وزیرِاعظم بنا دیا گیا۔
پچھلے تین سالوں میں پاکستان کی اخلاقی اقدار اور آئینی ڈھانچے کو بالکل تباہ کر کے رکھ دیا گیا ہے۔توشہ خانہ ٹو کیس میں مضحکہ خیز ٹرائل دوبارہ شروع کیا گیا ہے- باقی جیل کی طرح جیل کورٹ بھی ایک کرنل کی مرضی سے چلائی جاتی ہے- میری بہنوں اور وکلأ تک کو کورٹ میں آنے سے روکا جا رہا ہے- میرے رفقأ تک کو مجھ سے نہیں ملنے دیا جاتا- میرے بچوں سے کئی کئی ماہ میری بات نہیں کروائی جاتی- میری کتابیں تک نہیں پہنچنے دی جاتیں اور نہ ہی میرے ذاتی معالج تک رسائی دی جاتی ہے- یہ سب عدالتی احکامات اور قوانین کی مسلسل توہین ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قائم غیرقانونی ٹرائل کورٹ میں اپنے وکلأ، اہل خانہ اور صحافیوں سے گفتگو (21 مئی ، 2025)
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء سے گفتگو:
(۲۲ مئی ۲۰۲۵)
”نو مئی کے جھوٹے کیسز کا ٹرائل ایک بار پھر شروع کیا گیا ہے- 9 مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج آج تک پیش نہیں کی جا سکی اور پچھلے دو سال نے یہ ثابت کیا کہ اس کا واحد مقصد تحریک انصاف کو کچلنا تھا۔ نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج اگر پیش کر دی جائے تو سچ سب کے سامنے آ جائے۔
ملک بھر کی طرح پشاور میں بھی ہمارے امیدواروں سے فارم 47 کے ذریعے سیٹیں چھینی ��ئیں- الیکشن پٹیشنز کا فیصلہ دینے کے لیے ذیادہ سے ذیادہ 180 دن کا وقت ہوتا ہے لیکن 15 ماہ گزرنے اور بار بار قانون اور جج بدلنے کے باوجود اب تک سماعت بھی نہیں شروع ہو سکی-
پشاور سے ہمارے جن لوگوں کا مینڈیٹ چھینا گیا ان کو کابینہ سمیت فوری طور پر ہائی کورٹ سے رجوع کر کے پٹیشن دائر کرنی چاہیئے اور الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج بھی کرنا چاہئیے۔اس کے علاوہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کریں۔
بطور پارٹی سربراہ بجٹ اور پالیسی ساز�� کے حوالے سے خیبرپختونخوا کی حکومت نے مجھ سے ہدایات لینی ہوتی ہیں۔ عوام نے تحریک انصاف کو حکومت کیلئے منتخب کیا ہے تو پالیسی مرتب کرنا بھی ہماری زمہ داری ہے- لہذا بجٹ پیش کرنے سے پہلے علی امین گنڈاپور اور وزیر خزانہ کی مجھ سے ملاقات کروانا ضروری ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے کوئی مجھ سے ملاقات کرنے نہیں آیا، یہ خبر محض جھوٹ پر مبنی ہے۔
تین وجوہات کی وجہ سے اس وقت قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے:
۱- مودی کو حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں جو سبکی ہوئی اس خفت مٹانے کیلئے وہ ضرور دوبارہ وار کرے گا
۲- خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات میں معصوم لوگ شہید ��و رہے ہیں
۳- معیشت مکمل طور پر تباہ حال ہے اور سرمایہ دار اور نوجوان مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں
انہی وجوہات کی بدولت میں نے مذاکرات کی بات کی ہے۔ مذاکرات ان سے ہی ہوں گے جن کے پاس اختیار ہے اور یہ مذاکرات صرف ملکی مفادات کی خاطر ہوں گے۔ میں کسی مشکل سے نہیں گھبراتا میرا عزم مضبوط ہے۔
نون لیگ کی کٹھ پتلی حکومت سے کسی بھی قسم کی گفتگو یا مذاکرات بے فائدہ ہیں۔ فارم 47 کی اس جعلی حکومت نے پہلے ہی ہمارے دو مہینے ضائع کیے۔ اس حکومت کا جھوٹے اقتدار سے چمٹے رہنے کے سوا کوئی مقصد نہیں۔ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ وہ حکومت ہے جس نے پاکستان کی اخلاقی اقدار اور آئینی ڈھانچے کو بالکل تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
جمہوریت کا قیام دو بنیادی ��صولوں پر ہوتا ہے ایک قانون کی بالادستی اور دوسرا اخلاقیات۔ مجھ پر اور تحریکِ انصاف سے منسلک دیگر لوگوں پر جس طرح کے بے بنیاد سیاسی مقدمے بنائے گئے ہیں، جبری اغوا اور گمشدگیوں کے بعد پارٹی ممبران سے تحریکِ انصاف چھوڑنے سے متعلق پریس کانفرنس کروائی گئی اس سے ثابت ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی ہرگز نہیں بلکہ جنگل کا راج قائم ہے۔
اخلاقیات کی پستی کا یہ عالم ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ممبران الیکشن کمیشن اپنی مقررہ مدت پوری کرنے کے باوجود عہدوں پر براجمان ہیں۔ متنازعہ آئینی بینچ کا قیام، اسکے فیصلے اور کیسز کی ہینڈلنگ سے اخلاقیات کی گراوٹ ثابت ہے۔ قانون اور اخلاقیات کی عدم موجودگی میں جمہوریت ہرگز نہیں پنپ سکتی، یہ معاشرے کی تباہی کا باعث ہے اور ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
مجھ پر ہر طرح کی سختی کی جا رہی ہے۔ میرے بچوں سے میری بات تک نہیں کروائی جاتی ، میرے اہل خانہ سے ملاقات کئی کئی دن روک لی جاتی ہے اور میرے معالج تک کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا اس کے باوجود میں اپنی قوم کی خاطر ڈٹ کر کھڑا رہوں گا-“
Former Prime Minister Imran Khan's conversation with lawyers in Adiala Jail - May 22, 2025
The baseless trials related to the events of May 9th (2023) have resumed once again. May 9th was a false flag operation. No CCTV footage has been presented to this day, and the past two years have made it abundantly clear that its sole objective was to crush PTI. The truth will be evident to all if the CCTV footage of that day is made public.
Seats were stolen from our candidates in Peshawar through the manipulation of Form-47, just like in other parts of the country. Legally, election petitions must be decided within 180 days. Yet, despite the passage of 15 months — and repeated changes in laws and judges — hearings have not even begun.
Those whose mandate was stolen in Peshawar must immediately file petitions in the High Court, together with the provincial cabinet, and should protest before the Election Commission. Furthermore, the Khyber Pakhtunkhwa Assembly must pass a resolution on this matter.
As party chairman, it is necessary for the government of Khyber Pakhtunkhwa to seek my guidance on budgetary and policy matters. The people have elected PTI to govern, and therefore, the responsibility for policymaking also rests with us. Consequently, it is essential that Ali Amin Gandapur and the finance minister meet with me before the budget is presented.
No one has approached me for any negotiations. News claiming otherwise is entirely false.
National unity is of utmost importance at this time for three key reasons:
Narendra Modi, having faced embarrassment in the recent Indo-Pak tensions, is likely to retaliate to salvage his pride.
Innocent lives are being lost daily to terrorist attacks in Khyber Pakhtunkhwa and Balochistan.
The economy is in shambles; investors and the youth are steadily leaving the country.
It is for these reasons that I have called for dialogue. But talks will only be held with those who actually hold power, and only in the national interest. I do not fear hardship — my resolve remains strong.
Engaging in any talks with the puppet PML-N government is pointless. This illegitimate Form-47 installed government has already wasted two months. Its only objective is to cling to false authority. It holds no real power. This is the very regime that has utterly destroyed Pakistan’s moral values and constitutional structure.
Democracy is founded on two core principles: rule of law and moral integrity. The baseless political cases against me and other PTI members, forced abductions, and coerced press conferences designed to make members publicly disassociate from the party — all prove that rule of law has been entirely dismantled. What we now have is the law of the jungle.
The decline of integrity is equally alarming. The Chief Election Commissioner and other members of the Election Commission continue to hold office even after the terms have ended. The formation of a controversial constitutional bench, its conduct and handling of cases further reflect the erosion of ethical standards. Democracy cannot flourish in the absence of law and morality. This is a recipe for societal collapse, and it should serve as a wake-up call for all of us.
I am being subjected to all forms of hardships. I am not allowed to speak to my children. Meetings with my family are arbitrarily delayed for days. Even my personal physician is not permitted to see me. Despite this, I will continue to stand firm for the sake of my nation.