فل کورٹ ریفرنس کے بعد جسٹس مسرت ہلالی سے ہم چند صحافیوں کی ایک مختصر ملاقات ہوئی۔ @saqibbashir156 صاحب نے جج صاحبہ سے سوال کیا: "میڈم! آپ کے جوڈیشل کیریئر کے وہ کون سے فیصلے ہیں جو آپ کو ہمیشہ یاد رہیں گے؟" جج صاحبہ نے صرف دو فیصلوں کا ذکر کیا: پہلا، جس میں انہوں نے تنسیخِ نکاح کو خلع میں تبدیل کرنے کیخلاف فیصلہ دیا، اور دوسرا، جس میں 16 سال سے قید ایک بے گناہ شخص کو بَری کرتے ہوئے نہ صرف غلط سزا دلوانے والوں پر مقدمے کا حکم دیا بلکہ متاثرہ شخص کو ہرجانہ بھی ادا کرایا۔
ذرا اندازہ کیجیے! جسٹس مسرت ہلالی 11 سال پشاور ہائی کورٹ اور 3 سال سپریم کورٹ میں رہیں، لیکن اپنے 14 سالہ طویل عدالتی کیریئر کا نچوڑ ان کے نزدیک صرف یہی دو فیصلے تھے۔ وہ فیصلے ان کے حافظے سے اتنی جلدی کیسے محو ہو گئے جنہوں نے ملکی سیاست کا رخ ہی موڑ دیا؟ جیسے 'بلے' کا انتخابی نشان واپس لینا، سویلنز کیلئے ملٹری کورٹس کی بحالی، یا مخصوص نشستوں کا کیس، جہاں عوامی منشا پر طاقتوروں کی مرضی کو مسلط کیا گیا۔ کیا اتنے بڑے آئینی و سیاسی اثرات کے حامل فیصلے واقعی بھلائے جا سکتے ہیں؟ یا پھر جج صاحبہ کے اس جواب میں ایک خاموش اعتراف چھپا تھا کہ ان فیصلوں کی اخلاقی اور آئینی حیثیت ایسی نہیں کہ ان کی بوجھ اٹھانا آسان نہیں ؟
“میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن فرعونیت اور یزیدیت کے سامنے نہیں جھکوں گا!!
قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے-
جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔
میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا-
پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔ مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔
نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔
پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اس سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آیا ہے یا 45 سے۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن مجھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں- مجھے جیل کے جس سیل میں 22 ماہ سے قید کیا ہوا ہے وہ ایک “چکی” ہے۔ اسی ملک میں چوروں کو وی وی آئی پی سیل میں رکھا گیا جو کسی “سویٹ”سے کم نہیں تھے۔
یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے اور ایک کرنل کے کہنے پر تمام عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے جاتے ہیں- میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ میری کتابوں سے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ڈھائی ماہ سے مجھ تک کوئی کتاب نہیں پہنچنے دی گئی، صرف وہی کتابیں دی جاتی ہیں جو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں- میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں لیکن میری جماعت کے لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی حالانکہ ان کے پاس عدالتی احکامات موجود ہوتے ہیں-
صرف مجھے اذیت دینے کے لیے میری اہلیہ کو سزائیں سنائی گئیں اس سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو سکتا ہے۔ ایک ہفتے میں میری اہل خانہ یا وکلاء سے صرف 30 منٹ کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ میری اہلیہ پر صرف سہولت کاری کا جھوٹا الزام تھا جو ثابت بھی نہیں ہو سکا۔
کل ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں تمام اپوزیشن اراکین لازمی شرکت کریں۔چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بلکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہا-
سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے-
بھارت کے جواب میں ہماری فورسز خصوصاً پاک فضائیہ نے زبردست جواب دیا ہے اور پوری قوم نے بھی ساتھ دیا۔ میں جیل میں مقید ہوں مگر یہاں بھی لوگوں نے پاکستان کے جواب پر خوشی منائی۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی دوران ٹرائل کارکنان، وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو اور سوالات کے جوابات
The sons of the imprisoned former leader of Pakistan Imran Khan told CNN they fear for their father's health, claiming authorities in the South Asian country are preventing them from seeing him.
Pakistan's government said it "categorically rejects" the claim that Khan has faced a communication blackout or been denied access to his family, lawyers and doctors. Read more: https://t.co/e7nMvqM6XF
Pakistan fails to curb Imran Khan's clout after 3 years in jail
Ruling camp sees it has wrongly expected ex-PM to accept deal for his release
https://t.co/zWx4M7lrdR
The sons of the imprisoned former leader of Pakistan Imran Khan told CNN they fear for their father's health, claiming authorities in the South Asian country are preventing them from seeing him.
Pakistan's government said it "categorically rejects" the claim that Khan has faced a communication blackout or been denied access to his family, lawyers and doctors. Read more: https://t.co/FZSRdjTfaC
We urge Pakistani authorities to unconditionally restore Imran Khan and Bushra Bibi Khan’s right to see their family and lawyers.
Both must be given access to adequate medial care and their solitary confinement, which is unlawful, should end immediately.
https://t.co/EFc0exoZVe
PAKISTAN: Ahead of the third anniversary of former Prime Minister Imran Khan’s ongoing detention, Isabelle Lassee, Amnesty International’s Acting Regional Director for South Asia, said:
“For three years, Pakistan’s authorities have systematically denied Imran Khan the right to a fair trial, subjected him to prolonged solitary confinement, and limited his access to medical care and visitation rights. He has not been allowed to meet his family for more than eight months and his vision has reportedly deteriorated significantly. Both he and his wife, Bushra Bibi Khan, have now been denied regular access to legal counsel since December 2025."
Read more: https://t.co/hc6eKnIITh
چیئرمین عمران خان کی بہن @Aleema_KhanPK کو میانوالی کے حدود میں داخل ہوتے ہی پنجاب پولیس کی بھاری نفری نے روک دیا،
”علیمہ خان کو اپنے والد صاحب کی قبر پر جانے کی آجازت نہیں ظلم جبر عروج پر۔“
ممبر قومی اسمبلی @naseem_mna