آخرکار جادو کا راز کھل ہی گیا!
تو اس طرح کسی انسان کو اچانک غائب یا ظاہر کرنے کا کرتب دکھایا جاتا ہے۔ جس شخص نے یہ ذہین ڈیزائن تیار کیا، وہ واقعی کمال کا دماغ رکھتا ہے!
@soulat_pasha بالکل اسی طرح ولیم بٹلر ییٹس (W. B. Yeats) کے ہاں Swan حسن، وقار اور روحانی تبدیلی کی علامت ہے، مایا اینجلو (Maya Angelou) کے ہاں Caged Bird آزادی کی خواہش اور نسلی جبر کے خلاف آواز بن جاتا ہے، جبکہ عطار نیشاپوری کی منطق الطیر میں سیمرغ حقیقت، معرفت اور روحانی کمال کی علامت ہے۔
بہت سے شعرا نے اپنی شاعری میں مختلف پرندوں کو symbol کے طور پہ استعمال کیا ہے۔
اقبال کا شاہین، کالرج کا الباٹروس۔ جون کیٹس نے اپنی شاعری میں nightingale کا استعمال کیا ہے کہ جس کے مطابق انسان مر جاتے ہیں، حسن ماند پڑ جاتا ہے لیکن نغمہ باقی رہتا ہے۔
شیلے نے Skylark کو انسانی تقدیر کے symbol کے طور پہ استعمال کیا ہے۔ Poe نے Raven کالے کوے کو غم اور موت کا aymbol بنایا ہے۔ Ted نےطاقت اور حاکمیت کے لیے Hawk کو استعارہ بنایا ہے۔ فیض احمد فیض میں آزادی سے محبت کے لیے قفس کا ذکر ملتا ہے۔
📝 📖
منقول
ایک مرتبہ ایک مقامی کوچ میں ایک بدمعاش ٹائپ آدمی نے مقررہ کرایہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کنڈیکٹر کا گریبان پکڑ لیا۔ بات رفع دفع ہوئی تو کلینر اٹھ کر آگیا۔ وہ لوک دانائی سے بھرپور پنجابی تھا اور وہ چلتی بس میں چھت پر ہاتھ ٹکا کر مسافروں کو دیکھتے ہوئے پنجابی میں کہنے لگا:
آپ کی کمائی جتنی بھی ہے بھلے ایک روپیہ افورڈ کر سکتے مگر ہر مہینہ لازمی صدقہ کیا کیجئے اور کچھ نہی تو مٹھی بھر دانہ ہی پرندوں کو ڈال دیں ٹھنڈا پانی چھت پر رکھ دیں مگر صدقہ لازمی کریں اس سے رذق بھی بڑھتا اور بلائیں بھی ٹل جاتی ہیں
لازمی دیا کریں
جناب فضہ... خاموش محافظ
وہ صرف نام کی خادمہ نہیں تھیں
وہ تو فاطمہؑ کے گھر کے
اُن رازوں کی امین تھیں... جو صدیوں تک محفوظ رہے۔
جب مدینے سے سفر شروع ہوا
تو انہوں نے صرف ساتھ نہیں نبھایا
انہوں نے ایک ذمہ داری اٹھائی تھی۔
کربلا کی اُس دوپہر
جب خیموں سے دھواں اُٹھ رہا تھا
اور قافلہ لُٹ رہا تھا
تب فضہ نے کیا کیا؟
وہ تلوار تو نہ چلا سکیں
مگر انہوں نے زینبؑ کے ٹوٹتے ہوئے حوصلوں کو
اپنے بازوؤں کا سہارا دیا تھا۔
وہ جو خیموں کی راکھ میں...
بچوں کے بکھرے ہوئے آنسو چُن رہی تھیں
وہ فضہ تھی۔
کوفے کے بازار ہوں یا شام کا دربار
جب زینبؑ خطبہ دے رہی تھیں
تو فضہ ایک ستون بن کر
پردے کے پیچھے کھڑی تھی۔
وہ اس خاموش دیوار کی مانند تھیں،
جس پر زینبؑ کا ہر غم
ایک گہری لکیر کی طرح کندہ ہوتا گیا۔
دنیا تاریخ میں شہیدوں کو یاد رکھتی ہے۔
مگر وفا کا ایک ایسا کردار بھی ہے
جو کبھی میدان میں نہیں آیا
لیکن جس کے بغیر...
زینبؑ کا صبر شاید اتنا مکمل نہ ہوتا۔
وہ فضہ تھی...
جو کربلا کی ریت سے
شام کے قید خانے تک
صرف اور صرف... 'وفا' کی کہانی بن کر چلتی رہی۔
کن کن بلندیوں کی تمنا تھی عشق میں
طے ہوسکا نہ ایک بھی زینہ تیرے بغیر
تُو آشنائے شدتِ غم ہو تو کچھ کہوں
کِتنا بڑا عذاب ہے جینا تِرے بغیر ۔
باقی احمد پوری
کسی نے ساحر لدھیانوی سے کہا کہ تمھاری شاعری محض نوجوانوں کے لیے پرکشش ہے بندہ تھوڑا سمجھدار ہوتا ہے تو اسے یہ کوئی خاص نہیں لگتی۔ تمھاری شاعری کی عمر کم ہوگی۔
ساحر نے کہا کہ جتنے لوگ پختہ عمر کو عمر کو پہنچتے ہیں اس سے زیادہ نئے نوجوان آجاتے ہیں اس لیے میری شاعری کے معدوم یا غیر متعلق ہونے کا کوئی خطرہ نہیں۔
سامعین اور گاہکوں کا بھی کچھ اسی قسم کا سلسلہ ہوتا ہے۔
جتنے لوگ ایک مداری کے تماشے سے اکتا کر چلے جاتے ہیں اس سے زیادہ نئے آجاتے ہیں۔
قصے کہانیاں پرانی ہو جائیں تو نئے مداری نئی پیکنگ میں پرانا مال ہی بیچتے ہیں۔ لیکن ان کا ہدف نوجوان ہوتے ہیں جو پہلی دفعہ میلے میں آئے ہوتے ہیں اور ان کے لیے ہر چیز نئی ہوتی ہے۔ اور وہ پہلی دفعہ اسے دیکھ کر رنگ رہ جاتے ہیں۔
چیزیں گرتی گئیں رستے میں پھٹے تھیلے سے
چور غفلت میں ٹھکانے کا پتا چھوڑ گیا
واپس آنے کی تسلی دی نہ سینے سے لگا
کوئی جاتے ہوئے دروازہ کھلا چھوڑ گیا
نادر عریض