سبحان الله عدد ما خلق ، وسبحان الله ملء ما خلق ، وسبحان الله عدد ما في السماوات والأرض ، وسبحان الله ملء ما في السماوات والأرض ، وسبحان الله عدد ما أحصى كتابه ، وسبحان الله ملء ما أحصى كتابه ، وسبحان الله عدد كل شيء ، وسبحان الله ملء كل شيء
حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ‘‘اور میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سنا ہے کہ جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے ) دیکھیں اور اسے (ظلم سے) نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو عذاب میں مبتلاء کر دے۔( ترمذی، کتاب الفتن، باب ما جاء فی نزول العذاب اذا لم یغیّر المنکر، ۴ / ۶۹، الحدیث: ۲۱۷۵)
ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’اے لوگو تم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان’’عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ‘‘ کو پڑھ کر دھوکے میں مبتلا نہ ہو جانا کہ تم میں سے کوئی کہنے لگے ’’میں تو بس اپنی جان کی فکر کروں گا‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ورنہ تم پر تمہارے شریر لوگ حکمران بن جائیں گے جو تمہیں بڑی سخت تکلیفیں پہنچائیں گے، پھر تمہارے نیک لوگ دعا کریں گے بھی توان کی دعا قبول نہ کی جائے گی۔( کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الافعال، الامر بامعروف والنہی عن المنکر، ۲ / ۲۷۱، الجزء الثالث، الحدیث: ۸۴۴۲، تفسیر طبری، المائدۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۵ / ۹۸-۹۹)