آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی متفقہ منظوری کے بعد APC قرارداد کو واضح جمہوری تائید حاصل ہو چکی ہے۔ اب ضرورت محاذ آرائی کی نہیں بلکہ عملدرآمد، مکالمے اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینے کی ہے۔
گرو آریا کے اعتراف نے آزاد کشمیر میں بھارتی مداخلت کی ایک اور پرکھ اٹھا دی ہے۔ جب وہ خود کہتے ہیں کہ کچھ گروپ ان کے ساتھ کھڑے ہیں، تو یہ JAAC کی محاذ آرائی کو سوالیہ نشان بنا دیتا ہے۔ کشمیری عوام امن چاہتے ہیں، بیرونی ایجنڈے نہیں۔
گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک تاریخی جمہوری سنگِ میل ہے۔ اختیار دوبارہ عوام تک منتقل ہو رہا ہے، جس سے مقامی سطح پر فیصلہ سازی، ترقیاتی عمل اور عوامی خدمات میں شہریوں کی براہِ راست شمولیت ممکن ہوگی۔
بھارتی پروپیگنڈا مشین ایک بار پھر غیر مصدقہ آڈیو کلپ کے ذریعے بیانیہ گھڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نہ کوئی معتبر تصدیق، نہ آزادانہ جانچ، نہ کوئی قابلِ اعتماد ثبوت۔ حقائق ثبوت سے ثابت ہوتے ہیں، پروپیگنڈے سے نہیں۔
مظفرآباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی توثیق کی، بھارتی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی، اور آزاد کشمیر میں جمہوری تسلسل، ادارہ جاتی استحکام اور مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد پر زور دیا۔ اجلاس نے بات چیت، برداشت اور پرامن سیاسی عمل کو بھی اہم قرار دیا۔
JAAC کی جانب سے APC میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے نے AJK کی سیاسی فضا میں بحث کو جنم دیا ہے۔ کچھ لوگ اسے سیاسی ڈیڈلاک سمجھ رہے ہیں جبکہ دیگر فریقین کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
نئی دہلی میں احتجاج کی کال نے ایک بار پھر بھارت کے نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی کو نمایاں کر دیا ہے۔ بے روزگاری، معاشی دباؤ اور سیاسی معاملات پر بڑھتی ہوئی بحث کے درمیان نوجوان اپنی آواز بلند کرتے ہوئے حکومت سے زیادہ جوابدہی اور مؤثر پالیسیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یورپی یونین اور پاکستان کے مشترکہ اعلامیے پر بھارت کا سخت ردعمل اس کے روایتی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا معاملہ اب بھی بین الاقوامی سفارتی گفتگو کا حصہ بنتا رہتا ہے۔ عالمی فورمز پر اس کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ مسئلہ آج بھی توجہ کا مرکز ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار محترمہ تبندہ کوکب کی 3 جون کو مظفرآباد آمد متوقع ہے۔ جہاں وہ بھارتی سپورٹڈ احتجاج کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے گی۔۔۔ کشمیری ہوشیار رہے۔
جب میڈیا سوال اٹھانے کے بجائے صرف ایک ہی بیانیہ دہرانے لگے، تو سچ کمزور اور طاقتور مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ صحافت اگر جانبداری میں بدل جائے تو عوام کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے اور معاشرہ تقسیم کی طرف چلا جاتا ہے۔
2026 کی ایک بین الاقوامی ماہرین کی رپورٹ نے آسام اور اتر پردیش میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مبینہ سلوک پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ میں امتیازی پالیسیوں، بے دخلیوں، نفرت انگیز بیانات اور ریاستی اقدامات کے اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید احتساب اور عالمی توجہ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
علاقائی سفارت کاری میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے جنوبی ایشیا میں طاقت اور اثر و رسوخ سے متعلق کئی پرانے بیانیوں کو چیلنج کر دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی باتیں کی جاتی تھیں، مگر آج اسلام آباد اہم سفارتی معاملات میں زیادہ نمایاں نظر آ رہا ہے۔
حد بندی (Delimitation) کے مجوزہ عمل نے بھارت میں شمال اور جنوب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو نمایاں کر دیا ہے۔ جنوبی ریاستوں کا مؤقف ہے کہ آبادی پر قابو پانے، تعلیم اور معاشی ترقی میں کامیابی کی سزا ان کی سیاسی نمائندگی کم کرکے نہیں دی جانی چاہیے۔ وفاقی توازن اور منصفانہ نمائندگی کے سوالات پہلے سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں۔
چابہار بندرگاہ کبھی بھارت کی علاقائی حکمتِ عملی اور اسٹریٹجک خودمختاری کی علامت سمجھی جاتی تھی، مگر بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال نے اس منصوبے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ناقدین کے مطابق نئی دہلی کا توازن برقرار رکھنے کا دعویٰ کمزور پڑتا جا رہا ہے جبکہ اہم شراکت دار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
۱۹ مئی ۲۰۲۶ بی جے پی کی زیرقیادت جموں انتظامیہ نے قبائلی گجر خاندانوں کے ۵۰ سالہ مکانات منہدم کر دیے۔ نہ کوئی نوٹس، نہ بحالی۔ سپریم کورٹ نے اسے "بے قانون اور بے رحم" قرار دیا۔ ایک سال میں ۱,۰۷,۴۹۹ مکانات تباہ اقلیتوں کے خلاف یہ جاری صفائی کا نام ہے۔
یو جی سی کی 2026 ایکویٹی گائیڈ لائنز پر جاری تنازع نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ بھارتی جامعات میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز سے نمٹنے کے لیے موجود اقدامات کتنے مؤثر ہیں۔ ناقدین کے مطابق کمزور تحفظات سے پسماندہ طبقات کے طلبہ مزید غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔
مئی ۲۰۲۶ کے بیجنگ سربراہی اجلاس میں ٹرمپ اور شی جن پھنگ نے آبنائے ہرمز پر ایران کے ٹیکس کو مسترد کرنے کا تاریخی معاہدہ کیا۔ یہ فیصلہ بین الاقوامی قانون اور توانائی کی سلامتی کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ایک نادر قدم ہے۔
صلاح الدین شعیب چودھری , جعلی نیوز کا تاجر، مجرم اور بی جے پی کا پروپیگنڈا ہتھیار۔ اس کی پیشگی فلائٹ پلان لیک کرنے سے لے کر بی این پی اور انڈین اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ بنانے تک، ہر حرکت اس کی منصوبہ بند ایجنڈے کو بے نقاب کرتی ہے۔
بنگال کی پہچان ہمیشہ ثقافتی تنوع، ہم آہنگی اور مشترکہ روایات رہی ہے۔ اگر سیاست، شناخت اور ثقافت کو تقسیم کی بنیاد بنایا جائے تو اس سے معاشرتی دراڑیں مزید گہری ہو سکتی ہیں۔