ایک بار پھر ہمیں کیمپین شروع کرنی ہو گی ان جیسے منافقوں کے خلاف ۔۔۔۔۔
انکو کسی قسم کا بھی کمنٹ نہ کریں بلکہ سیدھا بلاک کریں میوٹ کریں ۔۔۔۔۔ یہ اپنی موت خود ہی مر جائیں گے ۔۔۔۔ ہمارے کمنٹس کی وجہ سے انکو ریچ ملتی ہے ۔۔۔۔۔
بحیثیت مسلمان ایک ٹینشن ہے
اگر دو مسلمان ممالک آپس میں لڑ پڑیں
تو ہمیں اللہ کے فیصلے کا کیسے پتہ چلے گا کہ
کس ملک کے فوجی شہید ہونگے اور کس کے ہلاک۔
کوئی مفتی یا صاحب علم
قرآن و حدیث سے بتائیں گے؟
@iqrarulhassan ملک کو بنانےوالے کی تصویریں عین 14 اگست والے دن ہر جگہ سے غائب دیکھی ان کی جگہ پتہ نہیں کون للو پنجوں کو کھڑا کر دیا گیا تھا اپ جس چیز کو اپ ہوا دے رہے ہیں وہ بےمعنی اور پلز crop کر کے جھوٹ پھیلانا بند کریں اپ پھر بھی خان کی جوتی کے برابر بھی نہیں ہوں گے
ہاں مجھے اس لڑکی کے بارے میں بھی لکھنا چاہیے تھا۔
نام ہے گریٹا تھن برگ، عمر بائیس سال، سویڈن جیسے خوبصورت ملک کی رہنے والی مگر اپنے کام میں نامور اور مقبول ایسی کہ اب ٹکر دے رہی ہے صدر ٹرمپ کو، نوبیل انعام پانے کے سلسلے میں۔
جس فلوٹیلا نے غـزہ کی محبت میں ستم اور سفاکی کو دنیا بھر میں ننگا اور رسوا کر دیا، اس کے پیچھے اصلاً جہد و جدوجہد اسی لڑکی کی ہے۔
یہ لڑکی عرب نہ مسلمان مگر غـزہ کا درد اس کے دل میں یوں سرکش ضد بن چکا ہے جیسے ماں کے دل میں اپنے بچے کا درد۔
جس کے لیے وہ اپنا آرام اور اپنا آپ بھی داؤ پر لگا سکتی ہے۔
پچھلی بار یہ فریڈم فلوٹیلا لے کر آئی تو اسے جیل میں پھینک دیا گیا اور پھر ملک بدر کر دیا گیا،
اسے سختی سے سنگینوں کے سائے میں دھمکایا گیا کہ اب کے ادھر کا رخ کیا تو جان سے بھی جا سکتی ہو۔
یہ باز رہنے والی کب تھی؟
یہ پھر آئی اور اب کے اس کے ساتھ چالیس ملکوں کے نامور بندے اور جھنڈے تھے۔
سب کے سب غـزہ کے درد آشنا، سب کے سب انسانیت کے نام پر انسانوں سے بلکتے بچوں اور دس لاکھ بھوکے انسانوں کے لیے درد کی بھیک مانگنے والے۔
فلوٹیلا پکڑا گیا، یہ بھی پکڑی گئی۔
اسے ستم و سفاکی کا خصوصی ہدف بنا لیا گیا۔
اس کی نیلی آنکھوں میں خوف منجمد کرنے کیلئے اس کے سنہرے بال نوچے گئے،
اس کا سویڈن میں پلا گداز ریشمی جسم سیاہ تارکول کی تپتی سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔
اس کے بدن پر بے رحم تشدد توڑا گیا۔
اس کے چہرے پر اسـرائـیلی جھنڈا ڈال کے اسے چومنے کو کہا گیا۔
یہ نازک لڑکی مگر ڈٹی رہی، اپنے عزم بالجزم پر۔
کیسی انوکھی لڑکی ہے۔ ہے نا؟
جس عمر میں لڑکیوں کو میک اپ کی مسحور کن خوشبوئیں، تتلیوں اور جگنوؤں کی خوش رنگ اڑانیں، البیلی زندگی کے حسیں خواب آنکھیں کھولنے نہیں دیتے —
یہ اسـرائـیل کی سڑکوں پر اپنے بال کھنچواتی اور اپنے سنہرے بدن پر خونی خراشیں ڈلواتی پھر رہی ہے۔
بھلا کن کے لیے؟
ان کے لیے جن سے اس کا نہ کوئی خون کا رشتہ ہے، نہ رنگ کا، نہ مذہب کا تعلق، نہ وطن کا، نہ نسل کا رشتہ ہے، نہ زبان کا۔
رشتہ ہے تو صرف ایک — انسانیت کے درد کا رشتہ۔
جن کے سارے رشتے ہیں، ان میں سے کچھ اس پر ہنستے ہیں اور کہتے ہیں یہ فلوٹیلا تو بس ایک سازش ہے،
مگر ان سب سے بے نیاز یہ آتی ہے اور بدن و ذہن پر خراشیں لے جاتی ہے۔
اٹھا کے پھینک دی جاتی ہے تو اگلی بار زیادہ قوت سے لوٹ آتی ہے۔
سوچتا ہوں — جذبے بھی کتنے ناقابلِ تسخیر ہوتے ہیں۔
یہ معصوم سی لڑکی اسـرائـیل کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گئی ہے،
اور اپنے جذبے سے یہ اب ٹرمپ کے مقابل آ گئی ہے۔
بات اب یہ ہو رہی ہے کہ نوبیل انعام اس بار ٹرمپ کو ملنا چاہیے یا اس نازک بدن میں فولادی عزم کی حامل لڑکی کو؟
میں بہرحال اس لڑکی کا شکر گزار ہوں، میری روح اس کی ممنون ہے۔
جب میرے اہل غـزہ کو میرے اپنوں نے چھوڑ دیا تھا تو یہ لڑکی — جو میری اور ان کی کچھ نہ لگتی تھی —
یہ سمندر کے پرصعوبت سفر پر نکل آتی تھی،
تاکہ اہل غـزہ کو بتا سکے کہ ان کا درد بالکل بھی رائیگاں نہیں جا رہا۔
اس دھرتی پر کچھ نازک دل اور ریشم بدن تتلیاں ان کے درد کو محسوس کر رہی ہیں۔
کچھ دل ان کے لیے بہت غمگین بھی ہیں،
ان کے زخم اور فاقے کچھ روحوں میں نیزوں کی طرح لگتے بھی ہیں۔
Greta Thunberg
تیرا شکریہ۔۔ میری طرف سے اور مسلم دنیا کی طرف سے،
عالم عرب کی طرف سے اور عالم عجم کی طرف سے،
ہمارے تیل کی طرف سے اور ہمارے ایٹم کی طرف سے،
ہماری افواج کی طرف سے اور ہمارے میزائلوں کی طرف سے،
ہماری پگڑیوں کی طرف سے اور ہمارے آنچلوں کی طرف سے۔
تیرا شکریہ
بہت شکریہ
منقول
نبی المحترم کے ساتھ بھی کچھ لوگ تھے جن کی منافقت پر پھر اللہ رب العزت نے آیات اتاری تھین.. تو گروہ میں منافقین کی شمولیت تو ہو ہی جاتی اس سے استاد کی اہمیت نہیں کم ہوتیسٹر پھٹیچکو
#گولی_کیوں_چلائی سے نظر ہٹانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے کتے کا خوب استعمال کیا جا رہا 😁
پوری قوم سوال کر رہی ہے کہ اقرار یہ سوال کیوں نہیں کر رہا کہ #گولی_کیوں_چلائی
@iqrarulhassan ادھر ملک لاوارث ہو گیا عوام لاوارث ہو گئ لاشیں لاوارث ہو گئ زخمی لاوارث ہو گئے چادر چار دیواری ماں بہنیں لاوارث ہو گئ اور یہ جھنڈے کی بات کر رہے ویسے سنا ہے اجکل کالجوں پر ایک محترم خاتون کا جھنڈا پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ لگا ہوتا ہے ۔۔کچھ لوگوں کی عادت ہوتی پھپے کٹنی بننے کی
مسجد نبوی میں بچے کھیلیں یا شور مجائیں تو انہیں کوئی نہیں روکتا ۔۔۔ پاکستان کا ایک فوجی افسر عمرہ کرنے کیلئے ایک مہینے کی چھٹی پر یہاں آیا تھا۔ مسجد نبوی میں اس نے دیکھا کہ بچے شور مچا رہے ہیں۔ اسے بے حد غصہ آیا، کہنے لگا، "یہ سراسر بے ادبی ہے"۔ اس نے بچوں کو ڈانٹا۔ اس پر اس کے ساتھی نے جو مدینہ منورہ کی ڈسپنسری کا ڈاکٹر تھا۔ اس کو منع کیا کہ بچوں کو نہ دانٹے۔ افسر نظم و نسق کا متوالہ تھا۔ اس نے ڈاکٹر کی سنی ان سنی کردی۔ رات کو اس موضوع پر دونوں میں بحث چھڑ گئی۔ ڈاکٹر نے کہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم یہ پسند نہیں کرتے کہ بچوں کو ڈانٹا جائے"۔
"اسی رات افسر نے خواب دیکھا۔ حضور اعلیٰ صلی اللہ علیہ و سلم خود تشریف لائے، خشمگیں لہجے مین فرمایا، "اگر آپ مسجد مین بچوں کی موجودگی پسند نہیں کرتے تو مدینہ سے چلے جائیے""۔
اگلے روز پاکستان کے فوجی ہیڈ کوارٹرز سے ایک تار موصول ہوا جس مین اس افسر کی چھٹی منسوخ کر دی گئی تھی اور اسے فورا” ڈیوٹی پر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔
"آپ کو اس واقعہ کا کیسے پتہ چلا"؟ میں نے قدرت سے پوچھا۔
"مجھے ڈسپنسری کے ڈاکٹر نے بتایا جس کے پاس وہ افسر ٹھہرا ہوا تھا"۔
(ممتاز مفتی)
نیچے دی گئی تصویر ترکی استنبول کی ایک مسجد کی ہے جس میں دیکھ سکتے ہیں کے مسجد کی کارنر میں ایک بچوں کے کھیلنے کے واسطے پلے لینڈ بنایا ہوا ہے۔۔ترک کہتے ہیں کے پہلے بچوں کو مسجد کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرو خواہ وہ کھیلنے کی لالچ میں ہی کیوں نا آئیں۔۔آھستہ آھستہ وہ خود ہی عبادات اور فرائض کی طرف مائل ہوجائیں گے ۔
#آفاق_سومرو