آپریشن "بنیان المرصوص" کی شاندار کامیابی نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا، جو تاریخ میں عبرت بن کر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا!
ہمارے شیر دل محافظوں نے جرأت، بہادری اور قربانی کی وہ مثال قائم کی، جس پر پوری قوم کا سر فخر سے بلند کردیا اور دشمن کا غرور زمین بوس کر دیا..
#IndiaAttacksTrump
اور پاکستان دنیا کی مہلک ترین جنگ رکوانے میں کامیاب ہو گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتے کے لیے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی
لکھ اوئے مورخ جو ٹرمپ 8 جنگوں میں سیز فائر کروانے کا دعوے دار تھا اس کی جنگ میں سیز فائر کروانے والا ثالث فیلڈ مارشل عاصم منیر ہے
اسرائیل اصل خطرہ پاکستان کو کیوں قرار دیتا ہے
پاکستان نے 1967 اور 1974 کی عرب اسرائیل جنگوں کے دوران نہ صرف عرب ممالک کی بھرپور سفارتی حمایت کی بلکہ پاکستان کی فوج نے اسلام کی فوج ہونے کا حق ادا کر دیا، پاکستان کے ماہر پائلٹس نے اردن اور شام کی فضائی حدود کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل کے طیارے بھی مار گرائے۔
پاکستانی پائلٹ ستار علوی 👇 جس نے 26 اپریل 1974 کو شامی فضائیہ کے ’مگ 21‘ طیارے کے ذریعے اسرائیلی ’میراج‘ طیارے کو مار گرایا تھا
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی میری طرف سے آپ Louis Vuitton کے جوتے پہنیں، اس پر 804 لکھ لیں، Saint Michael کی جیکٹ پہنیں، اس پر بھی 804 لکھ لیں، آپ Bentley کی گاڑی لے کر گھومیں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔
لیکن یہ ضرور بتائیں
رمضان میں صوبائی خزانے سے نکالے گئے 1300 کروڑ روپے کہاں ہیں؟ تیرہ آپریشن کے نام پر نکالے گئے 400 کروڑ روپے میں سے 320 کروڑ روپے کا کوئی ریکارڈ نہیں، وہ کہاں ہیں؟ کیا سیاست آپ کے لیے کاروبار بن گئی ہے؟
جیلوں میں منشیات فروشوں سے ملنا اور انہیں تحفظ دینا، کیا یہی ��پ کا کام رہ گیا ہے؟
اختیار ولی @ikhtiarwali
خواب دیکھنے میں کیا حرج ہے
بھارتی فوج نے اج تک ہر جگہ شکست کھائی اور پھر فلمیں بنا کر فلموں میں ہی جنگ جیت کر دکھائی بھارت فلم میں کشمیر لے سکتا ہے لیکن حقیقت میں ایسی کوشش بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہے، پاک فوج کی بہادری اور بھارتی فوج کے دل میں ان کے خوف کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ 75 سال گزر گئے بھارتی فوج 5 گنا بڑی اور جدید ہونے کے باوجود آزاد کشمیر کا ایک انچ پاکستان سے واپس نا لے سکی،
البتہ جو افغانی بھارتی اکاؤنٹس کے ساتھ ملکر آزاد کشمیر میں بھارتی فوج کے گھسنے کا پراپگنڈہ کر رہے ہیں ان کے 32 کلومیٹر اندر پاک فوج گھس کر بیٹھ گئ ہے وہ اپنا 32 کلومیٹر پہلے واپس لے لیں پھر بھارتی اکاؤنٹس کے ساتھ ملکر آزاد کشمیر پر قبضے کی ٹویٹس کریں
عمران خان فرماتے تھے، سڑکیں اور پُل بنانے سے قوم نہیں بنتی
اس لیے پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں 13 سالہ دور حکومت میں ایک بھی سڑک اور پُل نہیں بنایا
یہ.کمراٹ کے مقام پر دریا کا منظر ہے جس کے اطراف میں کئ گاؤں ہیں ان دیہات میں بسنے والے اس دریا کے اوپر لکڑی کے چند ٹیڑھے میڑھے تختے رکھ کر گزرتے ہیں اکثر ڈوب کر مر جاتے ہیں
اور ڈوبتے ہوے کانوں میں آواز گونجتی ہے قومیں سڑکیں پُل بنانے سے نہیں بنتی چنانچہ وہ اگلے جہان قوم بننے کی امید لئیے رخصت ہو جاتے ہیں
ٹی ٹی پی میں افغان طالبان ہی ہیں جو پاکستان کے دونوں صوبوں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں خود سکیورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملے کر رہے ہیں
بلوچستان سے گرفتار افغان طا��بان رکن کا انکشاف
بلوچستان میں انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے دہشتگرد حبیب اللہ کا تعلق تحریک طالبان افغانستان سے ہے، جو بلوچستان میں ’لالو‘ کے نام سے آپریشن کرتا تھا۔
اس کا بھائی افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں تحریک طالبان پاکستان کا کمانڈر ہے۔ یہ ایک ہائبرڈ نظام ہے، جس میں ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی مشترکہ پلان کے زریعے دہشتگردی کرتے ہیں
ٹی ٹی پی میں افغان طالبان ہی ہیں جو پاکستان کے دونوں صوبوں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں خود سکیورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملے کر رہے ہیں
بلوچستان سے گرفتار افغان طالبان رکن کا انکشاف
بلوچستان میں انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے دہشتگرد حبیب اللہ کا تعلق تحریک طالبان افغانستان سے ہے، جو بلوچستان میں ’لالو‘ کے نام سے آپریشن کرتا تھا۔
اس کا بھائی افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں تحریک طالبان پاکستان کا کمانڈر ہے۔ یہ ایک ہائبرڈ نظام ہے، جس میں ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی مشترکہ پلان کے زریعے دہشتگردی کرتے ہیں
افغان طالبان رجیم، ٹی ٹی پی کے پاکستان میں جہاد(دہشتگردی) کے لیے شمالی افغانستان میں گھر گھر جا کر فنڈز جمع کررہی ہے ،افغان میڈیا
طالبان کے مطابق ٹی ٹی پی پاکستان میں (پاکستانیوں کو قتل کرکے) جہاد کر رہی ہے جبکہ افغان طالبان کی حامی پی ٹی آئی زور دیتی ہے کہ. پاکستان ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن بند کرے اور افغانستان میں کاروائی نا کرے یہ لوگ مجاہد ہیں
پی ٹی آئی اور افغان طالبان اس نقطے پر متفق ہیں کہ ٹی ٹی پی مجاہد ہیں اور جہاد کر رہے ان کا تحفظ اور فنڈنگ لازم ہے تو کیا جن کے خلاف یہ جہاد ہو رہا ہے جن کو قتل کیا جا رہا وہ پاکستانی بچے بوڑھے جوان کافر ہیں؟
اگر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، فتنہ الخوارج کے حملے میں شہید ہونے والے خواتین اور بچوں کے جنازے میں شریک ہوتے تو یہ فتنہ الخوارج کے ظلم و بربریت کو تسلیم کرنے کی جانب پہلا قدم ہوتا اس سے ٹی ٹی پی ناراض ہو سکتی تھی چنانچہ ٹی ٹی پی نے جنھیں ��تل کیاسہیل آفریدی نے ان کے جنازوں میں شرکت نہیں کی
Mark e Haq, الحمد للہ
33 DAYS LEFT
آپ ذرا مئی 2025 میں جا کر حالات کا دوبارہ جائزہ لیں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کا اعلان کر دیا تھا، دنیا سائیڈ پر کھڑی ہو کر تماشا دیکھ رہی تھی ‘ عمران خان جیل میں بغلیں بجا رہے تھے‘ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی نے حملوں کی تیاری شروع کر دی تھی اور بغضیے فوج پر طنز کر رہے تھے
پاک فوج اگر اپنے سے 5 گنا بڑی اور جدید ہتھیاروں سے لیس فوج کو شکست نا دیتی تو آج صورت حال کیا ہوتی
حکومت گزشتہ تین ہفتوں کے دوران عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر کم پڑے اس کے لیے سبسڈی دے رہی ہے
اب اس سبسڈی کو 129 ارب روپے کر دیا گیا ہے
سبسڈی سننے میں آسان ہے لیکن عمل درآمد کرنے میں انتہائی مشکل ہے
سبسڈی دینا (Blanket Subsidy) حکومت کے لیے ایک ایسا "میٹھا زہر" ہے جو عارضی ریلیف تو دیتا ہے مگر ملکی معیشت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ تاہم عوام معیشت کی یہ کلکولیشن سمجھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، انھیں کیا مل رہا وہ اس پہ یقین رکھتی ہے
129 ارب روپے کی سبسڈی کے عمل درآمد میں درج ذیل چار بڑی پیچیدگیاں بھی ہیں:
1. بجٹ کا خسارہ اور آئی ایم ایف (IMF) کا دباؤ
پاکستان کا اپنا خزانہ خالی ہے، اس لیے 129 ارب روپے کی رقم کسی ترقیاتی منصوبے (جیسے سڑکیں، ہسپتال یا سکول) کا بجٹ کاٹ کر نکالی جاتی ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرط ہے کہ حکومت ایسی سبسڈیز نہ دے جو خسارے میں اضافہ کریں، ورنہ اگلی قسط رکنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
2. "ٹارگٹڈ" بمقابلہ "جنرل" سبسڈی کا مسئلہ
حکومت چاہتی ہے کہ ریلیف صرف غریب (موٹر سائیکل سوار) کو ملے، نہ کہ بڑی گاڑیوں والوں کو۔ لیکن اس پر عمل کرنا تکنیکی طور پر بہت مشکل ہے:
پٹرول پمپ پر یہ چیک کرنا کہ کون غریب ہے اور کون امیر، ایک انتظامی ڈراؤنا خواب ہے۔
کارڈ سسٹم کی پیچیدگی: شناختی کارڈ یا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ڈیٹا کے ذریعے سستا پٹرول دینے کے لیے لاکھوں پمپوں پر نئی ٹیکنالوجی لگانا وقت طلب کام ہے۔
3. سمگلنگ اور کالا بازاری (Black Marketing)
جب حکومت سستا پٹرول دیتی ہے، تو خدشہ ہوتا ہے کہ:
لوگ سستا پٹرول خرید کر اسے اسٹاک کر لیں گے یا مہنگے داموں آگے بیچیں گے۔
سرحدی علاقوں سے سستا پٹرول دوسرے ممالک (جیسے افغانستان) سمگل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے پاکستان کا پیسہ ضائع ہوتا ہے۔
4. مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی قیمتیں روزانہ بدل رہی ہیں۔ اگر حکومت ایک قیمت طے کر کے سبسڈی دے دے اور اگلے دن عالمی قیمت مزید بڑھ جائے، تو وہ 129 ارب کا تخمینہ چند دنوں میں 200 ارب تک پہنچ سکتا ہے،
عیب پتی سے ارب پتی
کپتان کا ہونہار کھلاڑی فضل حکیم 2013 میں جب پی ٹی آئی میں اینٹر ہوا تو کنگلا تھا
لیکن پھر عمران خان نے فضل حکیم کو چیئرمین ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی (DDAC) سوات کے طاقتور اور کماؤ عہدہ دیا
جہاں سے فضل حکیم نے ہر ڈیلولپمنٹ کی اینٹ کروڑوں میں لگائی
پھر انھیں وزیر برائے جنگلات، ماحولیات اور وائلڈ لائف بنایا
فضل حکیم نے خیبرپختونخوا کے جنگلات کی قیمتی لکڑی بیچ کر اربوں روپے کمائے
ان چند سالوں کی کمائی سے فضل حکیم نے جو پراپرٹیز بنائیں
اُن میں
متعدد شہروں میں وسیع و عریض لگژری بنگلے سیدو شریف کے علاقے فیض آباد (بلیو ایریا) میں واقع ایک ریستوران "یونیک کچن" (Unique Kitchen) ،ایک بیوریج فیکٹری (ال مکہ بیوریجز)، اور مینگورہ شہر میں تین ریستوران، 24 پلاٹس، اربوں روپے مالیت کی دو کمرشل بلڈنگز، مینگورہ کے پرانے بس ٹرمینل کے قریب پراپرٹی،گولڈ، بینک بیلنس شامل ہے
جب جنگلات بیچے جانے کا سکینڈل اور وڈیوز سامنے آنا شروع ہوئیں، تو جولائی 2024 میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ان سے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کا قلمدان واپس لے کر انہیں اس موجودہ لائیو سٹاک کی وزارت کی ذمہ داری سونپی ۔
فضل حکیم نے نظروں میں آنے کے بعد لوٹ مار تو نا چھوڑی البتہ اپنے بھائیوں اور خاندان کے نام پر پراپرٹی بنانی شروع کر دی تھی
نیب نے صوبائی وزیر فضل حکیم کو پراپرٹی کی مصدقہ دستاویزات کے ساتھ طلب کر لیا ہے۔واضع رہے کہ عمران خان نے نیب پشاور بند کر دیا تھا لیکن وفاق میں نئی حکومت کے آنے کے بعد نیب پشاور کے دروازے کھل گئے
خیبرپختونخوا پی ٹی آئی کا ATM ہے
اور اس ATM کو لوٹنےکے لیے کپتان نے کھلاڑی منتخب کر رکھے ہیں
خطے کا تجارتی حب اب پاکستان
کراچی کے بعد گوادر پورٹ پر بھی تجارتی سرگرمیاں تیز، خصوصی جہاز ایم وی ایچ ایم او لیڈر کی کامیاب برتھنگ، 35 یونٹس ٹرانس شپمنٹ کارگو ہینڈل کر لئیے گئے
گوادر پورٹ کی دلچسپ حقیقت ہے کہ دہائیوں قبل پاکستان کی ملٹری قیادت نے گوادر پورٹ بنانے کی جانب قدم اٹھایا تھا اور ملٹری قیادت نے ہی اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر اپریشنل بنایا